خدارا! اس نفرت کی آندھی کو روکنا ہوگا

مطیع الرحمن عزیز
معاشرہ صرف اینٹ، پتھر، سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں؛ معاشرہ انسانوں کے باہمی اعتماد، احترام، رواداری اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے سے تشکیل پاتا ہے۔ جب دلوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگیں، ایک دوسرے کی شناخت خوف اور شک کی علامت بن جائے، اور مذہب، لباس، نام یا حلیہ کسی انسان کے ساتھ برتاو کا معیار بننے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔آج ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک میں اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف حلقوں سے وقتاً فوقتاً ایسے واقعات اور شکایات سامنے آتی ہیں جن میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی برتاو، سماجی بائیکاٹ، نفرت انگیز گفتگو یا کاروباری معاملات میں دوری کی بات کی جاتی ہے۔ اگر انفرادی واقعات اجتماعی ذہنیت میں تبدیل ہونے لگیں تو یہ محض کسی ایک برادری کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کے امن، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
ذرا تصور کیجیے کہ ایک شخص صبح اپنے آٹو رکشہ کے ساتھ روزی کمانے نکلتا ہے۔ اس کی محنت کا مقصد اپنے گھر کا چولہا جلانا، بچوں کی تعلیم کا انتظام کرنا اور اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ لیکن اگر صرف اس کے نام یا مذہبی شناخت کی وجہ سے کوئی مسافر اس کی سواری سے گریز کرے تو سوال صرف اس ایک شخص کے ساتھ ہونے والے ممکنہ امتیاز کا نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا ہے جو محنت کرنے والے انسان کو اس کی قابلیت اور کردار کے بجائے اس کی مذہبی شناخت سے دیکھتی ہے۔اسی طرح اگر کسی آن لائن ٹیکسی یا ڈلیوری سروس پر ڈرائیور یا ڈلیوری کارکن کا نام دیکھ کر کوئی شخص بلاوجہ سفر یا آرڈر منسوخ کرتا ہے، یا کسی دکاندار، سبزی فروش یا چھوٹے کاروباری کے ساتھ صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر خرید و فروخت سے گریز کیا جاتا ہے، تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم کس سمت بڑھ رہے ہیں۔البتہ ہر منسوخی، ہر کاروباری فیصلہ یا ہر انفرادی واقعے کو مذہبی تعصب قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ کسی دعوے کو ثبوت، سیاق و سباق اور قابل اعتماد معلومات کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ مگر جہاں واقعی مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیاز ثابت ہو، وہاں خاموش رہنا بھی مناسب نہیں۔
نفرت اچانک سڑکوں پر نہیں اترتی۔ اس کی ابتدا اکثر زبان سے ہوتی ہے۔ پہلے کسی گروہ کے بارے میں تحقیر آمیز جملے کہے جاتے ہیں، پھر ان جملوں کو مذاق کا نام دیا جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر انہیں بار بار پھیلایا جاتا ہے، پھر سیاسی مفادات کے لیے انہیں استعمال کیا جاتا ہے، اور بالآخر وہی الفاظ کچھ لوگوں کے ذہن میں تعصب کو معمول بنا دیتے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ برسوں پرانے بیانات، تقاریر، ویڈیوز اور اشتعال انگیز جملے آج بھی نئے عنوانات کے ساتھ گردش کرتے رہتے ہیں۔ ایک نسل کے سامنے کہی گئی بات دوسری نسل کے ماحول کو بھی متاثر کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خبر ہو، ویڈیو ہو، بیان ہو یا کوئی الزام—اسے آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت جانچنا انتہائی ضروری ہے۔قرآن کریم کا واضح اصول ہے:”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔”یہ اصول صرف مذہبی تعلیم نہیں بلکہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ذمہ دار شہری زندگی کی بھی بنیادی ضرورت ہے۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کریں، اپنے منشور پیش کریں، عوام سے ووٹ مانگیں اور حکومت کی پالیسیوں پر بحث کریں—یہ سب جمہوریت کا حصہ ہے۔لیکن جب انتخابی فائدے کے لیے مذہبی شناخت کو خوف، شک یا نفرت پیدا کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کے نتائج صرف انتخابات تک محدود نہیں رہتے۔ انتخاب گزر جاتا ہے، مگر معاشرے میں پیدا کیا گیا شک اور باہمی بداعتمادی برسوں باقی رہ سکتی ہے۔کسی بھی سیاسی رہنما کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے الفاظ کی طاقت اور ذمہ داری کو سمجھے۔ ایک مقبول سیاست دان کا ایک جملہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے سیاسی قیادت سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود سماجی امن، آئینی مساوات اور شہری بھائی چارے کو مقدم رکھے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ماحول میں نفرت بڑھ رہی ہے تو مسلمان معاشرہ کیا کرے؟