ہندوستان کی مدد سے کمبوڈیا میں ٹائیگر دوبارہ دہاڑیں گے

نوم پنہ، نومبر۔ ہندوستان اور کمبوڈیا نے ہفتہ کو حیوانات کے تحفظ، ثقافت اور صحت کے شعبے میں تعاون پر چار مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن میں سے ایک کمبوڈیا کو تحفظ فراہم کرنے اور شیروں کی آبادی بڑھانے میں تعاون کے لیے بھی شامل ہے۔کمبوڈیا کے سفر پر آئے نائب صدر جگدیپ دھنکھر اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین کے درمیان یہاں دو طرفہ ملاقات کے بعد دونوں فریقوں نے ان معاہدوں پر دستخط کئے۔ہندوستان کی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی اور کمبوڈیا کی وزارت حیواناتی تنوع کے تحفظ اور صحت مند جنگلی حیات کے انتظام کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت، ہندوستان کمبوڈیا میں شیروں کو دوبارہ آباد کرانے کے لیے تعاون کرے گا اور شیروں کو فراہم کرائے گا۔غور طلب ہے کہ اس سال ستمبر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مدھیہ پردیش کے کونو سینکچری میں نامیبیا سے منگوائے گئے کچھ چیتا چھوڑے تھے تاکہ اس خطرے سے دوچار حیوانات کو ملک میں آباد کیا جا سکے۔نائب صدر مسٹر دھنکھر اور کمبوڈیا کے وزیر اعظم مسٹر سین کے درمیان ملاقات جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر الگ الگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ کے درمیان وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور کمبوڈیا کے ہم منصب بھی موجود تھے۔اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان انسانی وسائل کی ترقی، بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور ترقی کے بعض منصوبوں پر دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت ہوئی۔ مسٹر دھنکر اور وزیر اعظم مسٹر ہن سین کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے حکام نے ثقافت، حیوانات کے تحفظ اور صحت کے شعبے میں تعاون کے چار معاہدوں پر دستخط کئے۔ ان معاہدوں میں سے ایک دونوں ممالک کی وزارت صحت کے درمیان ادویات اور ادویات سازی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کا ہے۔ ایک اور معاہدے کے تحت، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، جودھپور کمبوڈیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کو ثقافتی ورثے کی اشیاء کے ریکارڈ کی تیاری میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اطلاق کے شعبے میں ساتھ تعاون کرے گا۔ثقافتی شعبے میں تعاون کے ایک اور معاہدے کے تحت، ہندوستان کمبوڈیا کے سنری صوبے میں ‘وار راجہ بوپگوڈا کے تحفظ میں تعاون کرے گا۔انگکور واٹ مندر کے علاقے میں آثار قدیمہ کے تحفظ کے کام میں مصروف ہندوستانی عہدیداروں نے بتایا کہ اس مندر میں رامائن اور مہابھارت پر مبنی پینٹنگز کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ حکام نے کہا کہ ہندوستان اس کام کے لیے مالی وسائل اور مدد فراہم کرے گا۔

Related Articles