محبوبہ مفتی کا پاسپورٹ کی اجرائی میں مداخلت کرنے کے لئے وزیر خارجہ کے نام مکتوب

سری نگر، فروری۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کو پاسپورٹ کی فراہمی کے لئے مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری پاسپورٹ کی اجرائی میں از حد اور جان بوجھ کر کی جانے والی تاخیر میرے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے موصوف وزیر خارجہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں کہا: ’میرے پاسپورٹ کی تجدید التوا میں ہے کیونکہ جموں وکشمیر سی آئی ڈی نے ایک منفی رپورٹ دی ہے کہ مجھے سفری دستاویز فراہم کرنے سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا‘۔ان کا مکتوب میں کہنا ہے: ’میں آپ کو ایک ایسے معاملے کے بارے میں لکھ رہی ہوں جو گذشتہ تین برسوں سے غیر ضروری طور پر لٹکا ہوا ہے‘۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں اور میری والدہ (گلشن نذیر) نے مارچ 2020 میں پاسپورٹوں کی تجدید کے لئے درخواستیں جمع کی تھیں۔انہوں نے کہا: ’جے کے سی آئی ڈی نے ایک منفی رپورٹ دی کہ میری 80 سالہ والدہ اور مجھے پاسپورٹ اجرا کرنے سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔ان کا کہنا تھا: ’جموں وکشمیر میں قومی سلامتی کا بہانہ بناتے ہوئے صحافیوں، طلبا اور دیگر ہزاروں لوگوں کی پاسپورٹ درخواستوں کو مسترد کرنا ایک معمول بن گیا ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ معاملہ تین برسوں تک التوا میں رہنے کے بعد میں نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی طرف رجوع کیا۔انہوں نے مکتوب میں کہا: ’ہائی کورٹ نے واضح ہدیات دیں کہ ریجنل پاسپورٹ آفس سری نگر کو مبہم بنیادوں پر پاسپورٹ اجرا کرنے سے انکار کرکے سی آئی ڈی کے ’ماؤتھ پیس‘ کے طور کام نہیں کرنا چاہئے‘۔ان کا کہنا تھا: ’میرے پاسپورٹ کے معاملے میں مجھے پاسپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کی طرف رجوع کرنے کو کہا گیا جو میں نے سال2021 سے کئی بار کیا لیکن بدقسمتی سے مجھے آج تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا‘۔پی ڈی پی صدر نے اپنے مکتوب میں کہا کہ اگر ہمارے جیسے جمہوری نظام حکومت میں میرے بنیادی حقوق کو اس طرح ڈھٹائی کے ساتھ نظر انداز کیا جاتا ہے تو عام کشمیریوں کا کیا حال ہوگا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میری بیٹی التجا نے بھی جون 2022 میں پاسپورٹ کی تجدید کے لئے درخواست جمع کی ہے اس کی درخواست بھی زیر التوا ہے ایسا لگتا ہے کہ پاسپورٹ دفتر سری نگر ایک بار پھر اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں ناکام ہو رہا ہے‘۔ان کا کہنا تھا: ’میں گذشتہ تین برسوں سے اپنی والدہ کو حج پر لے جانے کے لئے بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں اور ایک بیٹی کی حیثیت سے میں اپنی والدہ کی یہ چھوٹی سی خواہش پوری نہ کرنے پر دکھ محسوس کر رہی ہوں‘۔محبوبہ مفتی مکتوب میں کہتی ہیں: ’میں آپ کو یہ خط اس امید سے لکھتی ہوں کہ آپ اس معاملے پر فوری غور کریں گے‘۔

Related Articles