ممبئی میں احتجاج کے دوران کامیڈین معصوم راجوانی سمیت متعدد افرادحراست میں لئے گئے

پولیس پر زبردستی کرنے کا الزام

ممبئی ، ممبئی میں آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڈے کی یاد میں منعقدہ احتجاج کے دوران اسٹینڈ اپ کامیڈین معصوم راجوانی کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کرکے پولیس اہلکاروں پر زبردستی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ واقعہ اتوار، 25 اکتوبر کو چیتیہ بھومی میں شمع بردار اجتماع کے دوران پیش آیا۔ ساحل واکوڈے نے گزشتہ ماہ خودکشی کرلی تھی، جس کے بعد ان کی یاد میں احتجاج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اجتماع کے لیے ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی اور امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
معصوم راجوانی نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کی، جس میں پولیس اہلکار انہیں حراست میں لینے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں وہ بار بار پوچھتے سنائی دیتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟۔ اس دوران وہ ایک پولیس اہلکار سے اپنی ٹی شرٹ نہ کھینچنے کی درخواست بھی کرتے ہیں۔ کامیڈین نے الزام لگایا کہ پولیس نے انہیں زبردستی حراست میں لینے کی کوشش کی۔ اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس کارروائی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
اسی روز شیواجی پارک میں قبائلی طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مارچ کیا۔ انہوں نے قبائلی ترقی کے وزیر، کمشنر اور محکمہ قبائلی ترقی کے سکریٹری کے استعفوں، آشرم اسکولوں میں ہونے والی اموات کی تحقیقات اور قبائلی طلبہ کے لیے ہاسٹل کی بہتر سہولتوں کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کے مطابق آزاد میدان اور شیواجی پارک میں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پولیس اجازت سے انکار کرکے ان کی آواز نہیں دبا سکتیں۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس مہندر پنڈت کے مطابق شیواجی پارک میں جنریشن زی سے وابستہ قبائلی نوجوانوں کے غیر مجاز احتجاج میں جمع تقریباً 120 افراد کو پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ چیتیہ بھومی میں بغیر اجازت شمع بردار مارچ کے لیے جمع مزید 20 سے 25 افراد کو دوسرے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ پولیس کے مطابق دونوں گروہوں کی رہائی کی کارروائی جاری تھی۔

Related Articles