جدید پیکجنگ کا ایک نظریہ: کم سے کم سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ منافع فراہم کرنا
ز: پروفیسر راؤ آر تُمالا
بھارت اپنے سیمی کنڈکٹر کے سفر کے ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگرچہ ملک نے چِپ ڈیزائننگ اور سافٹ ویئر میں عالمی سطح پر شناخت حاصل کر لی ہے، تاہم اب اس کے پاس جدید پیکیجنگ میں صفِ اول ملک بننے اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک عالمی معیار کی ‘سسٹمز فاؤنڈری’ یعنی جدید طرین مینوفیکچرنگ اکائی کے طور پر ابھرنے کا ایک منفرد موقع موجود ہے۔ جدید پیکیجنگ اور افرادی قوت کی ترقی پر توجہ مرکوز کر کے، بھارت اکیسویں صدی کی ایک ایسی معیشت تخلیق کر سکتا ہے جو سیمی کنڈکٹر کے محور پر گھومتی ہو۔ میری نظر میں، سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں جدید پیکیجنگ سب سے اہم اور کلیدی تکنالوجیوں میں سے ایک بن کر ابھری ہے۔ یہ چپس، چِپ لیٹس، میموری، فوٹونکس، سینسرز، آر ایف پرزہ جات اور پاور ڈیوائسز کو ایسے انتہائی فعال سسٹمز میں یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو مصنوعی ذہانت(اے آئی)، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، مواصلات، ٹرانسپورٹیشن، صحت، دفاع اور کنزیومر الیکٹرانکس کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔
جیسے جیسے اے آئی کی مانگ بڑھ رہی ہے، جدید پیکیجنگ ایک ایسی کلیدی تکنالوجی بنتی جا رہی ہے جو سیمی کنڈکٹر کی جدت کو حقیقی دنیا کی ایپلی کیشنز سے مربوط کرتی ہے۔ اس موقع کو صنعت کی اس بنیادی تبدیلی سے مزید تقویت ملتی ہے جو روایتی سسٹم آن چِپ (ایس او سی) کے ماڈل سے ہٹ کر اب سسٹم آن پیکیج (ایس او پی) کے ماڈل کی جانب منتقل ہو رہی ہے—یہ ایک ایسا تصور ہے جس کی بنیاد میں نے جارجیا ٹیک میں رکھی تھی۔ کئی دہائیوں تک، سیمی کنڈکٹر کی ترقی کا انحصار کارکردگی کو بہتر بنانے اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹرانزسٹر اسکیلنگ پر تھا۔ آج، اسکیلنگ کو طبیعی، الیکٹریکل اور معاشی رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ سیمی کنڈکٹر کی جدید ترین فیبریکیشن (تیاری) کی لاگت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجتاً، جدت اب ٹرانزسٹر کی سطح سے نکل کر پیکیج اور سسٹم کی سطح پر منتقل ہو رہی ہے۔
بھارت کے لیے، جدید پیکیجنگ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کی دنیا میں داخل ہونے کا ایک عملی اور انتہائی پرکشش راستہ ہے۔ ایڈوانسڈ ویفر فیبریکیشن کی سہولیات، جن کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، کے برعکس جدید پیکیجنگ میں نمایاں طور پر کم سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ یہ مینوفیکچرنگ اور جدت طرازی کے اعلیٰ مواقع پیدا کرتی ہے۔ متعدد مخصوص چپس کو موزوں ترین آرکیٹکچر میں یکجا کر کے، ایڈوانسڈ پیکیجنگ زیادہ فعالیت، بہتر کارکردگی، کم بجلی کی کھپت، تیز رفتار ڈویلپمنٹ سائیکلز اور ڈیزائن میں لچک فراہم کرتی ہے۔ میری رائے میں، بھارت کا عزم اس تبدیلی میں محض حصہ لینے سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔ ملک کو ایڈوانسڈ پیکیجنگ کے مخصوص تزویراتی شعبوں میں عالمی لیڈر بننے کی خواہش کرنی چاہیے۔ اس وژن کے لیے سیمی کنڈکٹر سے سسٹمز کے ایک ایسے جامع ایکو سسٹم کی ضرورت ہے جو سسٹم ڈیزائن اور آرکیٹیکچر، ایڈوانسڈ سبسٹریٹس اور انٹر کنیکٹ ٹیکنالوجیز، اندرونی برقی انضمام، اسمبلی اور ٹیسٹنگ، پائیدار انجینئرنگ، افرادی قوت کی ترقی، کاروباری شکل دینے اور اسٹارٹ اپس کی تخلیق تک پھیلا ہوا ہو۔
