جھوٹا قتل کیس: مرکزی ملزم کا گھر اور میڈیکل اسٹور بلڈوز کر دیا گیا
مانسہ، : پنجاب کے مانسہ میں منشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے پرويندر سنگھ جھوٹا کے قتل کے معاملے میں مرکزی ملزم اور میڈیکل اسٹور کے مالک اشونی کمار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسے راجستھان کے سالاسر سے پکڑا گیا۔
اس دوران، ملزم سے جائیدادوں پر بلڈوزر کی کارروائی کی گئی اور میڈیکل اسٹور میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے آگ لگائے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ پروندر سنگھ کے قتل کے بعد مانسہ میں تناؤ کا ماحول ہے۔ واقعے سے ناراض لوگوں اور سکھ تنظیموں نے مظاہرہ کیا اور بازار بند کروائے۔ اہل خانہ نے آخری رسومات ادا نہ کرنے کا موقف اپناتے ہوئے معاملے کی جانچ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے کرانے اور وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گورو یادو کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ موصولہ معلومات کے مطابق، منگل کو میڈیکل اسٹور پر نشہ آور اشیاء کی فروخت کو لے کر ہوئے تنازع کے بعد پرويندر سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ واقعے کے دوران ملزم نے فیس بک پر لائیو براڈکاسٹ بھی کی تھی۔ الزام ہے کہ پرويندر سنگھ نشہ آور اشیاء کی فروخت کی مخالفت کر رہے تھے۔
بدھ کے روز پولیس فورس کی موجودگی میں ملزم کے مکان پر بلڈوزر سے کارروائی کی گئی۔ میڈیکل اسٹور کو بھی توڑے جانے کی اطلاع ہے۔ دکان میں لوگوں نے توڑ پھوڑ کر کے آگ لگا دی ہے۔ جائیداد گرانے کی اس کارروائی کے سرکاری جواز اور متعلقہ احکامات کی تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہو سکیں۔
نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل سے رپورٹ طلب کی ہے۔ دریں اثنا، مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے مانسہ جا رہے سابق وزیر اعلیٰ اور رکن پارلیمنٹ چرنجیت سنگھ چنی، اکالی دل کے رہنما منپریت سنگھ ایالی اور کانگریس کے سابق ایم ایل اے ککی ڈھلوں کو روکے جانے کی اطلاع ہے۔
مسٹر چنی نے پرويندر سنگھ کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے نوجوانوں سے منشیات کے خلاف متحد ہو کر لڑنے اور پنجاب کی نوجوان نسل کو بچانے کی اپیل کی۔ انہوں نے پرويندر سنگھ کے والد کو بھروسہ دلایا کہ خاندان یا مظاہرین کمیٹی کی طرف سے دیے جانے والے ہدایات کے مطابق کانگریس اور پنجابی ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
پندرہ اکتوبر کو پنجاب بند کے اعلان کے پیش نظر مانسہ اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ برنالہ مانسہ روڈ سمیت کچھ سڑکوں پر بھاری بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ سڑک کے کنارے ٹرک اور ٹِپر بھی کھڑے کیے گئے ہیں۔ مسافروں سے ان کے سفر کے مقصد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بس سروسز متاثر ہونے کی اطلاع ہے۔
مظاہرین نے تحریک کے تال میل اور انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ معاملے کی جانچ، اہل خانہ کے مطالبات اور انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے صورتحال پر نظر بنی ہوئی ہے۔




