پانی کے لیے باہمی اشتراکِ عمل: اجتماعی اقدام کے لیے بھارت کی اپیل
تحریر: جناب سی آر پاٹل
پانی ہمیں جس طرح باہم مربوط کرتا ہے، اس کی مثال دیگر وسائل میں شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ دریا کسی انتظامی حدود کے پابند نہیں ہوتے، زیرِ زمین آبی ذخائر متعدد بستیوں کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں، اور آج برسنے والی بارش
کل پینے کے پانی، آبپاشی کے ذریعے، زیرِ زمین پانی یا دریا کے بہاؤ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ حقیقت ایک سادہ مگر نہایت اہم اصول کی نشان دہی کرتی ہے کہ پانی ایک مشترکہ وسیلہ ہے، اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اسی جذبے کے تحت، بھارت 22 سے 26 ستمبر 2026 تک نئی دہلی میں جل شکتی کی وزارت کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے نویں ’بھارت بین الاقوامی ہفتۂ آب‘ میں عالمی آبی برادری کا خیرمقدم کرے گا۔ اس کا موضوع ’ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچک دار آبی انتظام‘ ایک ایسے وقت میں خاص طور پر موزوں ہے جب ماحولیاتی تبدیلیاں آبی چکر کو مسلسل غیر یقینی اور ناقابلِ پیش گوئی بنا رہی ہیں۔بھارت بین الاقوامی ہفتۂ آب محض ایک کانفرنس نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں حکومتیں، ماہرین، صنعت، برادریاں اور بین الاقوامی شراکت دار اپنے تجربات، ٹکنالوجی اور نظریات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے شراکت داریاں استوار کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام پانی کے موضوع پر منعقدہ حالیہ محکمانہ سربراہی اجلاس کے جذبے اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق کو بھی آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اس سربراہی اجلاس کا تصور جناب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیش کیا تھا، جس میں بھارت کی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے یکجا ہو کر اس شعبے
کے چیلنجوں پر غور و خوض کیا، باہمی تجربات شیئر کیے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا۔بھارت اس مکالمے میں بڑے پیمانے پر پانی اور صفائی ستھرائی کے پروگراموں کے نفاذ کا اپنا وسیع تجربہ پیش کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، جل جیون مشن نے 2019 کے 3.23 کروڑ گھرانوں کے مقابلے میں اب 15.9 کروڑ سے زائد دیہی گھرانوں تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔جل جیون مشن 2.0 کا بنیادی محور پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو عوامی خدمات کی فراہمی کے ایک مستحکم اور قابل اعتماد نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ دیہی آبی خدمات کے انتظام، دیکھ بھال اور نگرانی کے لیے گرام پنچایتوں اور ان کی دیہی پانی اور صفائی ستھرائی کی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) کو مقامی مائیکرو یوٹیلیٹیز کے طور پر بااختیار بنایا جارہا ہے۔ ’جل سیوا آنکلن‘، جو کہ گرام پنچایت کی قیادت میں پینے کے پانی کی خدمات کی فعالیت کے ڈیجیٹل جائزے کا ایک اقدام ہے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے بجائے پائیدار خدمات کی فراہمی کی سمت میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ اقدام ’جن بھاگیداری‘ کے ذریعے گرام پنچایتوں اور دیہی اداروں کو ’ہر گھر جل‘ (ایچ جی جے) دیہاتوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کی باقاعدگی، موزونیت، معیار اور پائیداری کے جائزے کے عمل میں مرکزی حیثیت عطا کرتا ہے۔نمامی گنگے پروگرام کے ذریعے، بھارت نے دریائے گنگا اور اس کے معاون دریاؤں کے احیا کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس میں سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور آلودگی کے تدارک کو ماحولیاتی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور عوامی شرکت کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 527 سے زائد منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے اور 367 مکمل کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 4,263 ایم ایل ڈی کی سیوریج ٹریٹمنٹ کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔سوچھ بھارت مشن-دیہی بھی اسی قدر اہم سبق آموز ہے۔ دیہی علاقوں میں 12 کروڑ سے زائد بیت الخلا تعمیر کیے گئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ، اس مشن نے ہماری ماؤں اور بہنوں کو عزت و وقار بخشا ہے اور عوامی طرزِ عمل میں تبدیلی کو یقینی بنایا ہے۔ اس مشن کے دوسرے مرحلے میں ٹھوس اور مائع فضلے کے انتظام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس کے تحت گھریلو اور سماجی دونوں سطحوں پر گرے واٹر کے انتظام کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام پروگراموں میں ’جن بھاگیداری‘ کی ایک مشترکہ کڑی موجود ہے، جو اس پختہ یقین کی عکاس ہے کہ عوامی پالیسی اس وقت سب سے زیادہ مستحکم ہوتی ہے جب عوام محض مستفیدین رہنے کے بجائے فعال شراکت دار بن جائیں۔یہی نقطہ نظر تحفظِ آب کے حوالے سے ہماری مساعی کی رہ نمائی کرتا ہے۔ ’جل سنچے جن بھاگیداری‘ اور ’کیچ دی رین‘ مہم جیسے اقدامات کے ذریعے ہمارا مقصد تحفظِ آب کو محض ایک سرکاری پروگرام تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک پائیدار عادت اور عوامی تحریک کی شکل دینا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے بندوبستِ آب کو بالآخر مقامی سطح پر سمجھنا، اسے اپنی ذمہ داری تصور کرنا اور اسے برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ حال ہی میں ہم نے ’کیچ دی رین‘ ترانہ بھی جاری کیا ہے۔بھارت کا تجربہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ آبی چیلنجوں کا کوئی واحد حل نہیں ہے۔ جس طرح ایک ہمالیائی ریاست کی ضروریات کسی خشک خطے سے مختلف ہوتی ہیں، بالکل اسی طرح ایک پھیلتے ہوئے شہر کے مسائل کسی دیہی معاشرے کے چیلنجوں سے جداگانہ ہوتے ہیں۔
یہی تنوع ہماری ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافے، آبپاشی کی کارکردگی، پینے کے پانی کے نظام کے کمیونٹی کی سطح پر انتظام اور استعمال شدہ پانی کے دوبارہ استعمال کے حوالے سے تجربات کا ایک گراں قدر مخزن بناتا ہے۔ جب ایسے تجربات کا باہمی تبادلہ کیا جاتا ہے، تو مقامی سطح پر کام یاب ہونے والے حل اپنی جائے آغاز سے کہیں دور تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔یہ اصول بین الاقوامی سطح پر بھی یکساں طور پر صادق آتا ہے۔ آبی تحفظ کے حوالے سے کسی بھی ملک کے پاس تمام مسائل کا حتمی حل موجود نہیں ہے، اور ہر ملک اس ضمن میں کچھ نہ کچھ پیش کرنے اور سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا، بھارت بین الاقوامی ہفتۂ آب کسی مخصوص نظریے کی تلقین کے بجائے شراکت داری کے جذبے کا مظہر ہے، جو پائیدار بندوبستِ آب، ٹکنالوجی، مالیات اور ماحولیاتی خطرات کے انتظام سے متعلق عالمی تجربات کو بھارت کے اپنے تجربات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔پانی کا انتظام انفرادی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ آبی تحفظ، غذائی تحفظ، عوامی صحت، معاش، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی سے لازم و ملزوم ہے۔ لہٰذا، بھارت بین الاقوامی ہفتۂ آب میں ہونے والی گفتگو دریا کے طاس اور آبی ذخائر کے انتظام، استعمال شدہ پانی کے دوبارہ استعمال، پانی کے استعمال کی کارکردگی، پیش گوئی، قبل از وقت انتباہی نظام اور ماحولیاتی بہاؤ جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔اس تبدیلی کے عمل میں ٹکنالوجی ایک اہم جزو ثابت ہوگی۔ بہتر ڈیٹا، ماڈلنگ اور ڈیجیٹل نظام ہمیں پانی کی دستیابی میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے، ممکنہ خطرات کا پیشگی اندازہ لگانے اور کارکردگی میں اضافے کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ٹکنالوجی کی حقیقی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب یہ حکومتوں، مقامی اداروں اور برادریوں کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل میں پیشہ ور افراد، اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کی شمولیت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ جے جے ایم کی ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت، ’سجلم بھارت‘ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ایکو سسٹم منصوبہ بندی، ذرائع کی پائیداری، کارکردگی کی نگرانی اور عوام دوست طرزِ حکم رانی کو بہتر بنانے کے لیے ڈیٹا اور ٹکنالوجی سے استفادہ کر رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے خدمات کی فراہمی کی ضمانت تک کی یہ تبدیلی، لچک دار، جواب دہ اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ آبی نظام وضع کرنے کے تئیں بھارت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔درپیش چیلنج کی وسعت کے مطابق مالیاتی نظام کا ارتقا بھی ناگزیر ہے۔ اگرچہ عوامی سرمایہ کاری بنیادی اہمیت کی حامل رہے گی، تاہم ماحولیاتی تبدیلیوں کے تئیں لچک دار آبی بنیادی ڈھانچے کے لیے تیزی سے ایسے اختراعی مالیاتی طریقوں، ذمہ دارانہ نجی شرکت اور شراکت داریوں کی ضرورت ہوگی جو عوامی مقصد کو مرکز میں رکھتے ہوئے وسائل کو متحرک کریں۔اسی کے ساتھ، صحت مند دریا، آبی اراضی، زیرِ زمین آبی ذخائر اور ایکو سسٹم بذاتِ خود ہمارے آبی بنیادی ڈھانچے کا جزو ہیں۔ چوں کہ ماحولیاتی تبدیلی غیر یقینی بارشوں، شدید برسات، طویل خشک سالی، سیلاب اور زیرِ زمین پانی کے دباؤ کا سبب بن رہی ہے، لہٰذا لچک کے لیے وسائل کی پائیداری، بہتر سائنسی معلومات اور پیش گوئی، موافقت پذیر بنیادی ڈھانچے، مستحکم اداروں اور باخبر برادریوں کی ضرورت ہوگی۔بھارت بین الاقوامی ہفتۂ آب کا وسیع تر مقصد قیادت، سائنس، نفاذ، ٹکنالوجی، مالیات اور عوامی شرکت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے۔ 22 سے 26 ستمبر تک، بھارت منڈپم بھارت کے آبی تجربات اور دنیا کے آبی علوم کے ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ ہم بڑے پیمانے پر پروگراموں کے نفاذ سے حاصل ہونے والے اپنے تجربات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہیں اور اسی طرح دوسروں سے سیکھنے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنے کے لیے بھی پوری طرح آمادہ ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی آبی چکر کو مزید غیر یقینی بنا سکتی ہے۔ اس کے جواب میں ہمارا ردِ عمل غیر یقینی نہیں ہو سکتا۔ اسے اجتماعی، سائنسی، ہمہ گیر اور پائیدار ہونا چاہیے۔خواہ وہ گاؤں کا تالاب ہو، کوئی آبی ذخیرہ ہو، دریا کا طاس ہو، یا ہماری بدلتی ہوئی عالمی آب و ہوا ہو، سبق ایک ہی ہے: پانی ہم سب کو باہم مربوط کرتا ہے۔ اس کا مستقبل محض حکومتوں، یا کسی ایک ادارے یا ملک کے ذریعے محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ پانی ہمارا مشترکہ وسیلہ ہے۔ آبی تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔آنے والی نسلوں کے لیے ہمیں ہر قطرے کو محفوظ بنانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم وِکست بھارت 2047 کے لیے وزیرِ اعظم کی اپیل پر عمل درآمد میں اپنا تعاون پیش کریں۔




