ویژن 2047: ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مسلم نوجوانوں کے لیے مواقع
تحریر:اے بی ندوی(اسلامک اسکالر)
15اگست 2026کو ملک نےاپنا80واں یوم آزادی کا جشن دھوم دھام سے منایا ۔یعنی ملک کو آزادی حاصل ہوئے 79سال گزر چکے ہیں۔79سال ایک عام انسان کےلئے اوسطاً سے زیادہ عمر ہے۔اس عرصہ میں ہندوستان نے کئی نسلیں دیکھ لی ہیںاور ملک نے بحیثیت مجموعی کافی ترقی بھی کی ہے لیکن کیا اس ترقی میں ملک کے تمام طبقات شریک ہیں ؟کیا اس ترقی کا فائدہ ملک کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر حاصل ہوا ہے ؟کیا اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت یعنی مسلمان اس ملک کی ترقی میں برادران وطن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جس طرح جنگ آزادی میں انہوں نے کندھے سے کندھا ملاکر جدوجہد کی،قربانیاں دیںاور آنے والی نسلوں کے لئے سنہرے خواب سجائے،ملک کی تعمیروترقی میں رنگ بھرنے کے خواب یکھے اور بطور تعبیر اپنی آنے والی نسلوں کو جدوجہد آزادی کی طرح ہندوستان کی تعمیر وترقی میں حصہ دار بنتے دیکھا۔ظاہر ہے اس کا جو بھی جواب ہو لیکن اس جواب سے ہمارے باپ دادااور مجاہدین آزادی کی روحیں تو ہر گزمطمئن نہیں ہوں گی۔اور کیوں نہیں ہوں گی یہ سوال آج ہمیں خود سے کرنا ہوگا اور اپنا محاسبہ کرنا ہوگاکہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔جب ہندوستان 2047 میں اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے گا تو ملک نے اپنے سامنے ایک ترقی یافتہ، اختراعی اور جامع معاشرے کی تعمیر کا بلند ہدف رکھا ہے۔ یہ وژن صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ معیاری تعلیم، تکنیکی قیادت، پائیدار ترقی، کاروباری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور ہر شہری کے لیے مساوی مواقع پر مشتمل ہے۔ اس قومی مقصد کے حصول کے لیے تمام برادریوں کی شراکت ضروری ہے۔ ہندوستانی مسلم نوجوانوں کے لیے ویژن 2047 صرف ذاتی ترقی کا موقع نہیںبنے گا بلکہ ملک کی اجتماعی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کا بھی ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔آج ہندوستان دنیا کے سب سے نوجوان ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ پینتیس برس سے کم عمر ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور اختراعی سوچ سے آراستہ کیا جائے تو یہی آبادیاتی برتری ترقی کی ایک طاقتور قوت بن سکتی ہے۔ آنے والے عشروں میں علم، تخلیقی صلاحیت اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگی۔ اس لیے تعلیم اور مسلسل سیکھنے میں سرمایہ کاری ہر نوجوان شہری کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہو چکی ہے۔تعلیم ہمیشہ سے سماجی اور معاشی ترقی کی بنیاد رہی ہے۔ اپنی ثقافتی اور مذہبی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کو سائنس، ریاضی، ٹیکنالوجی، تجارت، قانون، طب، عوامی انتظامیہ اور علومِ انسانی جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ جدید معیشتیں کثیر شعبہ جاتی تعلیم، تنقیدی فکر، ابلاغی مہارتوں اور ڈیجیٹل خواندگی کو خاص اہمیت دیتی ہیں۔ اسکول، کالج، جامعات اور فنی تربیتی ادارے نوجوانوں کو مستقبل کے مواقع کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خاندان اور برادریاں بھی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کی طرف راغب کرکے اس عمل کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔ہندوستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت روزگار اور اختراع کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیاں، ای کامرس، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے نے کام کرنے اور کاروبار چلانے کے طریقوں کو بدل دیا ہے۔ ڈیجیٹل مہارت رکھنے والے نوجوان اپنی جغرافیائی حیثیت سے قطع نظر اس بڑھتی ہوئی معیشت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آج ایک چھوٹے شہر کا طالب علم آن لائن پروگرامنگ سیکھ سکتا ہے، بین الاقوامی سطح پر آزادانہ خدمات فراہم کر سکتا ہے یا اپنے گھر سے ہی ایک ڈیجیٹل کاروبار قائم کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے مواقع تک رسائی کی روایتی رکاوٹوں کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔کاروباری صلاحیت (Entrepreneurship) بھی ہندوستان کی ترقی کی راہ کا ایک اہم ستون ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ نوجوان صرف ملازمت تلاش کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بننے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ چھوٹے کاروبار، سماجی ادارے، ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹارٹ اپ اور خاندانی کاروبار سبھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ کاروباری صلاحیت اختراع، خود انحصاری اور مسائل کے حل کی سوچ کو بھی فروغ دیتی ہے۔ حکومتی اقدامات، مالیاتی ادارے، انکیوبیٹرز، مہارتوں کے فروغ کے پروگرام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نئے کاروباری افراد کے لیے مواقع کو وسعت دے رہے ہیں۔ نوجوان مسلمان روایتی کاروباری تجربےاور اپنے آبائی ہنر کو جدید ٹیکنالوجی، مالیاتی آگاہی اور نئے خیالات کے ساتھ جوڑ کر اس نظام میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہندوستان کے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی ترقی ملک میں اختراع کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ آج اسٹارٹ اپ مالیاتی ٹیکنالوجی، صحت، زراعت، تعلیم، لاجسٹکس، قابلِ تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ سمیت متعدد شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ بہت سے کامیاب اداروں کا آغاز سادہ خیالات سے ہوا، جنہیں عزم، ٹیم ورک اور مسلسل سیکھنے کے جذبے نے کامیابی تک پہنچایا۔ نوجوانوں کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ صرف مالی وسائل نہیں بلکہ نئی مہارتیں حاصل کرنے، بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنے اور روزمرہ مسائل کے عملی حل تلاش کرنے کا جذبہ ہے۔مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) آنے والے عشروں میں معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرے گی۔ صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور عوامی خدمات سمیت متعدد شعبوں میں AI نئی امکانات پیدا کر رہی ہے اور موجودہ پیشوں کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ تکنیکی تبدیلی کو غیر یقینی صورتحال کے طور پر دیکھنے کے بجائے نوجوانوں کو ان نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ کام کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ ڈیٹا تجزیہ، پروگرامنگ، مشین لرننگ کی بنیادی سمجھ، سائبر سیکیورٹی اور ذمہ دارانہ AI کے اصول سیکھنا نئے کیریئر کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقی فیصلہ سازی، تخلیقی صلاحیت، مؤثر ابلاغ اور ٹیم ورک جیسی انسانی صلاحیتیں بھی انتہائی اہم رہیں گی، کیونکہ بڑھتی ہوئی خودکاری کے باوجود ان کی اہمیت برقرار رہے گی۔ابھی 15اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی تاریخی فصیل سے قوم کو خطاب کرتے ہوئے جہاں بہت سارے اعلانات کئے وہیں نوجوانوں کو مرکزیت دیتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ایک کروڑ نوجوانوں کو AIاسکل سے آراستہ کیا جائے گا اور انہیں ٹریننگ مہیا کرائی جائے گی ظاہر ہے مسلم نوجوانوں کے لئے بھی یہ ایک سنہرا موقع ہے وہ خود کو اس کے لئے تیار کریں اور حکومت کی اس اسکیم کا حصہ بنیں۔حکومتی سطح پر آج ایسے کئی پلیٹ فارم مہیا ہیں جہاں حکومت مفت میں ہزاروں روپئے کے اے آئی کورس کی ٹریننگ مفت دے رہی ہےاور آنے والے وقت کو دیکھتے ہوئے اس کے امکانات بہت روشن ہیں کہ اے آئی اسکلس سیکھا ہوا نوجوان بے روزگار نا رہ جائے۔اختراع صرف تجربہ گاہوں یا ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں مقامی کاروباروں کو بہتر بنانا، زرعی طریقوں میں بہتری لانا، کم لاگت صحت کی سہولیات تیار کرنا، تعلیمی وسائل پیدا کرنا اور مقامی مسائل کے عملی حل پیش کرنا بھی شامل ہے۔ جو نوجوان اپنے اردگرد کی ضروریات کو سمجھتے ہیں اور ان کے لیے نئے حل تلاش کرتے ہیں، وہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اختراع وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں تجسس، تجربہ اور مسلسل سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔مستقبل کی تیاری کے لیے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی ضروری ہے۔ آنے والے کل کی ملازمتیں آج کی ملازمتوں سے نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے مسلسل سیکھنا، نئی مہارتیں حاصل کرنا اور ڈیجیٹل صلاحیت پیدا کرنا زندگی بھر کی ضرورت بن جائے گا۔ مختصر مدتی سرٹیفکیٹ کورسز، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم، فنی تعلیم اور صنعتوں کے ساتھ شراکت نوجوانوں کو اپنے پورے پیشہ ورانہ سفر میں نئی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ جو لوگ مسلسل سیکھنے کے جذبے کو اپنائیں گے، وہ بدلتی ہوئی معیشت میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوں گے۔ویژن 2047 فعال سماجی قیادت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ آج قیادت صرف کسی عہدے پر فائز ہونے کا نام نہیں بلکہ مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت کا نام ہے۔ اساتذہ، ڈاکٹر، کاروباری افراد، سماجی کارکن، علماء، پیشہ ور افراد اور رضاکار سب اپنے اپنے انداز میں سماجی قیادت انجام دیتے ہیں۔ نوجوان شہری تعلیم کے فروغ، مہارتوں کی ترقی، بچیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی، ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شرکت، کم عمر طلبہ کی رہنمائی اور تعمیری شہری شرکت کو فروغ دے کر اپنی برادری کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ہندوستان کا تنوع اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، روایات اور علاقائی شناختیں آئین کے تحت متحد رہتے ہوئے ملک کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ اسی لیے ویژن 2047 جامع ترقی پر مبنی ہے، جہاں ہر برادری اپنی صلاحیت اور امنگوں کے مطابق قومی ترقی میں حصہ ڈالتی ہے۔ جب ہر شہری کو اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے اور وہ دوسروں کے حقوق اور وقار کا احترام کرتا ہے تو قومی ترقی مزید مضبوط ہوتی ہے۔اس لئے مسلم نوجوانوں کو بدلتی ہوئی ضروریات کے تحت جدید ٹکنالوجی سے خود کو آراستہ کرنے کے لئے اورخود کو ایک قومی جامع منصوبے سےوابستہ کرنے اورویژن2047 کا حصہ بننے کے لئےاسے ایک گولڈن موقع کے طور پر دیکھنا چاہئے۔




