بنگلہ دیش میں صدی کی بدترین بارشوں کے بعد سیلاب سے درجنوں ہلاکتیں، 40 لاکھ افراد بے گھر

ڈھاکا،جون۔بنگلہ دیش کے شمال مشرق حصے میں گذشتہ ایک صدی میں آنے والے بدترین سیلاب میں درجنوں افراد ہلاک اور 40 لاکھ کے قریب بے گھر ہو گئے ہیں۔شمانہ اختر عائشہ کا گھر جو ایک چھوٹے سے ٹیلے پر بنا ہوا ہے، آج کل چاروں طرف پانی سے گھرا ہوا ہے۔ٹین کی چادروں سے بنے اس گھر کی دیواریں تیز بارشوں اور ہواؤں سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔ تیز ہوا کے جھونکوں میں وہ ادھر ادھر جھول رہیں تھیں۔سلہٹ کے علاقے میں ان کا گھر تو ان کی زندگی میں آنے والے بدترین سیلاب میں ڈوبنے سے بچ گیا لیکن ان کے شوہر گویا اور ان کی بہن لبنیٰ نہیں بچ سکیں۔کئی دنوں تک مسلسل بارشوں کی وجہ سے ان کا خاندان گھر میں محصور ہو کر رہ گیا ہے، مگر خوراک اور محفوظ جگہ کی تلاش میں انھوں نے گھر چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔شمانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی ہر چیز کو بہائے لیے جا رہا تھا اور شدید گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں جاری تھیں۔انتہائی بدترین موسم کے باوجود وہ ایک کشتی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں اور جب وہ پانچ اور رشتے داروں کے ساتھ کشتی کے ذریعے کسی محفوظ مقام کی تلاش میں گھر سے نکلیں تو کشتی جسے ان کے شوہر گویا چلا رہے تھے سیلاب کے ایک تیز ریلے میں آ گئی۔انھوں نے بتایا کہ ’ہماری کشتی پانی سے بھر گئی اس کے بعد میں پانی میں گر کر بے ہوش ہو گئی۔‘میری بہن اور میرے شوہر بھی پانی میں گر گئے۔شمانہ کو نہیں معلوم کہ ان کی زندگی کیسے بچی۔ ایک امدادی کشتی نے انھیں اور ان کے ساتھ پانی میں گرنے والے دیگر لوگوں کو ایک گھنٹے بعد پانی سے نکال لیا۔ان کے شوہر گویا اور لبنیٰ کی لاشیں بعد میں ملیں۔بنگلہ دیش میں وسط مئی کے بعد سے آنے والے سیلاب میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر ملک کے شمال مشرقی حصہ میں ہلاک ہو ئے ہیں۔اپنے گھر واپس آنے کے بعد شمانہ کے پاس اپنے شوہر کی ایک پاسپورٹ سائز کی تصویر کے علاوہ کچھ نہیں بچا ہے۔سلہٹ کے علاقے میں سیلاب آنے کے کئی دنوں بعد بھی سینکڑوں دیہات زیر آب ہیں اور ہر طرف تباہی اور بربادی کی داستانیں ہیں۔جب پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوئی تو 50 سالہ خدیجہ بیگم کمپنی گنج ضلع میں اپنے گھر میں ایک چارپائی پر کھڑی تھیں۔خدیجہ جن کے ساتھ بچے ہیں اور جن کے شوہر کا کینسر سے انتقال ہو چکا ہے، کہتی ہیں کہ انھوں نے گھر کے برتن اور کپڑے چارپائی پر جمع کر لیے۔جب پانی کی سطح ان کی کمر سے اونچی ہونے لگی تو انھوں نے اپنے خاندان کے ساتھ ایک کشتی کے ذریعے علاقے سے نکلنے کی کوشش کی۔یہ کشتی بھی آدھے راستے میں الٹ گئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے بچوں اور انھوں نے تیر کر ایک درخت کو پکڑ لیا۔خدیجہ کا خاندان بچ گیا لیکن اور کچھ نہیں بچ سکا۔انھوں نے بڑے دردناک انداز میں کہا کہ وہ اپنے چاول، اپنی بطخ، مرغیاں، بھینس اور بکری کو نہیں بچا پائیں۔ ’سب کچھ ڈوب گیا میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ میری زندگی کے سوا میرا کچھ نہیں بچا۔