پیاز اور چینی کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ دہلی والوں پر نہیں پڑنے دیں گے: ریکھا گپتا

نئی دہلی، 25 اگستدہلی میں پیاز اور چینی کی دستیابی اور ان کی قیمتوں کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں منگل کو ایک جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فی الحال دارالحکومت میں پیاز اور چینی کی کوئی قلت نہیں ہے، تاہم اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو دہلی حکومت عوام پر اس کا اضافی بوجھ نہیں پڑنے دے گی۔

ایسی صورتِ حال میں دہلی حکومت مرکزی حکومت کے ادارے نیفیڈ سے پیاز اور چینی خرید کر دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں دستیاب کرائے گی۔ ان اشیا کی فروخت نیفیڈ سے حاصل شدہ قیمت کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ نقل و حمل سمیت دیگر اخراجات دہلی حکومت برداشت کرے گی۔ اجلاس میں خوراک و رسد کے وزیر سردار منجندر سنگھ سرسا سمیت محکمہ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے پیاز اور چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشے کے پیش نظر محکمہ کو ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے تحت دہلی کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگا کر عوام کو سستے داموں پیاز فراہم کرنے کے انتظامات پر بھی غور کیا گیا۔انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مرکزی حکومت کے ادارے نیفیڈ سے پیاز حاصل کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھی ان ریاستوں اور علاقوں میں پیاز پہنچانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جہاں اس کی کمی ہے۔ دہلی کو فراہم کی جانے والی پیاز مناسب طریقے سے بازار تک پہنچے اور اس کی ذخیرہ اندوزی نہ ہو، اس کے لیے نگرانی اور ضروری کارروائی کی تیاری کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔خوراک و رسد کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ اگر بازار میں پیاز کی قیمت مزید بڑھتی ہے تو اس کا بوجھ دہلی کے عوام پر نہیں پڑنے دیا جائے گا۔ نیفیڈ سے جس قیمت پر پیاز دستیاب ہوگی، اسی بنیاد پر اسے عوام کو فروخت کیا جائے گا۔ نقل و حمل سمیت دیگر متعلقہ اخراجات دہلی حکومت برداشت کرے گی اور کسی بھی صورت میں عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

وزیرِ خوراک و رسد نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے چینی کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے مقدار سے متعلق ضوابط مقرر کیے ہیں۔ دہلی حکومت بھی ان ضوابط کے تحت کارروائی کرے گی۔ اگر کہیں مقررہ حد سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے یا اس کی ذخیرہ اندوزی کا معاملہ سامنے آیا تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔محکمہ کو یہ بھی معلوم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ چینی کس طرح وافر مقدار میں دستیاب کرائی جا سکتی ہے اور اسے عوام تک سستے داموں کیسے پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بھی ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کو کہا گیا ہے۔

Related Articles