صرف شکایت کرنا کافی نہیں ہوگا۔صرف سوشل میڈیا پر غصہ نکالنا بھی کافی نہیں ہوگا۔صرف یہ کہنا بھی کافی نہیں ہوگا کہ دوسرے لوگ ہمارے خلاف ہیں۔مسلمانوں کے باشعور، تعلیم یافتہ، سماجی اور مذہبی حلقوں کو مل بیٹھ کر ایک مثبت، پ ±رامن اور طویل المدت حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔ اس حکمتِ عملی کا مرکز انتقام نہیں بلکہ رابطہ، مکالمہ، تعلیم، قانون، خدمت اور کردار ہونا چاہیے۔اگر کسی جگہ واقعی امتیازی سلوک ہو رہا ہے تو ثبوت جمع کیے جائیں، قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور متعلقہ اداروں سے شکایت کی جائے۔ لیکن پورے معاشرے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا یا ہر اختلاف کو مذہبی دشمنی سمجھ لینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
ہمارے مساجد اور مدارس صرف عبادت اور تعلیم کے مراکز نہیں، بلکہ معاشرے کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں ممکن ہو، مقامی سطح پر بین المذاہب مکالمے، تعارفی نشستیں، تعلیمی پروگرام اور سماجی خدمت کے منصوبے منعقد کیے جائیں۔ غیر مسلم پڑوسیوں کو اپنے پروگراموں میں مدعو کیا جائے، ان کے تہواروں اور خوشیوں کے بارے میں احترام کے ساتھ جانا جائے، اور اپنے مذہب کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دلیل، اخلاق اور حسنِ سلوک کے ذریعے دور کیا جائے۔یہ کام صرف علماءیا مذہبی رہنماوں کا نہیں۔ اس میں اساتذہ، صحافی، وکلا، تاجر، طلبہ، سماجی کارکن اور عام شہری سب اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرے میں فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے خود کیا کر رہے ہیں؟اگر ہمارے موبائل فون میں برسوں سے کسی غیر مسلم دوست، پڑوسی یا ساتھی کا نمبر محفوظ ہے تو کبھی اس کا حال پوچھ لیجیے۔ کبھی کسی ہندو پڑوسی کے گھر جا کر صرف خیریت دریافت کیجیے۔ کبھی کسی غیر مسلم ساتھی کو اپنے گھر چائے پر بلائیے۔ اپنے بچوں کو بھی بتائیے کہ اختلافِ عقیدہ دشمنی کا نام نہیں۔اسی طرح ہمارے ہندو بھائیوں اور دیگر برادریوں کے باشعور افراد کو بھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی ہر بات کو بلا تحقیق قبول نہ کریں۔ کسی مسلمان کی شناخت اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے کردار، عمل اور انسانیت سے کی جانی چاہیے۔
اگر کوئی شخص نفرت پھیلاتا ہے تو اس کے جواب میں پوری برادری سے نفرت کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ اگر کسی فرد نے جرم کیا ہے تو قانون اسے سزا دے، مگر اس کے جرم کا بوجھ پوری مذہبی یا سماجی برادری پر نہیں ڈالا جا سکتا۔اسی طرح اگر کسی مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کا جواب کسی دوسرے مذہب کے بے گناہ انسان کے خلاف نفرت نہیں ہونا چاہیے۔انصاف فرد کے عمل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، مذہبی شناخت کی بنیاد پر نہیں۔یہی اصول ہندوستان جیسے ملک کو جوڑ سکتا ہے۔
نفرت کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب افواہ عدالت کی جگہ لے لے، ہجوم قانون کی جگہ لے لے اور غصہ انصاف کی جگہ لے لے۔کسی بھی انسان پر الزام لگنے کے بعد فیصلہ عدالت اور قانون کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ہجوم کو کسی کی جان، عزت یا املاک کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔تشدد کی آگ کسی ایک گھر تک محدود نہیں رہتی۔ آج اگر کسی اور کے گھر کو آگ لگائی جائے اور ہم خاموش رہیں تو کل وہ آگ ہمارے دروازے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اس لیے موب لنچنگ، مذہبی تشدد، نفرت انگیز جرائم اور اجتماعی بائیکاٹ کے ہر غیر قانونی رویے کی مخالفت ہونی چاہیے—خواہ متاثرہ شخص کسی بھی مذہب یا برادری سے تعلق رکھتا ہو۔آج خبر صرف اخبار کے صفحات تک محدود نہیں۔ ایک موبائل فون چند سیکنڈ میں کسی خبر کو لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے صحافی، ایڈیٹر، یوٹیوبر اور سوشل میڈیا صارف سب کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔سرخی ایسی نہ ہو جو حقیقت سے زیادہ اشتعال پیدا کرے۔تصویر ایسی نہ ہو جو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کی گئی ہو۔ویڈیو ایسی نہ ہو جس کے اصل پس منظر کی تحقیق نہ کی گئی ہو۔اور الزام کو اس وقت تک حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے جب تک اس کی تصدیق نہ ہوجائے۔خبر کی رفتار سے زیادہ اہم خبر کی سچائی ہے۔

 

Related Articles