حکومت نے یو پی آئی پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کر دی:راہل گاندھی

نئی دہلی، مرکز کی جانب سے دو ہزار روپے تک کے یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کو مفت رکھنے کی اطلاع جاری کیے جانے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے خاموشی سے دو ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ (ایم ڈی آر) عائد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایسے لین دین مجموعی تعداد کا تقریباً پانچ فیصد ہیں، لیکن مجموعی لین دین کی مالیت میں اس کا حصہ تقریباً 65 فیصد ہے۔راہل گاندھی نے منگل کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے یو پی آئی ادائیگیوں کے سلسلے میں کہا ہے کہ صارفین سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ لیکن اگر دکانداروں پر فیس عائد کی جاتی ہے تو اس کا بوجھ آخرکار کہاں جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ اضافی لاگت اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں شامل ہو کر بالآخر صارفین کی جیب پر پڑ سکتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی ادائیگی کمپنیاں طویل عرصے سے بھارت کی صفر ایم ڈی آر پالیسی کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور اب حکومت اسی سمت میں پالیسی تبدیل کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اسے امریکی دباؤ سے جوڑتے ہوئے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھائے۔انہوں نے حکومت کی ممکنہ پالیسی تبدیلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یو پی آئی کو مفت رکھنے کے موجودہ نظام میں تبدیلی کا اثر چھوٹے اور بڑے تاجروں کے ساتھ ساتھ صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ، فی الحال دو ہزار روپے سے زیادہ کے تمام یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر عائد کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ دو ہزار روپے تک کے یو پی آئی لین دین پر صارفین سے کوئی فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ دو ہزار روپے سے زیادہ کے لین دین کو ممکنہ طور پر ایم ڈی آر کے دائرے میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

Related Articles