جنگ کے ملبے پر امن کی دستک اور مشرق وسطیٰ کا نیا امتحان

سید شاہ واصف حسن واعظی
سجادہ نشین خانقاہ عالیہ وارثیہ حسنیہ، لکھنؤ
مشرق وسطیٰ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ صرف ایک فیصلہ، ایک غلط فہمی یا ایک غیر ذمہ دارانہ بیان جتنا رہ گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، سفارتی مذاکرات کا تعطل، نئی امریکی پابندیوں کی دھمکیاں، ایران کی جانب سے فوجی تیاریوں میں اضافے کے اعلانات اور لبنان کی معیشت پر پڑنے والے جنگ کے تباہ کن اثرات نے یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے کہ آخر اس بحران کا اختتام کہاں ہوگا؟ ایسے وقت میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ اب امریکہ کے ساتھ جنگ کو ’’طاقت اور وقار‘‘ کی پوزیشن سے ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں سفارت کاری کے لیے ایک اہم اشارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔پزشکیان نے ڈاکٹروں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے اور اب جنگ ختم کرنے کا مناسب وقت ہے۔ انہوں نے ایران کی فتح کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکہ پر اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ بظاہر اس بیان کا مقصد داخلی سطح پر ایرانی عوام کو یہ پیغام دینا ہے کہ مذاکرات کی طرف واپسی کسی کمزوری یا پسپائی کی علامت نہیں ہوگی بلکہ اسے ایران اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں جنگی سیاست اور سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیتی ہیں۔
ایران کے صدر نے جون میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے عبوری سمجھوتے کا بھی دفاع کیا اور واضح کیا کہ اس میں ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے یا یک طرفہ دستبرداری کی کوئی شرط نہیں تھی۔ یہ سمجھوتہ 60 روز کے اندر ایک وسیع تر معاہدے کی بنیاد بننا تھا، لیکن دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگاتے رہے اور 17 اگست کو اس کی مقررہ مدت ختم ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی 17 اگست کو اس سمجھوتے کو آگے بڑھانے کے بجائے ایران پر مزید دباؤکی پالیسی اختیار کرنے کے اشارے دیے تھے۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا ہے، لیکن اس کے دونوں جانب جنگی تیاریوں کی دیواریں ضرور بلند ہوگئی ہیں۔ ایران کے ماسکو میں سفیر کاظم جلالی کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تہران ایک طرف اپنی دفاعی صلاحیت کو بلند ترین سطح پر رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے امکان کو بھی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ روس کی جانب سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مکالمے کی حمایت بھی اس بحران کو وسیع علاقائی جنگ بننے سے روکنے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔لیکن دوسری طرف واشنگٹن سے آنے والے بیانات صورتحال کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کررہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا کی ایک ریلی میں ابنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی بات کی۔ یہ محض الفاظ کا انتخاب نہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں سے ایک ہے اور اس پر جاری کشیدگی نے پہلے ہی عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ امریکی اور ایرانی مؤقف میں اس قدر سختی موجود ہے کہ معمولی سی غلط فہمی بھی بڑے عسکری تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کا یہ کہنا بھی قابل غور ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس تہران مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کررہا ہے، اگرچہ وہ اسے اپنی شرائط اور اپنی طاقت کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے۔ یہی تضاد موجودہ بحران کا اصل مسئلہ ہے۔ دونوں ملک جنگ ختم کرنا چاہتے بھی ہوں تو سوال یہ ہے کہ کون پہلے قدم اٹھائے، کس قیمت پر اٹھائے اور اسے فتح یا شکست کے بجائے سیاسی سمجھوتے کے طور پر کیسے پیش کرے؟یہ تبدیلی محض فوجی حکمت عملی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی نئی سطح ہے۔ دفاعی نظریے میں دشمن کو روکنا بنیادی مقصد ہوتا ہے، جبکہ جارحانہ یا پیشگی کارروائی کی پالیسی میں ’’ممکنہ خطرے‘‘ کی تعریف بہت وسیع ہوسکتی ہے۔ اگر خطے کی مختلف طاقتیں اپنے اپنے خدشات کی بنیاد پر پیشگی کارروائیوں کو جائز سمجھنے لگیں تو جنگ کا دائرہ کسی ایک ملک تک محدود رہنا مشکل ہوجائے گا۔
