ہیرا گروپ حامیوں کا صدر جمہوریہ۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو خط

ایجنسیوں کی غیر منصفانہ و عدالتی احکام کے مخالف کارروائی پر جانچ کا مطالبہ


نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز اور عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے متعلق جاری قانونی و انتظامی کارروائیوں کے درمیان کمپنی کے حامی سرمایہ کاروں کی جانب سے ملک کے اعلیٰ آئینی، عدالتی، حکومتی اور پارلیمانی عہدیداران کو ایک تفصیلی نمائندگی پیش کیے جانے کی اطلاع ہے۔ نمائندگی میں ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی، سرمایہ کاروں کے حقیقی دعووں اور (ایف ایف آئی او) کی فہرست کی مکمل جانچ سے قبل مزید کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نمائندگی صدرِ جمہوریہ ہندمحترمہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم ہندجناب نریند مودی، چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ، مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن، مرکزی وزیر قانون و انصاف جناب ارجن رام میگھوال اور قائدِ حزبِ اختلاف لوک سبھا جناب راہل گاندھی کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے متعلقہ حکام سے معاملے کا جائزہ لینے اور تمام متعلقہ فریقوں کے قانونی و مالی حقوق کے تحفظ کے لیے مناسب اقدام کی اپیل کی ہے۔
نمائندگی کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہیرا گروپ کے معاملے میں جن کلیمینٹس یا سرمایہ کاروں کے دعووں کو کارروائی کی بنیاد بنایا جا رہا ہے، ان کی شناخت، اصل سرمایہ کاری، پہلے موصول شدہ رقم، منافع اور حقیقی بقایا رقم کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تصدیق کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر ایس ایف آئی او کی فہرست کو بنیاد بنا کر ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی کی جا رہی ہے تو سب سے پہلے اس فہرست کی ہر دعویدار کے دعوے کی علیحدہ علیحدہ جانچ اور تصدیق اور مالیاتی حسابات کا باہمی ملاپ ضروری ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ حقیقی دعویدار کتنے ہیں اور موجودہ تاریخ میں کمپنی پر قانونی طور پر کتنی رقم واجب الادا ہے۔ نمائندگی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دستیاب ایس ایف آئی او سے متعلق اعداد و شمار میں بعض مقامات پر کلیمینٹس کی تعداد، آئی بی جی ریکارڈ، ”ایس ایف آئی او سے متعلق دستیاب معلومات و اعداد و شمار میں بعض مقامات پر دعویداروں کے تائیدی دستاویزات، سرمایہ کاری کے اعداد و شمار اور منافع سے متعلق اعداد و شمار میں فرق اور عدم مطابقت کے نکات سامنے آتے ہیں، جن کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔“ میں فرق اور عدم مطابقت کے نکات سامنے آتے ہیں، جن کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق محض کسی فہرست میں نام موجود ہونے کو حتمی مالی ذمہ داری تصور کرنے کے بجائے ہر دعوے کی دستاویزی تصدیق کی جانی چاہیے۔ اس عمل سے حقیقی سرمایہ کاروں اور غیر تصدیق شدہ یا متنازع دعووں کے درمیان واضح فرق قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ نمائندگی میں متعلقہ حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ جائیدادوں کی مزید نیلامی سے قبل یہ طے کیا جائے کہ :حقیقی اور تصدیق شدہ سرمایہ کار کتنے ہیں؛ ہر سرمایہ کار کی اصل سرمایہ کاری کتنی ہے؛ پہلے کتنی رقم واپس کی جا چکی ہے؛ منافع یا دیگر مدات میں کتنی رقم ادا ہوئی؛ موجودہ تاریخ میں حقیقی بقایا رقم کتنی ہے؛ اور ان واجبات کی ادائیگی کے لیے حقیقتاً کتنی جائیداد فروخت کرنا ضروری ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا شفاف مالیاتی جائزہ نہ صرف سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ کمپنی کے اثاثوں کی غیر ضروری یا کم قیمت پر فروخت کے خدشات کو بھی کم کرے گا۔
خط میں یہ موقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ اگر کمپنی کی جائیدادیں موجودہ مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر فروخت ہوئیں تو اس سے نہ صرف کمپنی کے اثاثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ حقیقی سرمایہ کاروں کو بھی مطلوبہ مالی فائدہ حاصل نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے درخواست گزاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر جائیدادوں کی نیلامی قانونی طور پر ضروری قرار پائے تو مکمل مالیت کا تعین، شفاف جائیدادوں کی نیلامی کا مکمل عمل اور حقیقی واجبات کے تعین کے بعد ہی اسے آگے بڑھایا جائے۔ نمائندگی میں صرف نیلامی پر نظرثانی کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ ہیرا گروپ آف کمپنیز کی ممکنہ قانونی بحالی یا کمپنی کی تنظیمِ نو کے امکانات پر بھی غور کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق اگر کمپنی کے کاروباری اثاثوں اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے ذریعے آمدنی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس آمدنی سے حقیقی سرمایہ کاروں کے واجبات زیادہ موثر انداز میں ادا کیے جا سکتے ہیں تو محض جائیدادیں فروخت کرنے کے بجائے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہیرا گروپ آف کمپنیز کی بحالی، تنظیمِ نو اور کاروباری سرگرمیوں کو قانون کے دائرے میں دوبارہ فعال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
درخواست گزاروں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ معاملے میں کسی بھی فریق کے حق یا مخالفت میں حتمی رائے قائم کرنے کے بجائے پہلے تمام متعلقہ ریکارڈ کی غیر جانب دارانہ جانچ کی جائے، حقیقی واجبات کا تعین کیا جائے اور اس کے بعد قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ : ”پہلے ایس ایف آئی او کلیمینٹ لسٹ کی مکمل جانچ، پھر حقیقی واجبات کا تعین، اس کے بعد ضرورت کے مطابق شفاف نیلامی اور حقیقی حقدار وں کو ان کا جائز حق دیا جائے۔ ”نمائندگی میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ اعلیٰ حکام معاملے کے تمام پہلووں، عدالتی احکامات، تحقیقاتی ریکارڈ، سرمایہ کاروں کے حقوق، کمپنی کے اثاثوں کی حقیقی مالیت اور قومی معاشی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب قانونی اقدام کریں گے، تاکہ حقیقی سرمایہ کاروں کو جلد از جلد راحت ملے اور اگر قانوناً ممکن ہو تو ہیرا گروپ کی مناسب بحالی یا تنظیمِ نو کی راہ بھی ہموار ہو سکے۔

Related Articles