تمل ناڈو کے تھینی سب جیل سے 17 قیدی فرار؛ ایک گرفتار، دیگر کی تلاش کے لئے کاروائی تیز

تھینی (تمل ناڈو)،  تمل ناڈو کے ضلع تھینی میں پیر کی رات گئے ایک سب جیل سے 17 قیدی جیل عملے پر مبینہ طور پر حملہ کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔ آس پاس کے اضلاع میں تلاش کی کاروائی تیز کردی گئی ہے۔ پولیس نے فرار ہونے والوں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ باقی 16 افراد کا سراغ لگانے کے لیے 17 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔انسپکٹر جنرل آف پولیس (ساؤتھ زون) وجیندر بیدری نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا شخص مدورائی کا رہائشی ہے۔ اسے تھیکامپٹی سب جیل کے پیچھے واقع جنگلی علاقے میں تلاشی مہم کے دوران پکڑا گیا۔ بیدری نے کہا، “تلاشی مہم کے دوران، پولیس فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہی۔”
پولیس کے مطابق، تمام 17 قیدی ایک ہی بیرک میں رکھے گئے تھے۔ جیل عملے کو اطلاع ملی کہ ایک قیدی کی طبیعت خراب ہے؛ تاہم، جب وہ بیرک میں پہنچے تو قیدیوں نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کر دیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بیدری نے بتایا کہ قیدیوں نے “مرگی کا دورہ پڑنے کا ڈرامہ” رچ کر فرار ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی۔اس مبینہ حملے میں، تھینی ڈسٹرکٹ جیل میں تعینات گریڈ-II کے پولیس اہلکار تھنگاپانڈی کے سر پر چوٹ آئی ہے۔ انہیں جی ولاکو کے سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ جیل کے دو دیگر ملازمین کو بھی معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ڈنڈیگل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس جیاکمار نے بتایا کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر، ضلع بھر میں 16 مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ ڈنڈیگل-تھینی ہائی وے پر گاڑیوں کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔
مدورائی، ڈنڈیگل اور اڈوکی میں پولیس فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فرار ہونے والے قیدیوں کی تصاویر حکام میں تقسیم کر دی گئی ہیں تاکہ ان کی شناخت میں مدد مل سکے۔ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ پی ولسن نے بھی سیاسی نقطہ نظر سے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے اس واقعے کو ”شرمناک“ قرار دیا اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے انداز پر تنقید کی۔ ولسن نے کہا کہ تمل ناڈو میں امن و امان کی مبینہ تباہ حالی کی اخلاقی ذمہ داری وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کو قبول کرنی چاہیے اور وزیر اعلیٰ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

Related Articles