‘خدیجہ کا خاندان بنگلہ دیش کے ان لاکھوں خاندانوں میں شامل ہے جو کہ حالیہ سیلاب میں بے گھر ہو گئے ہیں۔جنوبی ایشیا کے اس ملک میں بارشیں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم سے پہلے لوگ بارشوں اور سیلاب کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔لیکن اس سال سلہٹ میں گذشتہ ایک صدی کی سب سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔ملک کے سیلاب کی پیش گوئی اور خطرے سے آگاہ کرنے والے مرکز کے مطابق ہر سال سلہٹ میں 840 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔لیکن اس برس جون کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی علاقے میں بارش 1500 ملی میٹر ریکارڈ کی جا چکی تھی۔دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ملک بنگلہ دیش میں شدید موسمی حالات ایک معمول بن جانے کا خطرہ ہے۔ورلڈ بینک کے سنہ 2015 کے تجزیے کے مطابق بنگلہ دیش میں ہر سال 35 لاکھ لوگوں کو دریاؤں میں طغیانی کی وجہ سے خطرہ لاحق رہے گا۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2050 میں بنگلہ دیش کا 17 فیصد علاقہ سمندر کی بلند ہوتی ہوئی سطح کی وجہ سے زیر آب آ جائے گا اور دو کروڑ افراد بے گھر ہو جائیں گے۔حالیہ سیلاب میں بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔بنگلہ دیشی فوج کے لیفٹیننٹ کرنل عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے گھر زیر آب ہیں۔ لوگوں کو خوراک درکار ہے، پانی درکار اور کپڑے درکار ہیں۔لیفٹیننٹ کرنل عبداللہ کمپنی گنج کے علاقوں میں امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ کئی دن تک اپنے گھروں کی چھتوں پر پھنسے رہے اور پھر ان کو محفوظ جگہوں پر پہنچایا گیا۔انھوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں کو ملک کے دور افتادہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔کرنل عبداللہ نے کہا کہ کئی علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کے بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں پہنچ پا رہیں اور اسی وجہ سے امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پا رہیں۔انھوں نے کہا کہ لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے بعد ان کو بیماریوں سے بچانے، خوراک مہیا کرنے اور ان کو اپنے گھروں میں آباد کرنے کے مسائل سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونیسف کے مطابق حالیہ سیلاب سے بنگلہ دیش میں صورت حال بہت تیزی سے خراب ہوئی ہے۔ یونسیف نے عالمی سطح پر امداد کی اپیل جاری کی ہے کیونکہ بنگلہ دیش میں لاکھوں گھرانے پینے کے پانی سمیت دوسری بنیادی ضروریات سے محروم ہو گئے ہیں۔جو گھرانے بے گھر ہو گئے ہیں وہ نہ ختم ہونے والی مصیبت کا سامنا کر رہے ہیں۔رکشا کھینچنے والے بشیر میاں چوہدری اپنا گھر ڈوب جانے کی وجہ سے قریبی مارکیٹ کی چھت پر چڑھ کر اپنی جان بچا پائے۔انھوں نے کہا کہ چاروں طرف تباہی اور مصیبت تھی۔ ’میں اپنے گھر میں رہ نہیں سکتا وہاں کمر تک پانی کھڑا ہے۔ پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ میں اپنے بچوں کے ساتھ زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہوں اور بالکل بے بس ہو گیا ہوں۔‘انھوں نے کہا ’ہم کہاں جائیں گے، صرف اللہ جانتا ہے۔‘

 

Related Articles