اس بحران کی سب سے دردناک تصویر لبنان سے سامنے آ رہی ہے۔ عالمی بینک نے اپنی تازہ لبنان اکنامک مانیٹر رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ 2026 میں تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے سے لبنان کی کمزور معاشی بحالی کو شدید دھچکا لگا۔ 2025 میں لبنان کی حقیقی جی ڈی پی میں 4.2 فیصد اضافہ ہوا تھا، جو 2019 کے مالیاتی بحران کے بعد بہترین کارکردگی تھی، مگر موجودہ تنازع کے باعث عالمی بینک نے 2026 میں معیشت کے 6.4 فیصد سکڑنے کی پیش گوئی کی ہے۔ مہنگائی بھی 17.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ جنگ نے بنیادی ڈھانچے، رہائشی عمارتوں، سیاحت، سپلائی چین اور ملکی طلب کو متاثر کیا ہے اور بڑے پیمانے پر آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔لبنان کی یہ صورت حال اس حقیقت کا آئینہ ہے کہ جنگ صرف میزائلوں، طیاروں اور محاذوں کا نام نہیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات برسوں تک معاشروں، معیشتوں اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ ایک ملک جو کئی سال کے مالیاتی بحران کے بعد بحالی کی طرف بڑھ رہا تھا، دوبارہ جنگ کے باعث معاشی تنزلی کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اس تباہی کا سب سے بڑا بوجھ عام شہری اٹھاتا ہے، نہ کہ وہ طاقتور حلقے جو جنگ کے فیصلے کرتے ہیں۔اسی دوران امریکہ کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیاں اور دس افراد کو مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے وابستگی کے الزام میں پابندیوں کا نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ مالی اور علاقائی دباؤبھی بڑھا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک ایران، ترکی، متحدہ عرب امارات اور لبنان کے درمیان نقد رقوم منتقل کرنے کے لیے کمرشل پروازوں پر کورئیرز استعمال کرتا تھا اور اس کے ذریعے کروڑوں ڈالر کی منتقلی کی گئی۔ حزب اللہ نے ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اس کی مزاحمت کا راستہ تبدیل نہیں ہوگا۔
موجودہ مشرق وسطیٰ کا بحران ایک عجیب تضاد پیش کررہا ہے۔ ایک طرف ایرانی صدر جنگ کے خاتمے کی بات کررہے ہیں، دوسری طرف ایرانی فوج دفاع سے جارحانہ نظریے کی طرف بڑھنے کا اعلان کررہی ہے۔ ایک طرف ایران مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کررہا ہے، دوسری طرف امریکہ مزید سخت پابندیوں کی تیاری کررہا ہے۔ ایک طرف جنگ کے خاتمے کی ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے، دوسری طرف آبنائے ہرمز جیسے انتہائی حساس عالمی آبی راستے کو سیاسی کشمکش کا مرکز بنایا جارہا ہے۔اصل ضرورت اب یہ ہے کہ طاقت کے اظہار کو سفارت کاری کا متبادل نہ بنایا جائے۔ ایران اگر واقعی اپنی موجودہ پوزیشن کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سمجھتا ہے تو اسے اسی طاقت کو ایک قابل اعتماد سیاسی راستہ کھولنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ امریکہ بھی اگر خطے میں اپنے مفادات، عالمی تجارت اور توانائی کے راستوں کے تحفظ کو اہم سمجھتا ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی ملک کو مکمل طور پر دیوار سے لگا کر پائیدار امن حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ پابندیاں حکومتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، مگر اکثر ان کا سب سے بھاری بوجھ عام شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔
لبنان کی تباہ حال معیشت اس کا تازہ ثبوت ہے اور ابنائے ہرمز کی کشیدگی دنیا کو اس بات سے خبردار کررہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کا نقصان صرف ایران، امریکہ یا اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، تجارت، مہنگائی، روزگار اور عالمی معیشت تک پہنچیں گے۔ اس لیے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ فتح کے دعووں سے آگے بڑھ کر امن کی فتح کو یقینی بنایا جائے۔

Related Articles