سبھی کسانوں سے فصل کے ایک ایک دانے کی خرید کرے حکومت:سیلجا
چنڈی گڑھ، مارچ۔ہریانہ کانگریس کی صدر کماری سیلجا نے کہا ہے کہ ریاست کی بی جےپی – جے جےپی اتحادی حکومت نے کسانوں کو پریشان کرنے کی سرکاری سازش شروع کردی ہے اور فصل کا ڈیٹا مس میچ کے بہانے ریاستی حکومت محنت سے تیار فصل کو خریدنے سے بچنا چاہتی ہے۔محترمہ سیلجا نے کہا کہ کانگریس نےریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چاہے کسی کسان نے رجسٹریشن کرایا ہو یا نہ کرایا ہو،ان سبھی کا ایک ایک دانا خریدنے کی ذمہ داری لی جائے۔ایک اپریل سے گیہوں کی خرید شروع ہونی ہے اور منڈیوں میں فصل آنی بھی شروع ہو جائےگی۔ اس کےلئے کسانوں نے وقت پر ’میری فصل،میرا بیورا‘ پورتل پر اپنا رجسٹریشن بھی کروا دیا تھا،لیکن ریاستی حکومت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہی۔اب جب فصل خرید کا وقت آچکا ہے تو اس پورٹل پر 3.79 لاکھ کسانوں کے ڈیٹا کے مس میچ کا بہانا بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اتنے مہینوں تک یہ ڈیٹا کیوں نہیں چیک کیا؟ اگر اس اعداد و شمار کو پہلے سے چیک کر لیا جاتا تو کسانوں کو آخری وقت میں ایسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور وہ اپنی فصل کو مارکیٹ میں لا کر آسانی سے فروخت کر سکتے تھے لیکن اب حکومت فصل کی خرید شروع کر پائے گی اس پر شبہ برقرار ہے۔محترمہ شیلجا نے کہا کہ کسان شروع سے ہی تین زرعی قوانین کی مخالفت کرنے پر حکومت کے نشانے پر رہے ہیں، اس لیے وہ نہ تو گندم کی فصل کی بوائی کے وقت کھاد حاصل کر سکے اور نہ ہی بعد میں ضرورت پڑنے پر حکومت کھاد کا انتظام کروا پائی ۔ ڈی اے پی اور یوریا کے لیے کسانوں کو سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزارنی پڑی اور پولیس کی لاٹھیاں کھا کر کھاد لینا پڑی۔ اس بار گندم کی فصل کی بوائی کے دوران موسم بھی کاشت کے لیے سازگار نہیں تھا۔ بار بار کی بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے اور ریاستی حکومت نے آج تک کوئی معاوضہ نہیں دیا ہے۔ان کے مطابق زرعی سائنسدان پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ مارچ میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے اس بار گندم کی پیداوار متاثر ہو گی۔ ایسے میں کسان کو اپنی محنت سے کم فصل ملنے والی ہے۔ اس کے باوجود اب ریاستی حکومت نے ڈیٹا کی عدم مطابقت کا بہانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سے حکومت کی نیت صاف ظاہر ہوتی ہے۔