ایران اب اپنے اتحادی گروہوں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن،
امریکی محکمہ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی اپنے اتحادی اور پراکسی گروہوں تک مالی امداد اور رسد پہنچانے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، تہران کے پاس اب نہ تو ان گروہوں کی مدد کے لیے مطلوبہ مالی وسائل ہیں اور نہ ہی انہیں منتقل کرنے کی سابقہ صلاحیت باقی رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی نظام کی جانب سے اپنے اتحادی گروہوں کو رقم اور دیگر ضروری رسد فراہم کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں کی معاونت کے ذرائع کو محدود کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
ٹومی پیگوٹ نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی سمت میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو کے دوران زور دیا کہ لبنان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔امریکی ترجمان کے مطابق، جھڑپوں کی روک تھام کے لیے قائم طریقہ کار واشنگٹن کو لبنان میں زمینی صورت حال پر نظر رکھنے اور معاہدے پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔پیگوٹ کے بیانات میں ایران کی جانب سے اپنے اتحادی گروہوں کی مالی اور رسدی معاونت کی صلاحیت کو محدود کرنے کے امریکی دعوے اور لبنان میں امن کے قیام کی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ایران سے وابستہ گروہوں کی معاونت روکنے کے ساتھ لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا بھی ضروری ہے۔ تاہم، یہ بیانات امریکی حکام کے دعوؤں اور مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔




