فلسطینیوں کا غزہ سے انخلا ہی مسئلے کا واحد حل : اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کا غزہ سے انخلا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کو اس علاقے سے ہٹائے بغیر غزہ کے مسئلے کا حقیقی حل ممکن نہیں ہوگا۔ اسرائیل اب بھی اس سمت مسلسل کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف اس منصوبے کو روک رکھا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اس منصوبے کو نسلی صفایا (کسی مخصوص نسل یا برادری کے لوگوں کو علاقے سے نکالنے یا ختم کرنے کی کارروائی) قرار دیتے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، کاٹز نے بدھ کے روز اسرائیل کی نیوز ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کے ایک اجلاس میں غزہ کے مسئلے پر کھل کر بات کی۔ کاٹز نے کہا، ’’اگر فلسطینی غزہ سے چلے جائیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے آغاز میں اسرائیل کے اس خیال کی حمایت کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار یہاں تک کہا تھا کہ فلسطینیوں کو ہٹائے جانے کے بعد امریکہ اس علاقے پر قبضہ کر لے گا اور اس زمین کا مالک بن جائے گا۔کاٹز نے کہا کہ اسرائیل غزہ پر ہر طریقے سے قبضہ کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن مصر فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بے گھر فلسطینیوں کو قبول کرنے والے دیگر ممالک کو امریکی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن نے اس تجویز کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’فی الحال ٹرمپ نے اسے منسوخ نہیں کیا ہے، بلکہ اسے ملتوی کیا ہے۔‘‘ کاٹز نے کہا کہ اس معاملے پر ان کے ساتھ مسلسل بات چیت ہو رہی ہے۔ کاٹز نے کہا کہ یہ سب کے لیے بہتر ہوگا۔ اس مہم میں امریکہ کی ضرورت پڑے گی۔ قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں امریکہ نے اسرائیل کو تقریباً 25 ارب ڈالر کی فوجی امداد دی ہے۔ اس نے بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل کا دفاع کیا ہے۔ اس میں غزہ میں ہونے والے مظالم کی تحقیقات کرنے والے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حکام پر پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔




