آئی آئی ٹی مدراس کا دماغی تحقیقاتی مرکز انسانی دماغ کی 3ڈی میپنگ کرے گا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ چنئی میں واقع انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) مدراس میں قائم سدھا گوپال کرشنن دماغی تحقیقاتی مرکز جدید ترین دماغی تصویربندی کی تکنیک کے ذریعے انسانی دماغ کی اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل 3ڈی تصاویر تیار کر رہا ہے اور اس منصوبے کا مقصد 100 انسانی دماغوں کی 3ڈی میپنگ کرکے ان کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہے۔
مسٹر مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ‘من کی بات’ میں کہا کہ چنئی میں قائم سدھا گوپال کرشنن دماغی مرکز انسانی دماغ کو سمجھنے کی سمت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرکز نے دماغی تصویرکشی کا ایک جدید ترین تکنیکی پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جس کے ذریعے انسانی دماغ کی اعلیٰ معیار کی ڈیجیٹل 3ڈی تصاویر تیار کی جا رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد 100 انسانی دماغوں کی 3ڈی میپنگ کرکے ان کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں پرم شکتی سپر کمپیوٹر کا استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا مشن ہے۔ اس کی تیاری میں صنعت، حکومت، آئی آئی ٹی کے سابق طلبہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ لوگوں نے اہم تعاون دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائنس میں نمایاں پیش رفت کے باوجود انسانی دماغ اب بھی سائنس دانوں کے لیے ایک بڑی پہیلی بنا ہوا ہے۔ الزائمر اور ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کے علاج میں اب بھی بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے میں دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو گہرائی سے سمجھنے سے مستقبل میں نئی تحقیق اور علاج کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 100 انسانی دماغوں سے متعلق اعداد و شمار مستقبل میں مختلف شعبوں میں تحقیق کے لیے اوپن سورس کے طور پر دستیاب کرانے کا منصوبہ ہے۔
وزیر اعظم نے اعضا عطیہ کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کے نرمداپورم کی شوانی کی مثال دی۔ انہوں نے بتایا کہ شوانی سڑک حادثے کا شکار ہو گئی تھیں۔ اس مشکل صورت حال میں ان کے اہل خانہ نے ان کے اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اہل خانہ کا یہ فیصلہ معاشرے اور ملک کے لیے ترغیب کا باعث ہے۔ اعضا عطیہ کرنے سے ضرورت مند لوگوں کو نئی زندگی ملنے کے ساتھ سائنسی تحقیق کو بھی فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے جذبے کے تحت اٹھایا گیا ایسا قدم بہت سے خاندانوں کی زندگی میں امید اور خوشیاں لا سکتا ہے۔
انہوں نے چنئی کے دورے کے دوران نوجوانوں سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئی آئی ٹی مدراس میں انہوں نے کئی ایسے اسٹارٹ اپ دیکھے، جو ڈیپ ٹیک کے شعبے میں نئے حل تیار کر رہے ہیں۔ ان میں سونے کے معیار کی جانچ کرنے والی تکنیک پر کام کرنے والا ایک اسٹارٹ اپ بھی شامل ہے، جس سے سونے کی خریداری میں ہونے والی دھوکہ دہی روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ نوجوانوں کی ایک دوسری ٹیم ایسا پلیٹ فارم تیار کر رہی ہے، جس کے ذریعے بینک فراڈ کے ذریعے نکالی گئی رقم کی تیزی سے وصولی میں مدد مل سکے گی۔ وہیں، ایک ٹیم سروائیکل کینسر کی جانچ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے امکانات پر کام کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ آئی آئی ٹی مدراس کے انکیوبیشن نظام سے مدد حاصل کرنے والا ایک اسٹارٹ اپ سمندر کے اوپر اڑنے والی الیکٹرک گاڑی تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اور اسٹارٹ اپ ڈرون اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے تیزی سے چارج ہونے والی بیٹریاں تیار کر رہا ہے۔




