دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا: غلام نبی آزاد

جموں،یک دسمبر۔سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف بہانے کرکے جموں وکشمیر کو خراب اور بہت ہی غریب کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے صوبہ جموں میں 13 ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے قریب ساڑھے سات ہزار یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد بند ہوگئے ہیں جو ابھی بھی ہند ہی ہیں۔موصوف سینئر لیڈر نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز راجوری میں پارٹی ورکروں کو خطاب کرنے کے دوران کیا۔ وہ صوبہ جموں کے سرحدی علاقوں کے چار روزہ دورے پر ہیں۔انہوں نے کہا: ’یونین ٹریٹری بن جانے سے پہلے جموں صوبے میں قریب13 ہزار صنعتی کارخانے تھے جن میں سے ساڑھے سات ہزار کارخانے یونین ٹریٹری بن جانے کے بعد ہی بند ہوگئے جو ابھی بھی بند ہی ہیں اور کشمیر میں تمام کارخانے بند پڑے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا: ’پانچ اگست 2019 سے یعنی گذشتہ لگ بھگ ڈھائی برسوں سے جموں وکشمیر تیس برس پیچھے چلا گیا ہے‘۔مسٹرآزاد نے کہا کہ مختلف بہانے بنا کر جموں وکشمیر کو خراب اور غریب کر دیا گیا۔انہوں نے کہا: ’مجھ سے کوئی بات چھپی نہیں ہے میں نے لداخ سے پونچھ تک لوگوں کے حالات دیکھے‘۔ان کا کہنا تھا: ’امید ہے کہ پانچ چھ ماہ کے بعد جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے لیکن ہمیں اس دفعہ کوئی چوک نہیں کرنی ہے جس طرح ہم نے پچھلی دفعہ کی‘۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں وکشمیر پر بی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کی ہے لہذا اب لوگ کسی بھی جماعت کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کہ وہ مذہب کے نام پر نہیں بلکہ ترقی کے نام پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔قابل ذکر ہے کہ غلام نبی آزاد اپنے اس چار روزہ دورے کے دوران 2 اور 3 دسمبر کو ضلع راجوری میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے جبکہ 4 دسمبر کو وہ ضلع رام بن میں ایک عوامی سے خطاب کرنے والے ہیں۔

 

Related Articles