تاریخی اور رومانوی کرداروں میں غیر معمولی شہرت حاصل تھی پردیپ کمار کو
ممبئی، ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں پردیپ کمار کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پُروقار شخصیت، دلکش انداز اور سنجیدہ اداکاری
سے شائقین کے دلوں میں خاص مقام حاصل کیا۔ وہ ہندی اور بنگالی دونوں زبانوں کی فلموں میں نمایاں رہے۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں انہوں نے کئی یادگار فلموں میں کام کیا، جن میں انارکلی، ناگن، آرتی اور تاج محل خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ پردیپ کمار کو تاریخی اور رومانوی کرداروں میں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، خصوصاً شہزادوں اور بادشاہوں کے کرداروں میں ان کی شخصیت بہت موزوں دکھائی دیتی تھی۔
ہندی اور بنگالی فلموں کے مشہور اداکار پردیپ کمار کو ایک ایسے اداکار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے 1950 اور 60 کی دہائی میں اپنے تاریخی کرداروں کے ذریعہ ناظرین کو محظوظ کیا۔
پردیپ کمار کا شمار ان اداکاروں میں ہوتا تھا جن کی شخصیت تاریخی اور شاہی کرداروں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔ ان کے چہرے کے تاثرات، لباس میں پُروقار انداز، مکالموں کی ادائیگی اور سنجیدہ شخصیت انہیں دوسرے اداکاروں سے الگ کرتی تھی۔
اس زمانے میں فلم سازوں کو اپنی فلموں کے لئے جب بھی کسی بادشاہ ، شہنشاہ ، پرنس یا نواب کے کردار کی ضرورت ہوتی تھی تو وہ پردیپ کمار کو یاد کیا کرتے تھے۔ ان کی دلکش اداکاری سے آراستہ فلم انارکلی، تاج محل، بہو بیگم اور چترلیكھا جیسی بے شمار فلموں کو ناظرین آج بھی نہیں بھولے ہیں۔ شاہی کرداروں میں مہارت: شہزادہ سلیم اور شاہ جہاں جیسے کردار ان کی پہچان بنے۔
رومانوی اداکاری: انارکلی اور شیریں فرہاد جیسی فلموں میں ان کا رومانوی انداز پسند کیا گیا۔انہوں نے سماجی اور خاندانی کہانیوں پر مبنی فلموں میں بھی کام کیا۔
متعدد اداکاراؤں کے ساتھ کامیاب جوڑیاں: مینا کماری، مدھوبالا، بینا رائے اور مالا سنہا کے ساتھ ان کی فلمیں خاص طور پر یاد کی جاتی ہیں۔تاہم، ان کی مقبولیت کی بنیاد صرف اداکاری کی فنی گہرائی نہیں تھی؛ ان کی پُرکشش شخصیت اور پردۂ سیمیں پر دلکش موجودگی نے بھی انہیں شائقین میں مقبول بنایا۔
مغربی بنگال میں 4 جنوری، 1925 کو ایک برہمن خاندان میں شیتل بٹاولی عرف پردیپ کمار کی پیدائش ہوئی۔وہ بچپن سے ہی فلموں میں اداکاری کرنے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔
اپنے اسی خواب کو پورا کرنے کے لئے زندگی کے ابتدائی دور میں وہ تھیئٹر سے وابستہ ہوگئے۔ حالانکہ اس بات کے لئے ان کے والد راضی نہیں تھے۔ تقریباً 17 برس کی عمر میں انہوں نے اداکاری کو اپنا مستقبل بنانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں اسٹیج پر کام کرکے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ اسی دوران معروف بنگالی فلم ساز دیباکی بوس کی نظر ان پر پڑی، جنہوں نے انہیں فلمی دنیا میں آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
سال 1947 میں پردیپ کمار کی ملاقات ڈائریکٹر دیوكي بوس سے ہوئی اور جنہوں نے اپنی بنگلہ فلم ”الكھنندا” میں کام کرنے کا موقع دیا۔
فلم الکھنندا کے ذریعے پردیپ کمار اداکار کے طور پر میں شناخت بنانے میں بھلے ہی کامیاب نہ ہوئے، لیکن یہاں سے ان کے فلمی کیریئر کا آغاز ضرور ہوگیا۔
اسی درمیان انہوں نے ایک اور بنگلہ فلم ‘بھولی نائے’ میں اداکاری کی۔یہ فلم کافی کامیاب رہی اور اس نے سلور جوبلی منائی جس کے بعد انہوں نے ہندی سنیما کی جانب رخ کیا اور اپنے خواب کو شرمنداہ تعبیر کرنے کے لئے وہ 1949میں ممبئی آگئے جہاں انہوں نے کیمرہ مین دھیرن ڈے کے معاون کے طور پر کام شروع کیا ۔پردیپ کمار کو اداکار کا جنون اس حد تک تھا کہ انہوں نے ہندی اور اردو زبان کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔سال1952 میں انہیں فلم ‘آنند مٹھ’ میں ہیرو کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا ۔حالانکہ اس فلم میں پرتھوی راج کپور جیسے عظیم اداکار بھی موجود تھے۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ہندی فلموں میں بطور اداکار شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔سال 1953 میں فلم ‘انارکلی’ میں پردیپ کمار نے شہزادہ سلیم کا کردار ادا کیا جو ناظرین کو بہت پسند آیا اور اسی کے ساتھ وہ تاریخی فلموں کے لئے پروڈیوسروں اور ڈائرکٹروں کی پہلی پسند بن گئے۔ سال 1954میں ریلیز ہوئی فلم ‘ناگن’ کی کامیابی کے بعد وہ شائقین کے پسندیدہ اداکار بن گئے ۔ اس فلم کے نغمے ‘من ڈولے میرا تن ڈولے، میرا دل یہ پکارے آجا” آج بھی سامعین کے درمیان کافی مقبول ہیں۔سال 1956 پردیپ کمار کے فلمی کیریئر کا سب سے اہم سال ثابت ہوا۔ اس سال ان کی دس فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں ”شری فرہاد، جاگتے رہو، درگیش نندنی، بندھن، راج ناتھ اور ہیر جیسی فلمیں شامل ہے۔
اس کے بعد پردیپ کمار نے ایک جھلک (1957)، عدالت (1958)، آرتی (1962)، چترلیكھا (1964)، بھيگي رات (1965)، رات اور دن، بہو بیگم (1967) جیسی کئی فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھا کر سامعین کو مسحور کردیا۔
اداکاری میں یکسانیت سے بچنے اور خود کو کریکٹر ایکٹر کے طور پر بھی قائم کرنے کے لئے انہوں نے مختلف کردار ادا کئے۔
اس کے بعد پردیپ کمار نے محبوب کی مہندی (1971)، سمجھوتہ (1973)، دو انجانے (1976)، دھرم وير (1977)، كھٹاميٹھا (1978)،کرانتی (1981)، رضیہ سلطان (1983)، دنیا (1984)، میرادھرم (1986)، وارث (1988) جیسی کئی سپر ہٹ فلموں کے ذریعےناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
پردیپ کمار کی اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے بنگالی اور ہندی فلموں کے درمیان اپنے فن کے ذریعے ایک مضبوط تعلق قائم کیا۔ ان کی فلمیں آج بھی پرانے ہندوستانی سنیما، تاریخی رومانوی کہانیوں اور 1950 و 1960 کی دہائی کے فلمی انداز کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
پردیپ کمار صرف اداکار ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے فلم سازی اور ہدایت کاری کے شعبوں میں بھی کام کیا۔ ان کے نام کے ساتھ بطور فلم ساز کئی فلمیں وابستہ ہیں۔ 1950 کی دہائی میں انہوں نے فلمی کاروبار کے اس پہلو میں دلچسپی لی اور بعض فلموں کی تیاری میں حصہ لیا۔
1966 میں ریلیز ہونے والی فلم دو دلوں کی داستان میں انہوں نے اداکاری کے ساتھ فلم سازی اور شریک ہدایت کاری کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ ان کی فلمی خدمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فلمی صنعت کو صرف ایک اداکار کی حیثیت سے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ اس کے دوسرے شعبوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔پردیپ کمار ان فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی شخصیت اور اداکاری کے ذریعے ایک مخصوص فلمی پہچان بنائی۔ ان کا نام بالخصوص انارکلی، ناگن اور تاج محل جیسی فلموں کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ مسلسل محنت، اپنے فن سے لگاؤ اور مختلف زبانوں کی فلموں میں کام کرنے کی صلاحیت کسی فنکار کو دیرپا شناخت عطا کر سکتی ہے۔
تقریباً چار دہائی تک اپنی بے مثال اداکاری سے ناظرین کے دلوںمیں خاص شناخت بنانے والے پردیپ کمار 27 اکتوبر 2001 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔




