ناسک میں ڈینگی جیسی بیماری سے 17 سالہ نوجوان کی موت
علاقے میں دوسری ہلاکت، احتیاطی اقدامات کا مطالبہ
ناسک، ۔ ناسک کے سڈکواورامبڑ علاقوں میں ڈینگو جیسی علامات والی بیماری کے بڑھتے معاملات کے درمیان امبڑلنک روڈ کے رہائشی 17 سالہ ونود مڈئیا کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔ اس واقعے کے
بعد مقامی شہریوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق علاقے میں اس نوعیت کی بیماری سے یہ دوسری موت ہے۔ شہریوں نے ناسک میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا ہے کہ مچھروں کی افزائش روکنے، صفائی کے انتظامات بہتر بنانے اور بیماری سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تاہم نوجوان کی موت ڈینگی ہی سے ہونے کی حتمی طبی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔اطلاعات کے مطابق ونود مڈئیا بنیادی طور پر جھارکھنڈ کا رہنے والا تھا اور فی الحال ناسک کے امبڑ لنک روڈ پر گنیش سویٹ کے پیچھے واقع علاقے میں مقیم تھا۔ وہ امبڑ صنعتی علاقے کی ایک نجی کمپنی میں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ چند روز قبل اسے بخار ہوا، جس کی علامات ڈینگی سے ملتی جلتی تھیں۔ طبیعت خراب ہونے پر اسے ابتدائی علاج کے لیے کامٹواڑے کے اوما اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کا علاج شروع کیا گیا۔ تاہم صحت میں متوقع بہتری نہ آنے اور حالت مزید بگڑنے کے بعد اس کے بھائی نے اسے مزید علاج کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کردیا۔سرکاری اسپتال میں علاج جاری رہنے کے دوران ونود کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے سلسلے میں ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کا اندراج کیا گیا ہے۔ پولیس موت کی اصل وجہ اور اس سے متعلق دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کررہی ہے۔ متوفی کے خاندان میں والد، ایک بہن اور ایک بھائی شامل ہیں۔ موت کے بعد ونود کی میت اس کے آبائی علاقے جھارکھنڈ لے جائی گئی، جہاں اس کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔اس واقعے کے بعد سڈکو اور امبڑ کے رہائشیوں نے مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کے لیے میونسپل انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ دوسری ہلاکت کی اطلاع کے بعد علاقے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ ونود کی موت کی قطعی وجہ پولیس تحقیقات اور متعلقہ طبی معلومات سے واضح ہونا باقی ہے




