مغربی بنگال میں نوعمر لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا ملزم پولیس انکاونٹر میں ہلاک
کولکاتا، مغربی بنگال کے ضلع شمالی 24 پرگنہ کے گائیگھاٹا میں منگل کی علی الصبح 17 سالہ لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا اہم ملزم پولیس
تصادم میں مارا گیا۔ یہ واقعہ رواں سال جولائی میں جنوبی 24 پرگنہ کے باروئی پور میں ہوئے پولیس انکاونٹر سے کافی حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ پولیس تصادم کی سلسلہ وار تفصیلات پچھلے معاملے سے ہی ملتی جلتی ہیں، جس میں دیر رات ’کرائم سین ری کری ایشن‘ (جائے وقوع کا تمثیلی جائزہ) شامل ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق، ملزم پرہلاد داس کو منگل کی علی الصبح واقعے کے تمثیلی جائزے کے لیے جائے وقوع پر لے جایا گیا۔ یہ مقام بنگلہ دیش کی سرحد سے تقریباً چار کلومیٹر دور ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران پرہلاد نے اچانک ایک افسر کا سروس ریوالور چھین لیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ اس نے تین راونڈ گولیاں چلائیں، جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ اس کے بعد اپنے دفاع میں پولیس نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار راونڈ فائر کیے۔ گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی پرہلاد کو فوری طور پر چاند پاڑہ دیہی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
پرہلاد متاثرہ لڑکی کے خاندان کا رشتہ دار بتایا گیا ہے۔ اتوار کے روز ایک پڑوسی کے مکان کے پیچھے سے نابالغ کی برہنہ اور مسخ شدہ لاش برآمد ہونے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ لڑکی ہفتہ کی رات اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ موسیقی کے پروگرام دیکھنے گئی تھی۔ لواحقین کے مطابق، رات تقریباً 11.30 بجے اسے ایک فون کال آئی، جس کے بعد وہ پروگرام کے مقام سے نکل گئی اور لاپتہ ہو گئی۔ رات بھر جاری رہنے والی تلاش کی مہم کے بعد اتوار کی صبح اس کی لاش برآمد کی گئی۔
گائیگھاٹا کے اس تصادم نے ساڑھے تین ماہ قبل باروئی پور میں پیش آئے اسی نوعیت کے ایک معاملے کی یادیں تازہ کر دی ہیں، جہاں ایک نابالغ سے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے اہم ملزم پربھاس منڈل کی بھی پولیس کی گولی لگنے سے موت ہو گئی تھی۔ جولائی کے اس واقعے میں بھی پولیس نے بالکل یہی دعویٰ کیا تھا کہ دیر رات ’کرائم سین ری کری ایشن‘ کے دوران ملزم نے پولیس کا اسلحہ چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد اپنے دفاع میں کی گئی جوابی فائرنگ میں وہ مارا گیا تھا۔
باروئی پور کے اس انکاونٹر کو لے کر خاصا تنازعہ کھڑا ہوا تھا اور کلکتہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے واقعے سے جڑے سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت دی تھی۔ وہ معاملہ ابھی بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔




