اسرائیل نے اپنے شہریوں کو ترکی کا سفر اختیار کرنے سے روک دیا

تل ابیب،مئی۔ایران میں گذشتہ ہفتے سپاہ پاسداران انقلاب کے کرنل حسن صیاد خدائی کے قتل کے تناظر میں اسرائیل نے اپنے شہریوں کو ترکی کا سفر اختیار نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔تہران نے اپنے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کے قتل کا الزام اسرائیل پر عاید کیا تھا۔ صیاد خدائی کو دو نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔ ایران نے ان کے قتل کا انتقام لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔اسرائیل کی قومی سلامتی کی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران، ترکی کا سفر کرنے والے اسرائیلیوں کو گزند پہنچانے بنانے کا سوچ سکتا ہے اسی وجہ سے ترکی کا نام ’ہائی رسک ملکوں‘ کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ترکی، اسرائیلی شہریوں کے لیے پسندیدہ سیاحتی مرکز ہے۔ دونوں ملک ایک دہائی سے اپنے کشیدہ باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اسرائیل نے مقتول ایرانی کرنل صیاد خدائی پر الزام عاید کیا تھا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اسرائیلی شہریوں کے خلاف منصوبے تیار کر رہے تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دفتر نے ایرانی افسر کے قتل پر تبصرے سے انکار کیا ہے حالانکہ ملک کی طاقتور خفیہ ایجنسی ’’موساد‘‘ اسرائیلی وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔اتوار کے روز ایک بیان میں بینیٹ اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اسرائیلیوں کے خلاف حملوں پر اکسانے کے لئے تہران کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

 

Related Articles