آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ، امریکی اتحادیوں سے ایران ناراض

ابوظہبی/واشنگٹن/تہران، 19 اگست

3D Render of a Topographic Map of the Strait Of Hormuz, Persian Gulf.
All source data is in the public domain.
Color and Water texture: Contains modified Copernicus Sentinel data (2021) courtesy of ESA.
URL of source image: https://dataspace.copernicus.eu/explore-data/data-collections/sentinel-data/sentinel-2
Relief texture: SRTM data courtesy of NASA JPL (2020). URL of source image:
https://lpdaac.usgs.gov/products/srtmgl1v003/

تقریباً سات ماہ سے فوجی تصادم اور کشیدگی کے بادلوں میں گھری آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی کبھی بنتی اور کبھی بگڑتی کوششوں کے درمیان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ہونے والے حملے کے بعد آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو لے کر پورے خطے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ایران اس وقت امریکہ کے اتحادی ممالک کے رویے سے ناراض ہے۔ اس نے یو اے ای کی بحری آمدورفت کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان سے خطے کے اہم سکیورٹی خدشات پر بات چیت کی ہے۔

الجزیرہ، گلف نیوز اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے ایران کے بیلسٹک میزائل حملے کے بعد بڑا قدم اٹھایا ہے۔ یو اے ای نے آج فوری طور پر ایران کے ساتھ ہر طرح کی تجارت، تجارتی لین دین اور مالی معاملات پر پابندی عائد کر دی۔ یو اے ای نے یہ قدم خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام اور علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اٹھایا ہے۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر افرا الحمیلی نے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں اگلے حکم تک نافذ رہیں گی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اب امریکی علاقہ ہے۔ ٹرمپ نے اس آبی گزرگاہ کو نیا امریکی علاقہ قرار دینے والی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط دہرائی ہیں۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع مذاکرات دوبارہ شروع ہونے سے قبل ثالث آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ معاہدے کا انتظار کر رہے ہیں۔

یو اے ای پر حملے کے بعد امریکی وزیر خارجہ روبیو نے متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ کے مطابق، روبیو نے شیخ طحنون بن زاید النہیان سے اہم علاقائی سکیورٹی معاملات پر بات کی۔ اس دوران دونوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی جانب سے دو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دعووں سے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کو نقصان پہنچتا ہے اور خطے میں باہمی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے خلیجی ممالک کو امریکی فوج کی مدد نہ کرنے کی وارننگ دی ہے۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے ایک بیان میں عبداللہی نے کہا کہ علاقے کے اڈوں پر اتنے زیادہ فوجی طیاروں، خاص طور پر ایندھن بھرنے والے طیاروں کی موجودگی کو میزبان ممالک کی معلومات کے بغیر سمجھانا مشکل ہوگا۔

اس صورتحال کے درمیان ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ان کے عراق دورے کا مقصد غیر ملکی مداخلت کے بغیر ایک نئے علاقائی نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے اسلامی ممالک کو پائیدار اقتصادی تعاون کے ساتھ گہرے سکیورٹی تعلقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ”اسلامی جمہوریہ ایران اس علاقائی ماڈل کو عملی شکل دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔“

ایران کی وزارت تیل نے آبنائے ہرمز پر جاری فوجی کشیدگی کے درمیان ایک حیران کن اعداد و شمار پیش کیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ ایران نے رواں سال کے پہلے چار ماہ میں تیل سے غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں 7.5 ارب ڈالر کمائے ہیں۔ یہ رقم مرکزی بینک کے حوالے کر دی گئی ہے۔ یہ آمدنی گزشتہ سال اسی مدت کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی سے 1.5 گنا زیادہ ہے۔ توقع ہے کہ اس سے دسمبر کے آخر تک حکومت کے زرمبادلہ سے متعلق اخراجات پورے ہو جائیں گے۔

Related Articles