گیتا دت کی آواز نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہندوستانی سنیما پر گہرے نقوش چھوڑے
ممبئی، گیتا دت بالی ووڈ کی ایک انتہائی معروف اور مقبول ترین پلے بیک گلوکارہ تھیں جن کی جادوئی اور منفرد آواز نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہندوستانی سنیما پر گہرے نقوش چھوڑے۔گیتا دت ایک منفرد آواز لے کر پیدا ہوئی تھیں ۔ ان کی گائیکی میں جوسوز تھا وہ انہیں پر ختم ہو گیا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود گیتا دت کی آواز مدھم نہیں ہوئی ہے ۔ ان کے بول آج بھی دل میں اتر جاتے ہیں اور سننے والا محو ہو کر رہ جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ گلو کارہ کا درد اپنے اندر بھی محسوس کرتا ہے ۔
دراصل گیتا دت نے ایک منفرد آواز پائی تھی ۔ اس لئے انہوں نے جو بھی گانا گایا اسے ایک نئی روح بخشی ۔ ‘ صاحب بی بی اور غلام ‘ میں ان کا گایا ہوا گانا ‘ نہ جاؤ سئیاں چھڑا کے بیاں ، قسم تمہاری میں رو پڑوں گی ، سامع کی آنکھوں میں آنسو لا دیتا ہے یا پھر ‘ شرط ‘ فلم کا گانا ‘ نہ یہ چاند ہوگا نہ تارے رہیں گے ‘ اور صاحب بی بی غلام ‘ کا گانا ‘ پیا ایسو جیا میں سمائے گئیورے ‘ یہ سب ناقابل فراموش گانے ہیں اور یہ گانے جب بھی بجائے جاتے ہیں تو گیتا دت کی کھنکتی ہوئی پر سوز آواز سامع کے ذہن و دل میں اتر جاتی ہے ۔
ہندی فلموں کے علاوہ انہوں نے بے شمار بنگالی گیت بھی گائے ۔ قدرت نے گیتا دت کو اتنی خوبصورت آواز سے نوازا تھا کہ ہندوستان کے موسیقاربھی حیران تھے۔ ان کے گیتوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچائے رکھی۔یہ ان کی دلفریب آواز کا اعجاز ہے کہ اتنے عشرے گزرنے کے بعد بھی ان کی فنی عظمت برقرار ہے۔اور ان کی گائیکی آج کی نوجوان نسل کو بھی بے حد پسند ہے۔
گیتا دت کا پیدائشی نام گیتا گھوش رائے چودھری تھا اور وہ 23 نومبر 1930 کو ایک دولت مند زمیندار خاندان میں پیدا ہوئی تھیں ۔جس کا تعلق مشرقی بنگال کے فرید پور سے تھا جو ابھی بنگلہ دیش ہے ۔لیکن ان کے والدین 1942 میں ممبئی آگئے تھے اور اس وقت گیتا کی عمر صرف 12 برس تھی ۔ چونکہ گانا بجانا بنگلہ تہذیب و ثقافت کا ایک حصہ ہے ۔ اس لئے انہیں بھی بچپن سے ہی اس کی تعلیم دی گئی ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی آواز 1946 میں ایک فلم “بھگت پرہلاد” میں دی تھی ۔ اس کے بعد پھر وہ کچھ چھوٹی چھوٹی فلموں میں بھجن گاتی رہیں ۔ لیکن ان کی شناخت 1955 میں’ دیوداس ‘ اور 1957 میں ریلز فلم ‘ پیاسا ‘ سے ہوئی ۔ انہوں نے فلم” پیاسا” کے جو گانے اپنی پر سوز آواز میں دئے انہیں کوئی آج بھی فراموش نہیں کر پاتا ہے ۔ ان کے گائے ہوئے گانے ‘ آج سجن موہے انگ لگا لو’ یا ‘ ‘ ہم آپ کی آنکھوں ‘ میں بہت ہی مقبول ہوئے ۔ دیو داس کا گانا ‘ آن ملو آن ملو ‘ ہر شخص کی زبان پر تھا یا پھر اس سے قبل کا گانا ‘ میرا سندر سپنا بیت گیا ‘ فلم ” دو بھائی ” اور تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لو ‘ مقبول عام تھے ۔فلم ”بازی”کے گانوں کی ریکارڈنگ کے دوران ان کی ملاقات فلم کے نوجوان ہدایت کار گورودت سے ہوئی اور رومانس شروع ہو گیا جو ان کی شادی پر منتج ہوا۔ 1957ء میں گورودت نے ایک فلم” گوری” شروع کی۔ گیتا دت اس کی مرکزی اداکارہ تھیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یہ بھارت کی پہلی سینما سکوپ فلم ہو گی لیکن کچھ روز شوٹنگ کے دوران یہ فلم بند کر دی گئی۔ اس وقت گیتا دت کی شادی خطرات کا شکار تھی کیونکہ گورو دت وحیدہ رحمان کے عشق میں بری طرح گرفتار تھے ۔گیتا دت سخت صدمے کی حالت میں تھیں انہوں نے اس صدمے کی وجہ سے مے نوشی شروع کردی۔ یہ 1955ء تھا جب ایس ڈی برمن کے لتا کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے اور انہوں نے آشا بھونسلے کی جگہ گیتا دت سے اپنے گیت گوانے کا فیصلہ کیا ۔لیکن ہوا یوں کہ گیتا دت ایس ڈی برمن کی توقعات پر پورا نہ اتر سکیں۔