جرمن میلے میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک

لوڈن شائڈ،مئی۔ جرمن پولیس ویک اینڈ پر ہونے والے فائرنگ کے ایک واقعے کی چھان بین کر رہی ہے۔ جرمن شہر لوڈن شائڈ میں ہوئی اس فائرنگ کے نتیجے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔جرمن پولیس نے بتایا ہے کہ جرمن شہر لوڈن شائڈ میں اتوار کو ایک میلے کے دوران فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ بظاہر نوجوانوں کے ایک گروپ کا ایک ٹین ایجر لڑکے اور اس کے والد سے جھگڑا ہو گیا تھا۔اس دوران فائرنگ بھی ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک راہ گیر مارا گیا۔ پولیس نے بتایا ہے کہ فائرنگ کرنے والا کسی کو دانستہ طور پر ہلاک نہیں کرنا چاہتا تھا تاہم ایک چالیس سالہ راہ گیر ہوائی فائرنگ کی زد میں آ گیا۔جرمن شہر کولون کے مشرق میں واقع لوڈن شائڈ میں فائرنگ کے اس واقعے کے بعد فوری طور پر پولیس نے صورتحال سنبھال لی تھی۔ تاہم بعدازاں پولیس کے خصوصی دستوں نے اس واقعے کی چھان بین کا چارج سنبھال لیا۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین اور دیگر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ درست معلومات حاصل کی جائیں۔ابتدائی معلومات کے مطابق سولہ تا بیس سال کے عمر کے لڑکوں کا ایک گروپ ایک سولہ سالہ لڑکے کے ساتھ مبینہ طور پر ہاتھا پائی کا مرتکب ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ اس گروپ میں چھ لڑکے شامل تھے، جنہوں نے مبینہ طور پر سولہ سالہ لڑکے کو نشانہ بنایا۔اس کے بیس منٹ بعد ہی یہ لڑکا اپنے والد کو لے کر وہاں پہنچ گیا تاکہ ان چھ لڑکوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم یہ چھ لڑکے وہاں سے فرار ہونا چاہتے تھے لیکن ان کا پیچھا کیا گیا۔پولیس کے مطابق بظاہر یہ چھ لڑکے ‘جنوبی قطع وضع‘ کے تھے۔ جرمن حکام یہ ترکیب عمومی طور پر مشرق وسطی یا شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اس حملے میں دو ہتھیار استعمال کیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ جب یہ چھ لڑکے فرار ہو رہے تھے تو ان میں سے ایک نے وارننگ کے لیے ایک ہتھیار استعمال کیا جبکہ ایک دوسرے لڑکے کے پاس حقیقی گن تھی۔پولیس کے بیان کے مطابق ان لڑکوں نے سولہ سالہ لڑکے اور اس کے والد کی سمت ہوائی فائرنگ کی تاہم ایک گولی ایک شخص کو جا لگی اور بعدازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مارا گیا۔پولیس نے بتایا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ سولہ سالہ لڑکا بھی اسی گروپ کا حصہ تھا یا نہیں؟ اس بارے میں جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھ لڑکوں کی تلاش جاری ہے اور جلد ہی حقائق سامنے آ جائیں گے۔

 

Related Articles