آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کے نوٹس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا

نئی دہلی، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس کی جانب سے جاری نوٹس کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اپنی عرضی میں انہوں نے 10 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے اور امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دینے والے حکم کو چیلنج کیا ہے۔دہلی ہائی کورٹ میں فی الحال دسہرے کی تعطیلات جاری ہیں اور عدالت 26 اکتوبر کو دوبارہ کھلے گی۔ نیہا بورا کی قانونی ٹیم تعطیلات کے دوران ہی عرضی پر سماعت کی درخواست کرسکتی ہے۔دہلی پولیس نے 18 اکتوبر کو نیہا بورا کو نوٹس جاری کرکے 19 اکتوبر کو اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف جاری جانچ کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 126 کے تحت ایک ضامن کے ساتھ 10 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ جمع کرائیں۔

نیہا بورا کو 16 اکتوبر کو منڈی ہاؤس کے قریب احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ اس وقت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘(سی جے پی) کی ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ میں شرکت کے لیے جارہی تھیں۔ دہلی پولیس نے انہیں 17 اکتوبر کی صبح رہا کردیا تھا۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو بھی بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعات 126 اور 170 کے تحت احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے امن و امان خراب ہونے کے خدشے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا۔اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے دیپکے کو 50 ہزار روپے کے امن مچلکے پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس مچلکے کے مطابق، انہیں ایک سال تک امن برقرار رکھنا ہوگا۔

Related Articles