ہنگری کے صدر تاماس سُلیوک نے آئینی ترمیم پر دستخط کئے

بوداپیسٹ، 19 جولائی ہنگری کے صدر تاماس سُلیوک نے ملک کے آئین (فنڈامنٹل لا) میں 17ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے نافذ ہونے کے ساتھ ہی ان کی صدارتی مدت ختم ہو جائے گی۔فیس بک پر جاری اپنے بیان میں تاماس سُلیوک نے کہا کہ کسی موجودہ صدر کی مدتِ کار کو آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کرنا غیر معمولی اقدام ہے اور یہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی طاقت کے غلط استعمال کی سنگین مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے قانون کی حکمرانی، اداروں کی خودمختاری اور جمہوری نظام کو براہ راست نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ترمیم پر دستخط سے انکار کرنا خود آئین کی خلاف ورزی ہوتا، اس لیے انہوں نے اپنے آئینی فرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اس پر دستخط کیے۔
نئی شقوں کے مطابق ترمیم نافذ ہونے کے اگلے روز صدر کی مدتِ کار ختم ہو جائے گی۔ نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کی اسپیکر اگنیس فورستھوفر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ زیادہ سے زیادہ پانچ برس کی مدت کے لیے نئے صدر کا انتخاب کرے گی یا اس وقت تک جب تک نیا آئین نافذ نہیں ہو جاتا۔اس آئینی ترمیم میں ارکان پارلیمنٹ کی مدتِ رکنیت کو 12 برس یا زیادہ سے زیادہ تین مدتوں تک محدود کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ آئینی عدالت کے ججوں کی زیادہ سے زیادہ عمر 70 برس مقرر کی گئی ہے اور انہیں سپریم کورٹ (کوریا) اور قومی عدالتی دفتر (او بی ایچ) کے سربراہان کو ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ترمیم میں قومی اثاثہ جات کی بازیابی اور تحفظ کے دفتر کے قیام کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔

 

Related Articles