دہلی کے ’لوک تنتر سینانی‘ 11 اکتوبر کو امت شاہ کی رہائش گاہ تک پُرامن پیدل مارچ کریں گے
نئی دہلی، دہلی کے لوک تنتر سینانیوں اور ایمر جنسی کے دوران اپنی جان کی قربانی دینے والوںکے اہلِ خانہ کو اعزازیہ، پنشن اور احترام دینے کے مطالبے کو لے کر لو
ک تنتر سینانی سنگھ نے 11 اکتوبر کو مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی سرکاری رہائش گاہ تک پُرامن پیدل مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم نے دہلی میں ’لوک تنتر سینانیوں ‘(مجاہدین جمہوریت )کے لیے ’سَمان ندھی‘ کا انتظام کرنے کے ساتھ ایمرجنسی کے دوران پیش آنے والے واقعات سے متعلق شاہ کمیشن کی رپورٹ دہلی اسمبلی کے ایوان میں پیش کرنے اور سمودھان کی ہتیا‘ کی ذمہ داری طے کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم اس سے قبل بھی دہلی کے لوک تنتر سینانیوں کو احترام دینے اور ایمرجنسی کی تاریخ کو نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے۔
کنَاٹ پلیس واقع ہوٹل ریڈیسن بلو مرینا میں پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میں لوک تنتر سینانی سنگھ کے قومی نائب صدر اور سابق رکن اسمبلی او پی ببر، دہلی پردیش صدر راجن کمار ڈھینگرا اور پردیش جنرل سکریٹری راج کمار سپڑا نے مارچ کا اعلان کیا۔
تنظیم کے مطابق 11 اکتوبر کو لوک نائک جے پرکاش نارائن اور ناناجی دیش مکھ کے مشترکہ یومِ پیدائش کے موقع پر یہ مارچ نکالا جائے گا۔ تنظیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس میں تقریباً 2,000 مجاہدین جمہوریت اور ان کے اہلِ خانہ شرکت کریں گے۔
او پی ببر نے کہا کہ ’لوک تنتر سینانیوں ‘نے ایمرجنسی کے دوران جمہوریت اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے جیلوں میں اذیتیں برداشت کیں۔ کئی ریاستوں میں ان مجاہدین جمہوریت کو احترام اور پنشن دی جا رہی ہے، جبکہ دہلی میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف ان کی کوئی مخالفت نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے مطالبات مؤثر طریقے سے حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ببر نے ایمرجنسی کے دوران اپنے جیل کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے محافظوں پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں شدید اذیتیں دی گئیں۔ کئی لوگوں کو مناسب طبی سہولت اور دوائیں بھی نہیں مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو احترام دینا حکومت کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
دہلی پردیش صدر راجن کمار ڈھینگرا نے بتایا کہ ایمرجنسی کے دوران ملک بھر میں تقریباً 1.75 لاکھ گرفتاریاں ہوئی تھیں۔ 50 سال بعد اب ملک میں تقریباً 20 سے 25 ہزار لوک تنتر سینانی زندہ ہیں۔
ڈھینگرا کے مطابق دہلی میں شاہ کمیشن کی رپورٹ اور تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 3,100 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں تقریباً 700 افراد کو میسا کے تحت اور باقی افراد کو ڈی آئی آر کے تحت جیل بھیجے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت دہلی میں تقریباً 475 سے 500 سینانی زندہ ہیں۔
ڈھینگرا نے کہا کہ چونکہ ایمرجنسی مرکزی حکومت نے نافذ کی تھی، اس لیے لوک تنتر کے سینانیوں کے لیے مرکز کو قومی پنشن پالیسی بنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں الگ الگ قوانین کے بجائے پورے ملک کے لیے یکساں نظام ہونا چاہیے۔
تنظیم کے مطابق اتر پردیش سے شروع ہونے والا اعزاز اور پنشن کا نظام بعد میں کئی دیگر ریاستوں میں بھی نافذ کیا گیا، لیکن دہلی میں اب تک ایسا کوئی انتظام نہیں بن سکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی حکومت کے سامنے مطالبات رکھنے کے لیے 5 جون 2026 کو دہلی اسمبلی کے باہر سینانیوں نے ایک روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے 28 مئی 2025 کو دہلی لوک تنتر سینانیوں کو احترام اور سہولیات دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے۔ جون میں اسمبلی کے باہر منعقدہ پروگرام اور میمورنڈم کی اطلاع بھی عوامی طور پر سامنے آئی تھی۔
تنظیم کے مطابق 11 اکتوبر کے مارچ کے لیے ان سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران جدوجہد کی تھی۔ ان میں شرومنی اکالی دل، راشٹریہ لوک دل اور ڈی ایم کے شامل ہیں۔ تنظیم نے واضح کیا کہ مارچ کسی سیاسی جماعت کے بینر تلے نہیں بلکہ لوک تنتر سینانی سنگھ کے بینر تلے نکالا جائے گا اور اسے پُرامن طریقے سے منعقد کیا جائے گا۔
تنظیم نے مرکز اور دہلی حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے ہیں۔
پہلا مطالبہ: دہلی کے لوک تنتر سینانیوں اور ایمر جنسی کے دوران جان گنوانے والوں کے اہلِ خانہ کو دیگر ریاستوں کی طرز پر اعزازیہ، پنشن اور احترام دیا جائے۔دوسرا مطالبہ: ایمرجنسی کے 21 ماہ کی تاریخ اور شہری حقوق کی پامالی سے متعلق واقعات کو یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اعلیٰ تعلیمی نصاب میں لازمی طور پر شامل کیا جائے۔
تیسرا مطالبہ: 25 جون کو ’سمودھان ہتیا دیوس‘ قرار دیے جانے کے تناظر میں ذمہ داری طے کرنے کے لیے ایک خصوصی اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
چوتھا مطالبہ: ایمرجنسی کے دوران پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات سے متعلق شاہ کمیشن کی مکمل رپورٹ دہلی اسمبلی کے ایوان میں پیش کی جائے۔پانچواں مطالبہ: ایمرجنسی کے دوران جمہوری اداروں اور آئینی ڈھانچے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی مستند اور غیر جانب دار دستاویز بندی کرائی جائے۔




