نیپال کی تباہی ہمیں اپنے اعمال کا آئینہ دکھاتی ہے

قدرتی آفت کے ملبے میں انسانی غفلت، کمزوری اور کوتاہیوں کے کئی سبق پوشیدہ ہیں

مولانا قاری محمد یوسف عزیزی قادری
بانی و ناظم جامعۃ القراء، لکھنؤ
نیپال میں آنے والی شدید قدرتی تباہی نے ایک مرتبہ پھر انسان کو اس حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ طاقت، ترقی، ٹیکنالوجی، دولت اور انسانی منصوبہ بندی اپنی جگہ، لیکن اس کائنات کے سامنے انسان بہرحال بے بس ہے۔ چند لمحوں کی ایک ہولناک کیفیت بستیاں اجاڑ سکتی ہے، گھر ملبے کا ڈھیر بن سکتے ہیں، سڑکیں منقطع ہوسکتی ہیں، خوشحال زندگی ماتم میں بدل سکتی ہے اور وہ انسان جو چند لمحے پہلے اپنے مستقبل کے منصوبے بنا رہا تھا، اچانک زندگی اور موت کے درمیان کھڑا نظر آسکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک صاحبِ ایمان انسان صرف تباہی کے اعداد و شمار نہیں دیکھتا، بلکہ اس منظر کے پیچھے چھپی ہوئی اپنی ذات کے لیے ایک پکار بھی سنتا ہے۔
قدرتی آفات کے اپنے طبعی اور سائنسی اسباب ہوتے ہیں۔ زلزلے زمین کی اندرونی ساخت اور ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے پیدا ہوتے ہیں، سیلاب بارش، دریاؤں، جغرافیائی حالات اور دیگر عوامل کا نتیجہ ہوسکتا ہے اور طوفان بھی مخصوص موسمی و جغرافیائی اسباب کے تحت وجود میں آتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص آفت کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کردینا کہ یہ لازماً فلاں قوم کے فلاں گناہ کی سزا ہے، دینی اعتبار سے محتاط طرزِ فکر نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرآن انسان کو کائنات کے واقعات سے غفلت اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مصیبت چاہے کسی طبعی سبب سے آئے، ایک مومن کے لیے وہ اپنے رب کو یاد کرنے، اپنی کمزوری کو پہچاننے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور آخرت کی تیاری کرنے کا موقع ضرور بن سکتی ہے۔
نیپال ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ وہاں ہونے والی تباہی اس اعتبار سے بھی ہمارے لیے اہم ہے کہ یہ کوئی دور دراز دنیا کا واقعہ نہیں جسے چند لمحے ٹیلی ویژن یا موبائل اسکرین پر دیکھ کر بھلا دیا جائے۔ پڑوس میں ہونے والی ایک بڑی تباہی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ زندگی کتنی عارضی ہے اور انسانی منصوبے کتنے ناپائیدار۔ آج کوئی شہر آباد ہے، بازاروں میں رونق ہے، لوگ اپنے گھروں میں مصروف ہیں، بچے کھیل رہے ہیں، والدین اپنے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں؛ مگر قدرت کا ایک فیصلہ پوری صورتِ حال بدل سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی آفت کا سب سے بڑا سبق شاید یہ نہیں کہ ہم دوسروں کے انجام پر تبصرے کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے انجام کے بارے میں سوچیں۔ مصیبت زدہ لوگوں کو دیکھ کر یہ کہنا آسان ہے کہ ان پر کیا گزری، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے؟ کیا ہم نے اپنے رب کو یاد رکھا؟ کیا ہماری نمازیں درست ہیں؟ کیا ہماری تجارت دیانت پر قائم ہے؟ کیا ہم نے کسی کا حق دبایا تو نہیں؟ کیا ہمارے معاملات میں جھوٹ، دھوکا، رشوت، خیانت اور ظلم داخل نہیں ہوچکا؟ کیا ہمارے گھروں میں حیا، تربیت اور دینی شعور باقی ہے؟ کیا ہم اپنی اولاد کو صرف دنیا کمانے کے قابل بنا رہے ہیں یا آخرت سنوارنے کی فکر بھی کررہے ہیں؟
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم دین کو صرف عبادات کے چند ظاہری اعمال تک محدود سمجھنے لگے ہیں، حالاں کہ اسلام ایک مکمل اخلاقی اور معاشرتی نظام ہے۔ نماز اللہ سے تعلق مضبوط کرتی ہے تو معاملات بندوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہیں۔ روزہ نفس کی تربیت کرتا ہے تو زکوٰۃ معاشرے کے کمزور طبقے کا حق ادا کرنے کا ذریعہ ہے۔ قرآن کی تلاوت دل کو زندہ کرتی ہے تو سچ بولنا، امانت ادا کرنا، ناپ تول درست رکھنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور پڑوسی کے حقوق کی رعایت اسی دین کا حصہ ہیں۔
اصل عبرت یہ ہے کہ مصیبت کو دیکھ کر دل بدل جائے۔ اگر نیپال کی تباہی کی خبریں پڑھنے کے بعد ہم چند لمحوں کیلئے افسوس کریں، پھر موبائل بند کرکے اسی زندگی میں واپس چلے جائیں جس میں نماز کی پابندی نہیں، معاملات کی صفائی نہیں، حقوق العباد کی فکر نہیں، حرام سے بچنے کا جذبہ نہیں اور توبہ کی کوئی فکر نہیں، تو ہم نے خبر تو دیکھ لی، مگر اس کا سبق نہیں سمجھا۔قدرت کے بڑے واقعات انسان کے غرور کو توڑ دیتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے بلند عمارتیں بنالی ہیں، جدید مشینیں ایجاد کرلی ہیں، مواصلات کے ایسے نظام قائم کرلیے ہیں کہ دنیا سمٹ کر ہاتھ کی ہتھیلی میں آگئی ہے؛ لیکن ایک لمحہ اسے یاد دلاتا ہے کہ زمین جس پر وہ اطمینان سے کھڑا ہے، وہ بھی اس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنے گھر کا دروازہ بند کرسکتا ہے، مگر زمین کے دروازے بند نہیں کرسکتا۔ وہ موسم کی پیش گوئی کرسکتا ہے، مگر ہر حادثے کو روک نہیں سکتا۔ وہ عمارت کو مضبوط بنا سکتا ہے، مگر موت کو اپنے حکم سے ٹال نہیں سکتا۔یہ احساسِ بے بسی انسان کو مایوس کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے اس کے اصل مقام کی یاد دلانے کے لیے ہے۔ انسان بندہ ہے، مالک نہیں؛ مسافر ہے، ہمیشہ رہنے والا نہیں؛ جواب دہ ہے، بے حساب نہیں۔ یہی شعور زندگی کے انداز کو بدل سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نیپال کی تباہی کو سیاسی بحث، سنسنی خیز خبر یا چند گھنٹوں کی سوشل میڈیا سرگرمی بننے سے بچائیں۔ متاثرین کے لیے دعا کریں، جہاں ممکن ہو انسانی امداد پہنچائیں، مصیبت زدہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کریں اور ساتھ ہی اپنے معاشرے کے اندر اصلاح کی تحریک پیدا کریں۔ مساجد آباد ہوں، نمازوں کی پابندی بڑھے، تجارت میں دیانت آئے، والدین کی خدمت ہو، رشتوں کی حفاظت ہو، نوجوانوں کو بے حیائی اور نشے سے بچایا جائے، سود اور حرام کمائی سے اجتناب کیا جائے، غریبوں اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کیے جائیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کی جائے۔
نیپال کی تباہی ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ زندگی کو معمولی نہ سمجھو، مہلت کو ہمیشہ کی ضمانت نہ سمجھو اور نعمتوں کو اپنے استحقاق کا نتیجہ نہ سمجھو۔ آج دوسروں کے گھر ملبے میں تبدیل ہوئے ہیں تو کل ہمارا گھر بھی دنیا کی بے ثباتی کا گواہ ہوسکتا ہے۔ آج ہم کسی اور کے جنازے کی خبر پڑھ رہے ہیں، کل ہماری خبر بھی کسی اور کے موبائل کی اسکرین پر ہوسکتی ہے۔ اس لیے سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ انسان موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرلے، گرفت سے پہلے توبہ کرلے اور آزمائش آنے سے پہلے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرلے۔
وقت ابھی باقی ہے۔ دروازۂ توبہ کھلا ہے۔ اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ حقوق ادا کیے جاسکتے ہیں، ظلم چھوڑا جاسکتا ہے، حرام سے بچا جاسکتا ہے، نماز کی طرف لوٹا جاسکتا ہے اور دل کو اپنے رب سے دوبارہ جوڑا جاسکتا ہے۔ یہی کسی بھی تباہی کی سب سے بڑی عبرت ہے کہ انسان دوسروں کے ملبے میں اپنی غفلت کا ملبہ پہچان لے۔ اگر نیپال کی تباہی ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے، متاثرین کے لیے دل نرم کرنے، اپنے اعمال کی اصلاح کرنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے پر آمادہ کردے تو ایک ہولناک حادثہ ہمارے لیے ایک عظیم بیداری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اور اگر ہم نے اسے بھی محض ایک خبر سمجھ کر بھلا دیا تو شاید سب سے بڑا نقصان وہی ہوگا جو ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں، ہمارے دل کے اندر واقع ہوچکا ہوگا۔

 

Related Articles