اس کے بعد ایس ڈی برمن اور اوپی نیر نے آشا بھونسلے کو موقع دیا اور ان دونوں عظیم سنگیت کاروں نے آشا کے کیرئر کو عروج پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔گورودت کی فلم بازیجس میں دیو آنند اور گیتا بالی نے مرکزی کردار ادا کئے۔ یہ مشہور مزاحیہ اداکار جانی واکر کی پہلی فلم تھی۔اس فلم میں گیتا دت کے گائے ہوئے نغمات نے ہر طرف تہلکہ مچا دیا۔ایس ڈی برمن کی شاندار موسیقی میں گائے ہوئے یہ نغمات کچھ یوں تھے۔ تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنا لے سنوگجر کیا گائےبازیکے گیت ساحر لدھیانوی نے تخلیق کئے تھے۔اس فلم کے نغمات نے ساحر کو بھی عروج بخشا۔ بازیکے بعد گیتا دت نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔گورودت کی ایک اور فلم آر پار میں گایا ہوا گیتا دت کا یہ نغمہ آج بھی اپنی خوبصورتی اور انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے : ‘ بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں ‘بابو جی دھیرے چلنا کچھ موسیقاروں اور گلو کاروں کا کہنا ہے کہ گیتا دت کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔گورودت کو ہندوستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں اساطیری حیثیت حاصل ہے۔انہوں نے یادگار فلمیں بنائیں۔وہ بیک وقت اداکار،فلمساز اور ہدایت کار تھے۔ ان کی مشہور ترین فلموں میں پیاسا،چودھویں کا چاند،کاغذ کے پھول اورمسٹر اینڈ مسز55شامل ہیں۔ ان کی گلوکارہ بیوی گیتا دت نے بھی بڑا نام کمایا۔ان کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ خواجہ خورشید انور جو ہندوستان سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ گیتا دت کے بڑے مداح تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی گلوکارہ ناہید نیازی کی آواز بڑی حد تک گیتا دت سے ملتی ہے ۔غالباً یہی سبب تھا کہ انہوں نے اپنی فلم” جھومر کے گیت ناہید نیازی سے گوائے۔حالانکہ گیتا دت کی ذاتی زندگی بہت اچھی نہیں گزری اس لئے محض 41 برس کی کم عمر میں ہی ان کا انتقال ہو گیا ۔ان کی شادی مشہور ادا کار گرو دت سے 23 مئی 1953 کو ہوئی تھی ۔ 1964 میں ‘گرو دت’ کی بے حد شراب نوشی کے سبب موت واقع ہو گئی تھی بلکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ انہوں نے ذہنی تناؤ کے سبب خود کشی کرلی تھی ۔ ان کی موت کے بعد گیتا دت 8 برسوں تک زندہ رہیں ۔ لیکن انہیں بھی حالات کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور 20 جولائی سنہ 1972 کو لیور سرائیسس کے سبب ان کی ممبئی میں موت واقع ہو گئی ۔گیتا دت نے کئی فلموں میں بھی کام کیا تھا ۔ لیکن انہیں ان کی ریشمی غمناک آواز کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور اس آواز کے سہارے انہوں نے سامعین کے لئے بہت سے ناقابل فراموش گیت تخلیق کئے ۔
گیتا دت کے اعلیٰ نغمات کی تعداد ویسے تو بہت زیادہ ہے جن میں فلم ‘جوگن ‘کے گیت بھی قابل ذکر ہیں ۔کیدار شرما کی فلم ‘جوگن 1950ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے کئی گیت گیتا دت نے گائے جنہیں ان کی بہترین گائیکی کہا جا سکتا ہے۔ذیل میں ان کے کچھ دلکش نغمات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔جو آج بھی اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ 1۔میرا سندر سپنا ٹوٹ گیا(دو بھائی) 2۔آن ملو آن ملو(دیو داس) 3۔جانے کیا تونے کہی(پیاسا) 4۔ہوا دھیرے آنا(بندنی) 5۔تدبیر سے بگڑی ہوئی(بازی) 6۔بڑے دھوکے ہیں اس راہ میں(آرپار 7۔وقت نے کیا کیا حسین ستم(کاغذ کے پھول) 8۔نہ جائو سیاں چھڑا کے بیاں(صاحب بی بی اور غلام) 9۔دیکھنے میں بھولا ہے دل کا سلونا(بمبئی کا بابو) جیسے نغمے شامل ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گیتا دت کو اپنی مکمل صلاحیتیں دکھانے کا موقع نہ ملا لیکن اس بات کو تسلیم کیا جا چکا ہے کہ انہوں نے جتنا گایا، باکمال گایا۔ہندوستان کی موسیقی کی تاریخ میں گیتا دت کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

