پی ایم اے وائی ۔ یو ، باہمی تعاون پر مبنی اور مسابقتی وفاقیت کی روح کی ایک مکمل مثال : ہردیپ پوری

نئی دہلی، اکتوبر۔ہاؤسنگ اور شہری امور اور پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ ایس پوری نے آج راجکوٹ میں پردھان منتری آواس یوجنا – اربن (PMAY-U) ایوارڈ 2021 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا – شہری (پی ایم اے وائی ۔ یو) دنیا کی سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیموں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے ۔ اس اسکیم نے پہلے ہی 1.23 کروڑ مکانات کو منظوری دی ہے جو کہ 2004 سے 2014 تک سابقہ ​​دور حکومت کے دوران 10 برسوں میں حاصل کی گئی تعداد سے تقریباً 9 گنا زیادہ ہے۔ 64 لاکھ گھر پہلے ہی مکمل کئے جاچکے ہیں اورانہیں لوگوں کو ا لاٹ بھی کیا جاچکا ہے اور باقی رہ جانے والے مکانات بھی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔پردھان منتری آواس یوجنا – شہری (پی ایم اے وائی ۔ یو) کو باہمی تعاون پرمبنی اور مسابقتی وفاقیت کے جذبے کی ایک بہترین مثال بتاتے ہوئے، ہردیپ ایس پوری نے اظہار خیال کیا کہ یہ اسکیم باہمی تعاون پر مبنی اور مسابقتی وفاقیت کی روح کی ایک بہترین مثال ہے، اس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ریاستیں جوش و خروش سے حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ پراجیکٹس کی جانچ پڑتال اور منظوری کا مکمل اختیار رکھنے کے علاوہ، تمام ریاستوں کا ایک دوسرے کے ساتھ صحت مند مقابلہ بھی رہاہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی ریاست سرفہرست رہتی ہے ۔ حتمی فاتح وہ لوگ رہے ہیں، اور وہ بھی، جو اقتصادی طور پر کمزور طبقے اور ایل آئی جی طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ آج کا فاتحین کو اعزازات سے نوازنے کی تقریب نہ صرف ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششوں کا اعتراف ہے بلکہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ان کے فراخ دلانہ تعاون کے لیے ان کا اعتراف اور شکریہ ادا کرنا بھی ہے۔وزیر نے کہا کہ جون 2015 میں، عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور قیادت میں، پردھان منتری آواس یوجنا کے فلیگ شپ مشن – اربن، اسمارٹ سٹی مشن، اٹل مشن فار ریجووینیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن (اے ایم آر یو ٹی) اور سوچھ بھارت مشن (شہری) جوپہلے شروع کئے گئے ہیں ،ان کے ذریعہ دنیا میں کہیں بھی شروع کیے گئے سب سے زیادہ جامع، منصوبہ بند شہری کاری کی بنیاد رکھی گئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن نے مقامی اور عالمی جدید تعمیراتی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور مرکزی دھارے میں لانے کے لیے گہری سوچ بچار اور کوششوں کو جنم دیا ہے۔ اس کوشش کا مقصد ماحولیاتی مسائل پر سمجھوتہ کیے بغیر تعمیر کی رفتار اور معیار کو یقینی بنا نے جیسے مقاصد کو حاصل کرنا تھا ۔مسٹر ہردیپ ایس پوری نے کہا کہ اس پس منظر میں ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت نے بالترتیب مارچ 2019 اور اکتوبر 2021 میں گلوبل ہاؤسنگ ٹیکنالوجی چیلنج-انڈیا (جی ایچ ٹی سی۔ ا نڈیا) اور انڈین ہاؤسنگ ٹیکنالوجی میلہ (آئی ایچ ٹی ایم) کا انعقاد کیا۔ اس بار راجکوٹ میں انڈین ہاؤسنگ کنکلیو کاانعقاد اسی سلسلے کی ایک توسیعی کڑی ہے۔انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ نئی ٹیکنالوجیز اور مواد سے متعلق نمائش کا دورہ کریں تاکہ وہ اپنے مقامی ماحول کے مطابق ان کے بارے میں جان سکیں اور ان سے استفادہ کرسکیں ۔مئی 2022 میں وزیر اعظم کے ذریعہ پہلے لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان تمام ٹیکنالوجیز کو مرکزی دھارے میں لانے کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت دے کر ان کوششوں کو اگلی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ انجینئرنگ کالجوں کے طلباء، منصوبہ سازوں کے لیے ان ایل ایچ جی پیز کے باقاعدہ مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جانا چاہیے، تاکہ ہماری اگلی نسل کے انجینئرز ان ٹیکنالوجیز سے واقف ہوں۔ریاستوں،مرکز کے زیرانتظام علااقوں اوریو ایل بیز کی شاندار شراکت کا اعتراف کرنے کی غرض سے ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت نے، پی ایم اے وائی (یو) کے نفاذ میں بہترین کارکردگی کے لیے سالانہ ایوارڈز متعارف کرائے ہیں ۔پی ایم اے وائی (یو) ایوارڈز 2021 کے فاتحین کو تقریب کے دوران ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر ہردیپ ایس پوری نے نوازا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر سے رہائشی تعمیراتی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے علاوہ ،رہائش اور شہری امور کے مرکزی وزیر مملکت کوشل کشور، تمل ناڈو، گجرات اور آسام کی ریاستوں کے شہری ترقی کے وزراء، وزارت صحت کے سکریٹری ج منوج جوشی سمیت کئی دیگر معززین موجود تھے بھی اس تقریب میں شامل ہوئے۔

Related Articles