پاکستان میں نماز کے دوران خودکش حملہ، 16 ہلاک

دہشت گردوں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو ٹکر مار دی، اس سال 1000 سے زائد افراد ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران ایک مسجد کے قریب دھماکہ ہوا۔ سولہ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شامل ہیں۔دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ مسجد کا بیرونی حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ دھماکے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی تھی۔جنوری سے اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے 990 واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں 1,129 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔واقعے کے بعد پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سات دہشت گردوں نے پولیس لائنز کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ خودکش حملہ آور سمیت چھ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
دہشت گرد اتحاد اتحاد المجاہدین پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ تنظیم گزشتہ سال بنائی گئی تھی اور یہ پاکستان میں کئی عسکریت پسند گروپوں پر مشتمل ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی مکمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا انتہائی غلط اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے حکام کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ آفریدی نے کہا، “دہشت گردوں کی ایسی کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔”پاکستان میں رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق جنوری سے اگست 2026 تک پاکستان بھر میں 990 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1,126 افراد ہلاک ہوئے۔
اگست میں سب سے زیادہ 199 حملے ہوئے، اس کے بعد جولائی میں 144 حملے ہوئے، جو کہ ایک ماہ میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے اگست میں 158 افراد ہلاک ہوئے جبکہ جولائی میں یہ تعداد 268 تھی۔

Related Articles