نیٹ معاملے پر اپوزیشن نے سونم وانگ چُک کو مہرہ بنایا: ملہوترا


نئی دہلی، 19 جولائی دہلی پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر ہرش ملہوترا نے اپوزیشن جماعتوں پر نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ

 

(نیٹ) کے معاملے پر سماجی کارکن سونم وانگ چُک کو مہرہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر ملہوترا نے مسٹر وانگ چُک کو صفدر جنگ اسپتال سے پرائیویٹ اسپ


تال میں داخل کرانے کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر فوری راحت نہ ملنے پر اتوار کو ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کے معاملے میں جس طرح آج دہلی ہائی کورٹ سے عبوری راحت مانگنے کے لیے رکن پارلیمنٹ کپل سبل اور وویک تنکھا جیسے بڑے اور مہنگے وکلاء پیش ہوئے، اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسٹر وانگ چُک ایک سماجی کارکن کے طور پر نہیں، بلکہ ملک کی پوری اپوزیشن کے سیاسی مہرے کے طور پر دھرنے پر بیٹھے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے مسٹر وانگ چُک کو جنتر منتر سے ہٹانے کے لیے جو بھی کارروائی کی، وہ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق تھی اور شاید اسی کے پیش نظر عدالت نے مسٹر وانگ چُک کی جانب سے دائر درخواست پر عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ “نیٹ” پیپر لیک معاملے میں عام آدمی پارٹی، بائیں بازو کی جماعتوں اور کانگریس پارٹی کی طرف سے اسپانسر کردہ اس دھرنے میں مسٹر وانگ چُک 28 جون کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے، جبکہ “نیٹ” کا دوبارہ امتحان 21 جون کو ہو چکا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بھوک ہڑتال کا مقصد طلباء کے مسائل اٹھانا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک ہنگامہ آرائی کرنا ہے۔

 

Related Articles