نیپال میں سیلاب قدرت کے نظام سے سبق لینے کا موقع
آسمانی آفات، انسانی نقصانات کیلئے حفاظتی تدابیر اور اس پر غور وخوض ضروری
سید شاہ واصف حسن واعظی
سجادہ نشین خانقاہ عالیہ وارثیہ حسنیہ، لکھنؤ
نیپال میں 26 اگست کو آنے والی اچانک اور تباہ کن سیلابی لہر نے پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ قدرت کے سا
منے انسان کی طاقت، ترقی، تعمیرات اور منصوبہ بندی کس قدر بے بس ہوسکتی ہے۔ چند لمحوں میں برسوں کی محنت سے آباد بستیاں ملبے میں تبدیل ہوگئیں، سڑکیں اور پل بہہ گئے، بجلی کے منصوبے تباہ ہوگئے اور ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر رہ گئے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 669 تک پہنچ چکی ہے، تبت میں بھی اموات ہوئی ہیں، جبکہ تقریباً تین ہزار افراد لاپتہ ہیں۔یہ محض ایک سیلاب نہیں تھا بلکہ پانی، برف، چٹان، مٹی اور ملبے کا ایسا بے قابو طوفان تھا جس نے انسان کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں دیا۔ ہمالیہ کے بلند علاقوں میں گلیشیئر کا ایک حصہ اچانک ٹوٹا، برف اور چٹانوں کا زبردست بہاؤ نیچے آیا اور دریائی راستے میں مٹی اور پتھروں کا قدرتی بند بن گیا۔ بعد میں اس بند کے ٹوٹنے سے پانی اور ملبے کی انتہائی تیز رفتار لہر نیچے کی طرف بڑھی اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گئی۔ ماہرین کے مطابق بعض مقامات پر دریائے ترشولی کی سطح صرف تیس منٹ میں تقریباً نو میٹر تک بلند ہوگئی۔اس تباہی کی سب سے ہولناک بات اس کی اچانک آمد تھی۔ لوگ معمول کی زندگی میں مصروف تھے اور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چند لمحوں بعد گھر، دکانیں اور آبادیاں باقی رہیں گی یا نہیں۔ متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں پانی اور کیچڑ کی خوفناک رفتار نے دنیا کو لرزا دیا ہے۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کے پاس محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے انتہائی مختصر وقت تھا۔
سوچیے، جو شخص صبح اپنے گھر سے نکلا ہوگا، اسے کیا معلوم تھا کہ شام تک اس کا گھر باقی رہے گا یا نہیں؟ جس ماں نے اپنے بچے کو گھر میں چھوڑا ہوگا، کیا اسے اندازہ تھا کہ چند لمحوں بعد وہ اپنے لخت جگر کی تلاش میں دربدر ہوگی؟ کتنے نوجوان اپنے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہوں گے، کتنے گھروں میں شادیوں کی تیاریاں ہونے والی ہوں گی اور کتنے والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے منتظر ہوں گے، مگر ایک اچانک آنے والی سیلابی لہر نے ان تمام خوابوں کو اپنے ساتھ بہا دیا۔اس سانحے میں مقامی باشندوں کے ساتھ سیاح، مزدور اور بجلی کے منصوبوں پر کام کرنے والے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ متعدد خاندان آج بھی اسپتالوں، امدادی مراکز اور حکومتی دفاتر میں اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں۔ بہت سے خاندانوں کیلئے بے خبری کا یہ عذاب شاید موت کی خبر سے بھی زیادہ اذیت ناک ہے۔
قدرتی آفات کا یہ واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ صرف مضبوط عمارتیں بنانا کافی نہیں، مضبوط حفاظتی نظام بھی ضروری ہے۔ ہمالیہ کا خطہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز میں تیزی سے ہونے والی تبدیلی اور شدید موسمی واقعات کے باعث مسلسل خطرات سے دوچار ہے۔ نیپال، بھارت، چین اور پورے ہندوکش ہمالیہ کے لیے یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ بروقت اطلاع، دریاؤں کی مسلسل نگرانی، سیٹلائٹ کے ذریعے خطرناک تبدیلیوں کی نشاندہی اور سرحد پار مؤثر ابتدائی وارننگ کا نظام ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے۔یہاں ایک اہم حقیقت کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں بعض حلقوں کی جانب سے چین کی طرف کسی بند کے ٹوٹنے کو سیلاب کی وجہ قرار دیا گیا، تاہم بعد کی سائنسی اور صحافتی تحقیقات میں اس واقعے کی بنیادی وجہ گلیشیئر کے انہدام، برف و چٹان کے تودے اور اس سے بننے والے قدرتی بند کے ٹوٹنے کو قرار دیا گیا ہے۔ چین نے بھی کسی تعمیر شدہ ڈیم کے ٹوٹنے کی تردید کی ہے۔ ایسے المناک واقعات میں غیرمصدقہ دعوؤں کے بجائے حقائق کو سامنے رکھنا ہی صحافت کا تقاضا ہے۔لیکن اس سانحے کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے محض سائنسی تجزیے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ یہ انسان کیلئے اپنی حقیقت پہچاننے کا لمحہ بھی ہے۔ انسان اپنی طاقت، دولت، منصب، شہرت اور اختیار پر کتنا ہی ناز کرے، قدرت کا ایک لمحہ اسے اس کی بے بسی یاد دلا دیتا ہے۔ جسے اپنے گھر، زمین اور دولت پر غرور ہوتا ہے، وہ چند لمحوں میں اسی زمین پر پناہ کی جگہ تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ جو دوسروں کو کمتر سمجھتا ہے، اسے ایک لمحے میں صرف زندگی بچانے کی فکر رہ جاتی ہے۔ہماری زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم خطرے کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے جاگتے ہیں اور حالات معمول پر آتے ہی دوبارہ غفلت میں چلے جاتے ہیں۔ نیپال کی تباہی ہمارے لیے بھی سوال ہے کہ کیا ہم اپنے شہروں، دریاؤں، پہاڑی علاقوں اور آبادیوں کے خطرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں؟ کیا ہمارے پاس ایسے ہنگامی نظام موجود ہیں جو لوگوں کو بروقت خبردار کرسکیں؟ کیا قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری قومی ترجیح ہے یا ہم ہر سانحے کے بعد صرف امداد اور معاوضے تک محدود رہتے ہیں؟
اس وقت سب سے پہلی ضرورت الزام تراشی نہیں بلکہ انسانوں کی مدد ہے۔ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں، ان کے گھر اور روزگار ختم ہوچکے ہیں، خاندان بچھڑ گئے ہیں اور بہت سے لوگ شدید صدمے سے گزر رہے ہیں۔ حکومتوں، امدادی اداروں، عالمی تنظیموں اور صاحب حیثیت افراد کو صرف فوری خوراک اور خیموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ متاثرین کی مکمل بازآبادکاری کا منصوبہ بنانا چاہیے۔بھارت سمیت پڑوسی ممالک کی ذمہ داری بھی اس موقع پر بڑھ جاتی ہے۔ ہمالیہ سے نکلنے والے دریا سرحدوں کو نہیں مانتے۔ ایک ملک میں آنے والی قدرتی تباہی دوسرے ملک کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہند، نیپال اور چین کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ہمالیائی خطے کے لیے مشترکہ سیلابی وارننگ، گلیشیئر نگرانی، آفات سے نمٹنے اور ہنگامی مواصلات کا مستقل نظام تشکیل دینا چاہیے۔اور پھر اس سب کے درمیان انسان کے لیے سب سے بڑا سبق موجود ہے۔ دنیا ہماری مستقل رہائش گاہ نہیں۔ دولت، مکان، زمین، کاروبار، اقتدار اور عہدے اسی وقت تک ہیں جب تک زندگی ہے۔ ایک پل میں سب کچھ ختم ہوسکتا ہے۔ اس لیے دوسروں کے حقوق پامال کرکے، ظلم و زیادتی کرکے، کمزوروں کو دباکر اور انسانوں کو حقیر سمجھ کر زندگی گزارنا کسی دانائی کی علامت نہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے، مگر اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی دی ہے۔ مصیبت زدہ انسان کی مدد کرنا، بھوکے کو کھانا دینا، بے گھر کو سہارا دینا اور پریشان حال خاندان کے آنسو پونچھنا ہماری انسانی، اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ نیپال کے متاثرین کو اس وقت ہماری ہمدردی، دعا اور عملی تعاون کی ضرورت ہے۔قدرتی آفت کے ہر واقعے کو فوری طور پر کسی مخصوص قوم کے اعمال پر ’’عذاب‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ غیب کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ البتہ ہر مصیبت انسان کے لیے عبرت ضرور بن سکتی ہے۔ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ، اللہ کی طرف رجوع اور ساتھ ہی ان عملی اسباب کو مضبوط کرنا چاہیے جن سے آئندہ قیمتی جانیں بچائی جاسکیں۔نیپال کی وادیوں میں بہنے والا پانی اپنے ساتھ صرف مٹی، پتھر اور عمارتیں نہیں لے گیا، وہ انسان کے غرور کے سامنے ایک بڑا سوال بھی چھوڑ گیا ہے۔ اگر چند لمحوں میں آبادیاں اجڑ سکتی ہیں تو انسان کس بات پر اتنا مغرور ہے؟ اگر زندگی اور موت کے درمیان چند سیکنڈ کا فاصلہ رہ جائے تو نفرت، ظلم، تکبر اور باہمی دشمنی کا کیا مطلب ہے؟
شاید اس سانحہ کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ انسان وقت رہتے جاگ جائے، اپنی طاقت کے زعم سے باہر نکلے، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، قدرت کے اشاروں کو سنجیدگی سے لے اور اپنے رب کے سامنے اپنی بے بسی کو تسلیم کرے۔ نیپال کے سیلاب میں بہنے والے لوگوں کو واپس نہیں لایا جاسکتا، مگر ان کی قربانی کو بے معنی ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بہتر حفاظتی نظام، بروقت وارننگ، باہمی تعاون اور انسان دوستی اس سانحہ کے ملبے سے نکل کر نئی فضا پیدا کرسکتے ہیں۔
اللہ رب العالمین نیپال کے متاثرین پر رحم فرمائے، مہلوکین کی مغفرت فرمائے، لاپتہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملائے، زخمیوں کو صحت عطا فرمائے، بے گھر خاندانوں کو سہارا دے اور پوری دنیا کو ایسی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔





