’سمارٹ‘ نہیں پہلے والے ’سیدھے سادے‘ فونز ہی ٹھیک ہیں

لندن،مارچ۔سترہ سالہ رابن ویسٹ اپنے دوستوں کے گروپ میں بہت منفرد سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس سمارٹ فون نہیں ہے۔سارا دن ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی ایپس پر پھرنے کی بجائے وہ ایک نام نہاد ’ڈمب فون‘ کا استعمال کرتی ہیں۔یہ بنیادی ہینڈ سیٹس، یا فیچر فونز ہیں، جن کا استعمال یا فعالیت آئی فون یا دیگر سمارٹ فونز کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔ آپ ان فونز پر عام طور پر صرف کالز اور ایس ایم ایس ٹیکسٹ میسجز بھیج اور وصول کر سکتے ہیں۔ اور، اگر آپ خوش قسمت ہیں تو ریڈیو سنیں اور بہت بنیادی تصاویر لیں، لیکن ان میں یقینی طور پر انٹرنیٹ یا ایپس نہیں ہیں۔یہ فونز ان پہلے والے ہینڈ سیٹس سے ملتے جلتے ہیں جو لوگ 1990 کی دہائی کے آخر میں خریدا کرتے تھے۔رابن ویسٹ نے دو سال قبل اچانک اپنے سمارٹ فون کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک سیکنڈ ہینڈ شاپ میں متبادل ہینڈ سیٹ کی تلاش کے دوران انھیں ’برک فون‘ (اینٹ کی طرح کے فون) کی کم قیمت نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ان کا موجودہ ہینڈ سیٹ فرانسیسی فرم کا موبی فائر ہے جس کی قیمت صرف آٹھ پاؤنڈ ہے۔ اور چونکہ یہ سمارٹ فون کی طرح کام نہیں کرتا اس لیے انھیں مہنگے ماہانہ ڈیٹا کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ’جب تک میں نے برک فون نہیں خریدا تھا اس وقت تک میں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ ایک سمارٹ فون میری زندگی پر کتنا قبضہ کر رہا ہے۔ اس پر میں نے بہت سی سوشل میڈیا ایپس ڈالی ہوئی تھیں، اور میں نے اتنا کام نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میں ہمیشہ اپنے فون پر ہوتی تھی۔‘لندن کی رہائشی کہتی ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ وہ پھر کبھی سمارٹ فون خریدیں گی۔ ’میں اپنی برک (فون) سے خوش ہوں۔ میں نہیں سمجھتی کہ یہ مجھے محدود کرتا ہے۔ میں یقینی طور پر زیادہ فعال ہوں۔‘سافٹ ویئر فرم سیمرش کے مطابق ’ڈمب فونز‘ مارکیٹ میں واپس آ رہے ہیں۔ سنہ 2018 سے لے کر 2021 تک ان کے بارے میں کی جانے والی گوگل سرچز میں 89 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال ڈمب فونز کی عالمی فروخت جو سنہ 2019 تقریباً چالیس کروڑ تھی اب بڑھ کر ایک ارب تک پہنچنے والی تھی۔ اس کا موازنہ سمارٹ فونز کی ایک ارب چالیس کروڑ کر فروخت سے کیا جاتا ہے جن کی فروخت میں 2020 میں ساڑھ بارہ فیصد کمی آئی تھی۔دریں اثنا، اکاؤنٹنسی گروپ ڈیلوئٹ کے 2021 کے مطالعے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں موبائل فون استعمال کرنے والے 10 میں سے ایک شخص کے پاس ڈمب فون تھا۔قیمتوں کا موازنہ کرنے والی سائٹ یو سوئچ کے موبائل فونز کے ماہر ارنسٹ ڈوکو کہتے ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ فیشن، پرانے زمانے کو یاد کرنے اور پھر ٹک ٹاک ویڈیوز میں نظر آنے نے ڈمب فون کے احیاء￿ میں کردار ادا کیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے پاس اپنے پہلے موبائل فون کے طور پر ایک ڈمب فون ہوا کرتا تھا، لہذا ان کلاسک ہینڈ سیٹس کے بارے میں پرانی یادوں کے متعلق سوچ ہماری فطری ہے۔‘ڈوکو کہتے ہیں کہ نوکیا کے 3310 ہینڈ سیٹ کی 2017 میں دوبارہ لانچ نے واقعی اس کی بحالی کو جنم دیا۔ یہ پہلی بار 2000 میں ریلیز ہوا تھا اور یہ اب تک کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے موبائلز میں سے ایک ہے۔ ’نوکیا نے 3310 کو اعلیٰ قسم کے موبائلوں سے بھری دنیا میں ایک سستے متبادل کے طور پر آگے بڑھایا تھا۔‘انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ جب کارکردگی یا فعالیت کی بات آتی ہے تو ڈمب فونز ایپل اور سام سنگ کے جدید ترین ماڈلز کا مقابلہ نہیں کر سکتے، لیکن ’وہ بیٹری لائف اور پائیداری جیسے اہم شعبوں میں ان کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔‘پانچ سال پہلے ماہر نفسیات پرزیمیک اولیینک زاک نے اپنے سمارٹ فون کو نوکیا 3310 سے تبدیل کیا تھا، ابتدائی طور پر یہ صرف طویل عرصے تک چلنے والی بیٹری کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ تاہم، انھیں جلد ہی احساس ہوا کہ اس کے اور بھی بہت فائدے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے فون سے جڑا رہتا تھا، اور ہر چیز اور سبھی چیزیں چیک کرتا تھا، فیس بک اور نیوز کو دیکھتا یا ان حقائق کو جن کے متعلق جاننے کی مجھے ضرورت نہیں تھی۔