بھاگوت نے نیویارک میں کہا – ہندوستان کے ڈی این اے میں اتحاد اور تنوع:

ہم مختلف ہونے کے باوجود جڑے ہوئے ہیں، غلط سوچ انسانوں کو جانوروں کے قریب لاتی ہے۔

نئی دہلی/نیویارک، 30 اگست آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ہفتے کی رات نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں 42 منٹ کی تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد اور تنوع ہندوستان کے ڈی این اے میں ہے۔ لوگ مختلف نظر آتے ہیں، ان کے طرز زندگی مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن سب کے درمیان ایک فطری تعلق ہے۔
بھاگوت نے کہا، “تنوع میں اتحاد ہندوستان کی روایتی سوچ ہے، اور ملک نے بارہا دنیا کے سامنے اس کا مظاہرہ کیا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ “سوچنے کی صلاحیت انسانیت کے لیے ایک نعمت ہے، صحیح سوچ انسان کو خدا کے قریب لاتی ہے، جب کہ غلط سوچ انھیں جانوروں کے قریب کر دیتی ہے۔”امریکہ کے نیویارک شہر کے مین ہٹن میں ’ایہیڈ فورم‘ کے زیر اہتمام منعقدہ عالمگیر یگانگت تقریب یعنی ’یونیورسل آن نیس سیلیبریشن‘ کے دوران دنیا بھر کے مذہبی رہنماوں نے واضح طور پر کہا کہ مذہب کو نفرت، توہین، غیر انسانی سلوک یا تشدد کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس پروگرام میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی شرکت کی۔مذہبی رہنماوں نے نیویارک کے مین ہٹن میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، تشدد اور تقسیم کے ماحول کے درمیان منعقدہ ’ایک دنیا: ایک انسانیت سربراہ اجلاس‘ کے تحت منظور کیے گئے اعلامیے میں ہر برادری کے وقار اور تحفظ کے لیے کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مذہب اور عقیدہ ٹریٹمنٹ اور مفاہمت کا ذریعہ رہے ہیں، وہیں ان کا غلط استعمال تقسیم اور تشدد کو جواز فراہم کرنے کے لیے بھی کیا گیا ہے۔اس موقع پر جاری کیے گئے پانچ نکاتی اعلامیے میں پہلا نکتہ برادریوں کے خود احتسابی سے متعلق ہے۔ اس کے تحت سب سے پہلے اپنی ہی برادری کی تعلیمات اور طرزِ عمل کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت، غیر انسانی رویوں اور تشدد کو مکمل طور پر مسترد کرنا اور مختلف خیالات رکھنے والوں کے احترام کو فروغ دینا بھی اس کا حصہ ہے۔دوسرا نکتہ: بحران کے وقت دوسری برادریوں کا ساتھ دینا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب کسی برادری یا فرد کو نشانہ بنایا جائے تو اس کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی دوسرے کے دکھ کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہمارا اپنا نہیں ہے۔

تیسرا نکتہ: مکالمہ اور نوجوانوں کی شمولیت۔ اس کے تحت کسی سانحے کا انتظار کیے بغیر مذہبی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہو کر مختلف برادریوں، خصوصاً نوجوانوں، کو ایک دوسرے کے قریب لانے پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد تعصبات کو ختم کرکے انسانی سطح پر مضبوط تعلقات قائم کرنا ہے۔

چوتھا نکتہ: مل کر خدمت کے کام کرنا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بے گھر اور بے سہارا افراد، متاثرین، مریضوں اور نظر انداز کیے جانے والے لوگوں کی مدد کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس میں کسی کریڈٹ یا شہرت کی خواہش کے بغیر پہلے سے جاری فلاحی اور خدمت کے کاموں کی حمایت کرنا بھی شامل ہے۔

پانچواں نکتہ: مستقبل کے تئیں اپنی ذمہ داری قبول کرنا۔ اعلامیے میں جنگ، امن، غربت کے خاتمے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے اخلاقی اصولوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ ٹیکنالوجی انسانی وقار، سچائی اور آزادی کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنے۔

کانفرنس میں رہنماوں نے زور دیا کہ کوئی بھی عالمی دستاویز اسی وقت بامعنی ثابت ہوتی ہے جب اسے مقامی سطح پر حقیقی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تمام نمائندوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسے گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیں جو عام طور پر ایک دوسرے سے مکالمہ نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ مل کر خدمت کے کام انجام دینے پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذہبی رہنما اکیلے تمام جنگوں یا دیگر ناانصافیوں کا خاتمہ نہیں کر سکتے، لیکن وہ بے اختیار بھی نہیں ہیں۔ مشترکہ انسانی وقار اور باہم مربوط مستقبل کی تعمیر کے لیے ہر برادری کو اپنی سطح پر جرات مندانہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ اس پروگرام میں امریکہ کی 39 ریاستوں اور 853 شہروں سے آئے 6,000 نمائندوں، مختلف یونیورسٹیوں کے 250 سے زائد طلبہ اور 250 سے زائد تنظیموں نے شرکت کی۔ پروگرام میں 30 ممالک کے 180 مذہبی رہنماوں نے مستقبل کے تئیں ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے پانچ نکاتی لائحہ عمل کا اعلان کیا۔

 

Related Articles