دو پین کارڈ معاملہ : الہ آباد ہائی کورٹ سے اعظم خان اور عبداللہ کو ضمانت

، سزا معطل، لیکن سزا یافتہ ہونے پر روک لگانے سے انکار

پریاگ راج، ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے دو پین کارڈ معاملے میں اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے دونوں کی سزا معطل کر دی، تاہم ان کی سزا یافتہ ہونے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر رہنما اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو دو پین کارڈ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزا معطل کر دی ہے۔ تاہم، عدالت نے سزا پر روک لگانے کی درخواست مسترد کر دی۔جسٹس سمیت گوپال کی یک رکنی بنچ نے اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی فوجداری نظرثانی کی عرضیوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ دونوں نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سزا یافتہ ہونے کے فیصلے پر روک لگانے، سزا معطل کرنے اور عبوری ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی۔
اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان کو دو پین کارڈ معاملے میں 17 نومبر 2025 کو سات، سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا سنائے جانے کے بعد اسی دن دونوں کو حراست میں لے کر رام پور ضلع جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دونوں تقریباً 11 ماہ اور 12 دن، یعنی 346 دن سے جیل میں ہیں۔اس فیصلے کے خلاف دونوں نے سیشن کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ 20 اپریل 2026 کو ان کی اپیل مسترد کر دی گئی اور سزا برقرار رکھی گئی۔ اس کے بعد دونوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔دو پین کارڈ معاملے میں اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی عرضیوں پر الہ آباد ہائی کورٹ میں 15 اکتوبر کو سماعت مکمل ہوئی تھی۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔اب عدالت نے ضمانت اور سزا معطل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے، جبکہ سزا یافتہ ہونے کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔
ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے اور سزا معطل ہونے کے باوجود دونوں کی رہائی دیگر زیر التوا مقدمات کی صورت حال پر منحصر ہوگی۔اطلاعات کے مطابق، دونوں کے خلاف دو دیگر مقدمات بھی زیر التوا ہیں۔ اگر ان مقدمات میں پولیس کی جانب سے بی وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا ہے اور رہائی میں کوئی دوسری قانونی رکاوٹ نہیں ہے تو دونوں جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔یہ معاملہ عبداللہ اعظم کے پاس دو پین کارڈ ہونے کے الزامات سے متعلق ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں پین کارڈ پر تاریخ پیدائش الگ الگ درج تھی اور انتخابی نامزدگی سے متعلق دستاویزات میں دوسرے پین کارڈ کا استعمال کیا گیا تھا۔اس معاملے میں نچلی عدالت نے اعظم خان اور عبداللہ اعظم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ دونوں نے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔اعظم خان کو یہ راحت ایسے وقت ملی ہے جب ایک دن قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جوہر یونیورسٹی سے متعلق جائیداد ضبط کی تھی۔ضبط کی گئی جائیدادوں کی سرکاری طور پر بتائی گئی قیمت 426.46 کروڑ روپے ہے، جبکہ موجودہ دور میں ان کی بازار کی قیمت تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔یہ کارروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ، سابق کابینی وزیر اعظم خان اور دیگر افراد کے خلاف جاری تحقیقات کے تحت کی گئی ہے۔

Related Articles