‘’اب میرے پاس اپنے لیے اور اپنے خاندان کے لیے زیادہ وقت ہے۔ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ مجھے پسند کرنے، شیئر کرنے اور کمنٹ کرنے یا اپنی زندگی کے متعلق دوسروں کو بتانے کی لت نہیں ہے۔ اب میرے پاس زیادہ پرائیویسی ہے۔‘تاہم، پولینڈ کے شہر لوڈز میں رہنے والے اولیینک تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدائی طور پر یہ سوئچ مشکل تھا۔ ’پہلے میں اپنے سمارٹ فون پر (سفر کے دوران) بسوں اور ریستورانوں جیسی ہر چیز بھی چیک کرتا تھا۔ اب یہ ناممکن ہے، اس لیے میں نے وہ تمام چیزیں گھر پر پہلے ہی کرنا سیکھ لی ہیں۔ مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے۔‘ڈمب فون بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک نیویارک کی کمپنی لائٹ فون ہے۔ لیکن اس فون میں تھوڑی سی تبدیلی کی گئی ہے، ذرا ہوشیاری۔اس کے ہینڈ سیٹ صارفین کو موسیقی اور پوڈ کاسٹ سننے اور بلیو ٹوتھ کے ذریعے ہیڈ فون سے لنک کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ پھر بھی فرم نے وعدہ کیا ہے کہ اس کے فونز میں ’کبھی بھی سوشل میڈیا، کلک بیٹ (مرچ مصالحے والی) نیوز، ای میل، انٹرنیٹ براؤزر، یا کوئی اور پریشانی پیدا کرنے والی لامحدود فیڈ نہیں ہوگی۔‘کمپنی کا کہنا ہے کہ سنہ 2021 مالیاتی کارکردگی کے حساب سے اس کا سب سے مضبوط سال رہا ہے، جس میں 2020 کے مقابلے میں فروخت میں 150 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ اس کے ہینڈ سیٹس ڈمب فونز کے مقابلے میں مہنگے بھی ہیں۔ ان کی قیمتیں 99 ڈالر سے شروع ہوتی ہیں۔لائٹ فون کے شریک بانی کائے وے ٹانگ کہتے ہیں کہ یہ ڈیوائس ابتدائی طور پر ان لوگوں کے لیے ایک اضافی فون کے طور پر بنائی گئی تھی جو ہفتے کے آخر میں اپنے سمارٹ فون سے وقفہ لینا چاہتے ہیں، لیکن اب فرم کے آدھے صارفین اسے اپنے بنیادی فون کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’اگر خلائی مخلوق زمین پر آئے تو وہ سوچے گی کہ موبائل فون ہی انسانوں کو کنٹرول کرنے والی اعلیٰ نسل ہے۔ اور یہ رکنے والا نہیں ہے، یہ اس سے بھی برا ہو جائے گا۔ صارفین کو احساس ہو رہا ہے کہ کچھ غلط ہے، اور ہم ایک متبادل پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘ٹانگ نے مزید کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ فرم کے مرکزی صارفین کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں توقع تھی کہ اس کے خریدار زیادہ بوڑھے ہوں گے۔ٹیک کی ماہر پروفیسر سینڈرا واچر، جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت کی سینیئر ریسرچ فیلو ہیں، کہتی ہیں کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ آسان موبائل فونز کی تلاش میں ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی مناسب طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ آج کل ایک سمارٹ فون کی کالز کو کونیکٹ کرنے اور مختصر پیغامات بھیجنے کی صلاحیت تقریباً ایک ضمنی خصوصیت ہے۔ آپ کا سمارٹ فون آپ کا تفریحی مرکز، آپ کا نیوز جنریٹر، آپ کا نیویگیشن سسٹم، آپ کی ڈائری، آپ کی لغت، اور آپ کا بٹوہ ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ سمارٹ فونز ہمیشہ نوٹیفیکیشنز، اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز سے آپ کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، متواتر طور پر آپ کے دن میں خلل ڈالتے ہوئے۔پروفیسر واچر مزید کہتی ہیں کہ ’یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم میں سے کچھ اب آسان ٹیکنالوجیز کی تلاش میں ہیں اور سوچتے ہیں کہ ڈمب فونز شاید سادہ دور کی طرف واپسی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یہ شاید کسی ایک کام پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے لیے زیادہ وقت دیں اور اس کے ساتھ زیادہ بامقصد وقت گذارا جا سکے۔ یہ شاید لوگوں کو پرسکون بھی کر سکیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بہت زیادہ انتخاب ناخوشی اور اشتعال پیدا کر سکتا ہے۔‘لیکن اس کے باوجود لندن میں رابن ویسٹ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ ان کے موبائل کے انتخاب پر حیران ہیں۔ ’ہر کوئی سوچتا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی چیز ہے۔ وہ ایسے کہتے ہیں: سو آپ سمارٹ فون کب لے رہی ہیں؟ کیا آپ اس ہفتے ایک لے رہی ہیں؟

 

Related Articles