اچھے اور خوشگوار ماحول میں منعقاد ہوئی کل جماعتی میٹنگ
نئی دہلی، 19 جولائی ۔ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے پہلے اتوار کو یہاں منعقدہ کل جماعتی میٹںگ میں حکوم
ت نے اپوزیشن سے ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ ان کے تمام مسائل پر بحث کرائی جائے گی اور سیشن کے دوران لائے جانے والے بلوں کی معلومات بھی اپوزیشن جماعتوں کو پہلے سے دی جائے گی۔
تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ آل پارٹی میٹنگ اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی تجاویز اور خیالات رکھے۔ حکومت نے تمام تجاویز کو سنجیدگی سے سنا ہے اور ان پر غور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں ہر پارٹی کو اپنی بات رکھنے کی مکمل آزادی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی ہموارطریقے سے چلے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام مسائل پر بحث کے لیے تیار ہے۔ مانسون سیشن کے لیے فی الحال آٹھ بلوں کو درج کیا گیا ہے اور اگر کوئی اضافی قانون سازی کا کام ہوگا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اس کی معلومات بھی پہلے سے سیاسی جماعتوں کو دے دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے سے کسی کو سیاسی فائدہ نہیں ملتا، بلکہ جمہوریت متاثر ہوتی ہے اور عوام کا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے۔
ترنمول کانگریس سے الگ ہونے والے 20 ارکان پارلیمنٹ کو آل پارٹی میٹنگ میں مدعو کرنے پر اپوزیشن کے واک آؤٹ سے متعلق سوال پر مسٹر رجیجو نے کہا کہ ان ارکان پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر سے نیشنل سٹیزنز پارٹی آف انڈیا کے طور پر منظوری دینے کی درخواست کی ہے، جس پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو اس کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے اور اسی وجہ سے تمام ارکان پارلیمنٹ کو اجلاس میں مدعو کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران کچھ جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان آپسی سوال و جواب بھی ہوئے۔ میٹنگ کے دوران جنتا دل (یو) کے کارگزار صدر سنجے جھا نے مغربی ایشیا کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات وزیر اعظم نریندر مودی نے پیدا نہیں کیے ہیں، لیکن بحران کے وقت ان کی قیادت اور انتظام قابل تعریف رہا ہے۔ اس پر سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے کہا کہ مغربی ایشیا کے موجودہ حالات وزیر اعظم کے ایک دوست کی وجہ سے بنے ہیں۔
اجلاس کے بعد این سی پی آئی کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی کو الیکشن کمیشن سے منظوری دینے کی درخواست کی گئی ہے اور اس سے متعلق خط لوک سبھا اسپیکر کو سونپا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں سیاسی جماعتوں کو ان کی اصل تعداد کے مطابق نمائندگی ملنی چاہیے اور اپوزیشن کو بھی مناسب مواقع دیے جانے چاہئیں۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 20 جولائی سے 13 اگست تک چلے گا۔ چار ہفتوں تک جاری رہنے والے اس سیشن میں کل 19 نشستیں تجویز کی گئی ہیں، جس میں آٹھ بل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔


