امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل، جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ
امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل برقرار ہے اور بحران کے خاتمے کے قریب ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ہفتے کو بحران ایک نئے دن میں داخل ہوگیا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا تہران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ا
یندھن کی قیمتوں میں اضافی اضافہ برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ ’’سینٹ کام‘‘ (CENTCOM) نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکی فورسز نے 105 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا ہے۔سینٹ کام نے بتایا کہ خطے میں جاری اس کی بحری کارروائیوں کے نتیجے میں تجارتی بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے گئے ہیں، جبکہ ایران کے گرد موجود بحری گزرگاہوں میں فوجی کارروائیاں اور کشیدگی بدستور جاری ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر ایرانی نظام کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی میں اضافے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے جلد خاتمے کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔تقریباً ایک ماہ قبل ایران کے خلاف ’’غیر معمولی اقتصادی جنگ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایرانی نظام پر اقتصادی دباؤ اور اس کی تنہائی بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی تھی۔
اس کے ساتھ ہی ان ممالک کو بھی سخت انتباہ دیا تھا ،جو تہران کو ’’زندہ رہنے کا راستہ‘‘ فراہم کر رہے ہیں اور اسے سنگین اقتصادی نتائج سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تاہم جمعرات کو امریکی ویب سائٹ ’’ایکسِیوس‘‘ (Axios) کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے ایک بار پھر فوجی آپشن استعمال کرنے کا عندیہ دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں ’’ایک فیصلہ کن موڑ‘‘ کے قریب پہنچ رہے ہیں، جہاں انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا تنازع ختم کرنے کی کوشش میں بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔




