ونود مہرہ: ایک باصلاحیت اور نفیس اداکار
ممبئی ، ونود مہرہ کو ہندی سنیما میں ایک باصلاحیت اور نفیس اداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں اور کردار آج بھی شائقین کے دلوں میں
زندہ ہیں۔ ہندی فلموں کے معروف اداکار ونود مہرا 13 فروری 1945 کو پیدا ہوئےتھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1950 کی دہائی کے میں بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا، جبکہ بطور بالغ اداکار انہوں نے 1971 میں” ایک تھی ریتا” فلم فلمی دنیا میں قدم رکھا۔یہ فلم انگریز ی ڈرامے ”اے گرل کالڈ ریٹا” پر مبنی ایک کامیاب فلم تھی اور اس میں تنوجا ان کی ہیروئن تھیں۔وہ 1970 کی دہائی سے لے کر اپنی وفات 1990 تک 100 سے زائد فلموں میں نظر آئے۔ ونود مہرا فلم “گرو دیو” کے پروڈیوسر اور ہدایت کار بھی تھے، جو ان کی وفات کے تین سال بعد 1993 میں ریلیز ہوئی۔ انہوں نے دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں 100 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ابتدائی فلموں میں وہ ہیرو کے طور پر نظر آئے، جبکہ بعد میں زیادہ تر ملٹی اسٹار فلموں میں سیکنڈ لیڈ یا مضبوط معاون کردار ، جیسے بھائی، دوست، چچا، والد اور پولیس افسر کے کردار ادا کیے ۔ انہوں نے سنیل دت، دھرمیندر، سنجیو کمار، راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی مشہور ہیروئنوں میں ریکھا، موسمی چیٹرجی، یوگیتا بالی، شبانہ اعظمی اور بندیا گوسوامی شامل ہیں۔ ان کی نمایاں فلموں میں ناگن، جانی دشمن، گھر، سورگ نرک، کرتویہ، ساجن بنا سہاگن، جرمانہ، ایک ہی راستہ، یہ کیسا انصاف، سویکار کیا میں نے اور خُدار شامل ہیں۔ انہیں فلم فیئر ایوارڈ میں بہترین معاون اداکار کے لیے انورودھ، امر دیپ، اور بے مثال کے لئے منتخب کیا گیا۔ 1985 میں انہوں نے پنجابی فلم موجاں دبئی دیاں میں مرکزی کردار ادا کیا۔ سال1980 کی دہائی کے اواخر میں ونود مہرہ نے فلم گرو دیو کے ذریعے بطور پروڈیوسر اور ہدایت کار کام شروع کیا، جس میں سری دیوی، رشی کپور اور انیل کپور مرکزی کرداروں میں تھے۔ اکتوبر 1990 میں 45 برس کی عمر میں فلم کی تکمیل سے قبل ہی دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد ازاں ہدایت کار راج سپی نے فلم مکمل کی اور یہ 1993 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی کئی تاخیر کا شکار فلمیں ریلیز ہوئیں اور ان کی یاد میں منسوب کی گئیں۔ونود مہرہ کی بیٹی سونیا مہرہ بھی فلموں میں نظر آ چکی ہیں، جبکہ ان کے بیٹے روہن مہرہ نے 2018 میں نکھل اڈوانی کی فلم بازار سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اداکار ونود مہرہ بھی اپنی صلاحیتوں کے خود مداح یا داعی نہیں رہے۔ یہ خاموش، شائستہ اور ملنسار اداکار اپنی اداکاری یا اپنی پُرآشوب ذاتی زندگی کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ محبت اور شادی کے معاملے میں بدقسمت رہے، انہوں نے دو شادیاں کیں، اس کے بعد کرن مہرہ کے ساتھ ایک پُرسکون ازدواجی زندگی بسر کی۔ دونوں نے تقریباً دو سال ایک ساتھ گزارے اور ان کے دو بچے بھی ہوئے، مگر 1990 میں ان کا اچانک انتقال ہو گیا۔ ونود مہرہ ایک خاموش اور سادہ اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے، جن کی اداکاری کبھی توجہ حاصل کرنے کے لیے شور نہیں مچاتی تھی۔ بدقسمتی سے ونود مہرہ کی ذاتی زندگی اکثر خبروں میں زیادہ رہی، جبکہ ان کی پُرسکون اور پراعتماد اداکاری 1955 سے شروع ہونے والے طویل فلمی سفر میں نمایاں رہی۔ انہوں نے کبھی ہیروئن پر مبنی فلموں میں کام کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔۔ موسمی چیٹرجی اور ونود مہرہ نے ایک ساتھ کئی فلموں میں کام کیا، جن میں شکتی سمنتا کی انوراگ، باسو چٹرجی کی اس پار، مذاق، رفتار، دو جھوٹ اور سب سے بڑا روپیہ شامل ہیں۔ ان میں سے کئی فلمیں موسمی چیٹرجی کے شوہر جینت مکھرجی نے پروڈیوس کی تھیں۔ یہی وہ قربت تھی جو موسمی اور ونود کے درمیان دیکھی جاتی تھی کہ لوگوں نے انہیں حقیقی زندگی کا جوڑا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ مگر موسمی اس افواہ کو سختی سے رد کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ونود مہرا دراصل ان کے شوہر کے زیادہ قریبی دوست تھے، ان کے نہیں۔ سیٹ کے اندر اور باہر وہ اکثر ایک ساتھ وقت گزارتے تھے، اسی لیے لوگوں کی زبانیں چلتی رہیں۔ ونود ایک نہایت سادہ مزاج، بے تکلف اداکار اور فلمی صنعت کے لیے ایک بہترین دوست تھے۔ ان کے ساتھی اداکار آج بھی انہیں بڑی محبت سے یاد کرتے ہیں۔ ہیما مالنی، جنہوں نے ونود کے ساتھ اپنی اہم فلم لال پتھرمیں کام کیا، انہیں “بہت مہذب، نرم دل اور نہایت شائستہ” انسان کے طور پر یاد کرتی ہیں۔ ونود مہرہ ایک بہت جذباتی انسان تھے جو آسانی سے دل ہار بیٹھتے تھے۔ ستر کی دہائی کے آغاز میں جب انہوں نے فلم ایلان اورگھر میں ریکھا کے ساتھ کام کیا تو ان کا تعلق شہرِ گفتگو بن گیا۔ یہاں تک کہا گیا کہ دونوں نے خفیہ طور پر شادی بھی کر لی تھی، لیکن اس شادی کی کبھی کسی نے تصدیق نہیں کی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ونود مہرا کی زندگی میں آنے والی خواتین کی کہانیاں اکثر ان کی بطور اداکار کامیابیوں پر حاوی رہیں۔ ستر اور اسی کی دہائی میں متعدد فلموں میں کام کرتے ہوئے ونود مہرا ایک خاموش کامیاب اداکار کے طور پر ابھرے، جو اپنی اداکاری سے فلم میں مضبوط توازن پیدا کرتے تھے۔ راکھِی گلزار، جنہوں نے ہریشکیش مکھرجی کی فلم بے مثال میں ونود کی بیوی کا کردار ادا کیا، اس مثلث میں ونود کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتی ہیں: “اگر ونود مہرا نہ ہوتے تو نہ امیتابھ کی اداکاری اثر کرتی اور نہ ہی میری۔” ونود مہرا واقعی ایک نظر -نہ -آنے والے” اداکار تھے اور یہی ایک عظیم اداکار کی پہچان ہوتی ہے۔ونود مہرہ کا انتال 30 اکتوبر 1990 میں ہوا تھا۔




