”یا غوث المدد” کی صداؤں سے گونجا لکھنؤ، شان و شوکت اور ادب کے ساتھ نکلا جلوسِ غوثیہ
جھوٹ اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والے یاد رکھیں، دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں: حضرت سید ایوب اشرف
لکھنؤ، ۔ آل انڈیا محمدی مشن کے زیرِ اہتمام 11 ربیع الثانی 1448ھ کے موقع پر چوک واقع درگاہ حضرت مخدوم شاہ مینا شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے جشنِ غوث الوریٰ اور روایتی جلوسِ غوثیہ شان و شوکت، ادب، امن اور نظم و ضبط کے ساتھ نکالا گیا۔ جلوس کی قیادت آل انڈیا محمدی مشن کے بانی و قومی صدر، اولادِ غوثِ اعظم حضرت سید ایوب اشرف کچھوچھوی نے کی۔
جلوس میں مختلف انجمنوں، علمائے کرام، ائمہ? مساجد، مشن کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں عاشقانِ غوثِ اعظم نے شرکت کی۔ گھوڑے، بگھیاں، جھانکیاں، جھنڈے اور تختیاں خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔ ’’یا غوث المدد‘‘ کی صداؤں کے ساتھ نعت، منقبت اور صلوٰۃ و سلام سے پورا ماحول روحانی کیفیت میں ڈوبا رہا۔
روایتی جلوسِ غوثیہ صبح 10 بجے سے لکھنؤ کے مختلف راستوں سے ہوتا ہوا صبح 11 بجے سے درگاہ مخدوم شاہ مینا شاہ پہنچنا شروع ہوگیا، جس میں خصوصاً خدرہ، فیض اللہ گنج، آگا میر ڈیوڑھی، جنتا نگری، نبی اللہ روڈ، مچھلی محال، بالاغنج وغیرہ علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ جلوس کی شکل میں شریک ہوئے۔ دوپہر تقریباً ایک بجے درگاہ مخدوم شاہ مینا شاہ سے جلوس ایک ساتھ روانہ ہو کر میڈیکل چوراہا ہوتا ہوا کے جی ایم یو میں واقع درگاہ حضرت حاجی الحرمین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے تک پہنچا، جہاں جشنِ غوثیہ، فاتحہ، صلوٰۃ و سلام اور ملک و صوبہ سمیت تمام لوگوں کے لیے دعا کے بعد جلوس کا اختتام ہوا۔
جلوس میں مشن کے سرپرست پیرِ طریقت حضرت محمد علی عارف میاں نقشبندی، سید آلِ محمد، سینئر نائب صدر پیرزادہ شاکر علی مینائی عرف بابو بھائی، نائب صدر ڈاکٹر سید شہاب الدین اشرف، قاری غلام سبحانی ضیائی، عبد القادر، پرنسپل سیکریٹری حضرت سید بابر اشرف، خزانچی محمد فرید، یوتھ صدر سید محمد احمد میاں، ترجمان سید جنید اشرف، زونل صدر محمد سعید، پیر محمد، عبدالرحمن، محمد رضوان، مبارک علی، ادریس نوری، محمد ایوب، محمد سعید، محمد نوشاد، تاج محمد، قاری عبد الحنان، قاری غلام الدین، مولانا اعظم علی قادری، قاری افتخار عالم، مولانا ذاکر مینائی، قاری شرف الدین، قاری معین، قاری جہانگیر گودنوی، قاری محمد عقیل، قاری فاروق سمیت بڑی تعداد میں علمائے کرام، ائمہ? مساجد، انجمنوں کے ذمہ داران اور عقیدت مند شامل ہوئے۔
اس موقع پر آل انڈیا محمدی مشن کے بانی و قومی صدر حضرت سید ایوب اشرف نے کہا کہ غوثِ پاک حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی انسانیت، اچھے اخلاق اور نیک کردار کا پیغام ہے۔ آپ کی تعلیمات ہمیں سچا، ایماندار، رحم دل، منکسر المزاج اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے کی تعلیم دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غوثِ پاک کی زندگی سچائی پر قائم رہنے کی بہترین مثال ہے۔ بچپن میں آپ کے قافلے کو ڈاکوؤں نے گھیر لیا، لیکن آپ نے اپنی والدہ کی نصیحت کے مطابق اپنے پاس موجود مال کے بارے میں سچ بتا دیا۔ آپ کی اس سچائی کا ڈاکوؤں کے دل پر گہرا اثر ہوا اور انہیں اپنے غلط راستے پر غور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
آل انڈیا محمدی مشن کے سیکریٹری جنرل حضرت سید بابر اشرف نے کہا کہ غوثِ پاک کی تعلیمات کو صرف جشن اور رسومات تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے۔ غریب و ضرورت مند کی مدد، کمزوروں سے ہمدردی، جھوٹ اور ناانصافی سے بچنا اور اپنی زبان و ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانا ہی غوثِ پاک کی تعلیمات پر عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کچھ لوگ اپنے دنیوی مفادات کی تکمیل کے لیے جھوٹ، گمراہی، مذہبی جذبات کے غلط استعمال اور فرنگی چالوں کا سہارا لے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کے لیے ذاتی مفاد کی تکمیل سب سے مقدم ہے۔ اس کے لیے اگر دین اور سنیت کے اصولوں سے بھی سمجھوتہ کرنا پڑے تو وہ اس سے گریز نہیں کرتے۔ اپنے بیانات اور طریق? کار کے ذریعے وہ حکومت و انتظامیہ، عدالت اور عام عوام کے درمیان ابہام پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سچائی کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ آخرکار حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے۔ دولت اور شہرت یہیں رہ جائے گی، انسان کے ساتھ اس کا کردار اور اس کے اعمال جائیں گے۔ حق ہمیشہ حق رہے گا اور باطل کو ایک نہ ایک دن مٹنا ہی ہے۔
پیرِ طریقت حضرت محمد علی عارف میاں نقشبندی نے کہا کہ ہر انسان کو حقیقت جانے بغیر کسی بات کو آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ جھوٹ، افواہ اور گمراہ کن معلومات سے بچنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں اور باتوں سے محتاط رہنا چاہیے جو نفرت پھیلائیں، لوگوں کو تقسیم کریں یا ذاتی مفاد کے لیے گمراہ کریں، کیونکہ یہ دین و دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ غوثِ پاک کی اصل تعلیمات یہی ہیں کہ انسان کسی بھی حال میں جھوٹ کا سہارا نہ لے۔
حضرت سید محمد احمد میاں نے کہا کہ جھوٹ کو بار بار دہرانے سے وہ سچ نہیں بن جاتا اور کسی کو گمراہ کرنے سے انسان حق سے بری نہیں ہو جاتا۔ اس لیے کسی بھی بات کو آنکھ بند کرکے قبول کرنے کے بجائے اس کی حقیقت کو سمجھنا اور صحیح و غلط میں فرق کرنا چاہیے۔ مذہبی جذبات، جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعے ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں سے بھی محتاط رہنا ضروری ہے۔
نائب صدر ڈاکٹر سید شہاب الدین اشرف نے کہا کہ آج نفرت اور باہمی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں اتحاد، صبر، سمجھ داری اور باہمی احترام کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنے کردار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
سینئر نائب صدر پیرزادہ شاکر علی مینائی عرف بابو بھائی کی جانب سے مخدوم شاہ مینا فاؤنڈیشن کے صدر کی حیثیت سے لنگر کا اہتمام کیا گیا، جبکہ پیرزادہ ناصر علی مینائی، یوتھ نائب صدر آل انڈیا محمدی مشن کی نگرانی میں لنگر کا انتظام بہترین طریقے سے کیا گیا۔
سیکریٹری حضرت مسعود اشرف صدیقی نے جلوس میں شامل انجمنوں، علمائے کرام، ائمہ? مساجد، صحافی برادری اور حکومت و انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب کے تعاون سے پروگرام امن، بھائی چارے، ادب اور نظم و ضبط کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
جشنِ غوث الوریٰ کا آغاز قاری افتخار عالم حبیبی نے تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا۔ اس کے بعد نعت و منقبت پیش کی گئی۔ نظامت قاری غلام الدین نے کی، جبکہ مولانا ذاکر مینائی نے غوثِ اعظم حضرت پیر عبدالقادر جیلانی کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالی۔
سینئر میڈیا انچارج
وحید الحسن صدیقی
موبائل: 8960344786