اس نظریے کے مرکز میں ایک قومی اختراعی نظام ہے جو تعلیمی شعبے، صنعت، اسٹارٹ اپس اور حکومت کے درمیان مضبوط شراکت داری کے ذریعے تعمیر کیا گیا ہو۔ میں آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایس سی، اور بی آئی ٹی ایس جیسے معروف اداروں میں 9 ‘انڈسٹری کو-ڈویلپمنٹ ٹیکنالوجی سینٹرز’ قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ آئی آئی ٹی گاندھی نگر میں ایک نیشنل سسٹم انٹیگریشن سینٹر اور ایک پائلٹ لائن قائم کی جائے۔ یہ مراکز چِپ لیٹ آرکیٹیکچرز، گلاس کور سبسٹریٹس، پاور ایفیشینٹ پیکیجنگ، فوٹونک پیکیجنگ، تھرمل مینجمنٹ، ریلائیبلٹی انجینئرنگ اور ایڈوانسڈ ٹیسٹنگ جیسی اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کریں گے۔ پائلٹ لائن ریسرچ اور مینوفیکچرنگ کے درمیان ایک اہم پُل کا کام کرے گی، جس سے لیبارٹری کی ایجادات کو تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات میں تبدیل کرنے کی رفتار تیز ہوگی۔ یہ محققین، طلباء، اسٹارٹ اپس اور صنعتی شراکت داروں کو تجارتی لانچ سے قبل اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے، جانچنے اور بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کرنے کا ماحول فراہم کرے گا۔
اس حکمت عملی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا ‘تقسیم شدہ اختراعی ماڈل’ ہے۔ وسائل اور مہارت کو ایک جگہ مرکوز کرنے کے بجائے، ملک بھر میں پھیلے ہوئے مخصوص مراکز تکمیلی صلاحیتوں پر توجہ دیں گے۔ یہ ‘ہب اینڈ اسپوک’ طریقہ کار بھارت کی متنوع صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے گا، علاقائی ٹیلنٹ کو نکھارے گا، لچک کو بہتر بنائے گا، صنعت کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ملک بھر میں جدت کی رفتار کو تیز کرے گا۔ صنعت کے ساتھ گہرا تعاون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تحقیق مارکیٹ کی ضروریات کے عین مطابق رہے اور تیزی سے تجارتی مینوفیکچرنگ کی جانب بڑھے۔ افرادی قوت کی ترقی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ سیمی کنڈکٹر کی صنعت کو ہزاروں انجینئرز، سائنسدانوں، ٹیکنیشنز، آپریٹرز اور مینوفیکچرنگ کے ماہرین کی ضرورت ہوگی۔
بھارت بین الضابطہ تعلیمی پروگراموں، صنعتی انٹرنشپ، پیشہ ورانہ سرٹیفیکیشن، پائلٹ لائن ٹریننگ، اور مشترکہ تحقیقی اقدامات کے ذریعے اس ٹیلنٹ پائپ لائن کو تیار کر سکتا ہے۔ تعلیم کو صنعت کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے، یہ ملک دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ قابل سیمی کنڈکٹر افرادی قوت تیار کر سکتا ہے۔ جدید پیکیجنگ تکنیکی خود انحصاری، اقتصادی ترقی اور قومی سلامتی کے حوالے سے بھارت کے وسیع تر اہداف کی بھی تائید کرتی ہے۔ چونکہ عالمی سپلائی چینز قابل اعتماد مینوفیکچرنگ اور انوویشن پارٹنرز کی تلاش میں ہیں، بھارت ایڈوانسڈ پیکیجنگ، اسمبلی اور ٹیسٹنگ کے لیے ایک پسندیدہ ترین مقام بن کر ابھر سکتا ہے۔ یہ حکمت عملی درآمدات پر انحصار کم کر سکتی ہے، اعلیٰ قیمتی ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے، سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی ہے، اسٹارٹ اپس کے قیام کی رفتار تیز کر سکتی ہے اور قومی مسابقت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
تاہم، اس وژن کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل عزم، اسٹریٹجک سرمایہ کاری، مربوط پالیسیوں اور حکومت، صنعت اور تعلیمی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت ہوگی۔ تاہم اس کے ثمرات بلاشبہ انقلابی ہوں گے۔
**
(مصنف ایڈوانسڈ پیکیجنگ کے بانی، جارجیا ٹیک کے اعزازی ریٹائرڈ پروفیسر، اور آئی ایس ایم کے مشیر ہیں)




