کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا سپریم کورٹ کی طرف مارچ، عرضداشت داخل کریں گے

نئی دہلی،چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے اور ایس آئی آر کے خلاف کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما آج راہل گاندھی کی قیادت میں سپریم کورٹ کا رخ کر رہے ہیں۔ کانگریس نے یادداشت پیش کرنے کے لیے چیف جسٹس سے وقت مانگا تھا، لیکن چیف جسٹس نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے عرضداشت داخل کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کانگریس صدر اور انہوں نے انتخابات کی شفافیت کے معاملے پر چیف جسٹس کو خط لکھا تھا۔ چیف جسٹس نے عرضداشت دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کے رہنما آج سپریم کورٹ جا کر عرضداشت دائر کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج صرف ایک دن تک محدود نہیں رہے گا۔
انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، مختلف سماجی طبقوں اور ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے مارچ میں شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحفظ کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا شخص اس احتجاج میں شرکت کر سکتا ہے۔ یہ لڑائی سڑکوں کی نہیں بلکہ لوگوں کی سوچ کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اپوزیشن کے سوالات سے بچ رہی ہے۔ اپوزیشن صرف یہ ثبوت مانگ رہی ہے کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہیں استعفیٰ دے کر راستے سے ہٹ جانا چاہیے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’’میری بہن کہتی ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکلنے کا راستہ طے کرنا چاہیے، لیکن میں نے ان سے کہا کہ یہ تانڈو ہے، شیو کا رقص ہے اور اس کے لیے کسی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ آج ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں، کل کچھ اور ہوگا۔ ہمیں مسلسل ڈٹے رہنا ہے۔ یہ شیو کی بارات ہے اور آج اس میں کوئی بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘‘
کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف ایک بڑی تحریک ہے۔ اپوزیشن قانونی لڑائی بھی لڑے گی اور اس کی جدوجہد چیف الیکشن کمشنر اور مرکزی حکومت کے خلاف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے۔ شہری قانون کے تحت کسی بھی وقت ان حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ عدالت نے انتظامی سطح پر یادداشت پیش کرنے کے بجائے عدالتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے عرضداشت دائر کرنے کا مشورہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ عرضداشت پر جلد سماعت کی جائے گی۔

Related Articles