ایودھیا مندر میں چوری کی تحقیقات پر جے رام رمیش کے سوالات
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایودھیا کے رام مندر میں نذرانوں کی مبینہ چوری کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ مندر کے انتظامات کی نگرانی کے ذمہ دار افراد کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا، جبکہ مبینہ طور پر چوری کے 105 واقعات سی سی ٹی وی میں قید ہوئے ہیں۔مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ‘چندا چوری، آستھا دھوکا کے عنوان سے ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت اس معاملے میں غیر معمولی نرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جبکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور مرکزی تفتیشی بیورو جیسی مرکزی ایجنسیوں کا اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف جارحانہ انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے پوچھا، مودی حکومت ایودھیا کے رام مندر سے نذرانے چوری کرنے والوں کے تئیں اتنی نرمی کیوں برت رہی ہے؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے مبینہ چوری کے 105 واقعات سامنے آئے ہیں اور سوال کیا کہ تحقیقات ان لوگوں تک کیوں نہیں پہنچیں، جو مندر کے انتظامات کے ذمہ دار ہونے کے باوجود مبینہ طور پر ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کے شبہ میں ہیں۔مسٹر رمیش نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان معاملات میں صرف 79.85 لاکھ روپے کی مبینہ برآمدگی ہی کیوں ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، ”چوری کے 105 واقعات کے مقابلے میں صرف 79.85 لاکھ روپے برآمد ہونے کے بعد معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟
کانگریس رہنما نے خاص طور پر چمپت رائے اور انیل مشرا کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ انہیں ملزم کے بجائے گواہ کیوں بنایا گیا ہے۔
انہوں نے پوچھا،چمپت رائے اور انیل مشرا ملزم کیوں نہیں ہیں اور وہ گواہ کیسے ہیں؟
رمیش نے چوری کا پتہ چلنے اور ایف آئی آر درج ہونے کے درمیان مبینہ 21 دن کے وقفے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، چوری شدہ رقم کی ویڈیو 4 جون کو چمپت رائے تک پہنچی، 5 جون کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی، جبکہ ایف آئی آر 25 جون کو درج کی گئی۔انہوں نے پوچھا، 21 دن کی اس تاخیر کی مکمل حقیقت ملک کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی؟
کانگریس رہنما نے کہا کہ مبینہ چوری کے پیمانے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اعلیٰ سطح پر ملی بھگت، لاپروائی یا تحفظ کے بغیر 105 واقعات جاری رہ سکتے تھے۔ انہوں نے پوچھا، 105 واقعات کے باوجود صرف 8 ملزم کیسے ہوسکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ تحقیقات صرف ان لوگوں کی شناخت تک محدود نہیں ہونی چاہئیں جو مبینہ طور پر انفرادی چوری میں ملوث تھے، بلکہ ان لوگوں کی جواب دہی بھی طے ہونی چاہیے جن کی نگرانی میں مبینہ طور پر یہ واقعات پیش آتے رہے۔رمیش نے سوال کیا، کیا تحقیقات کا مقصد صرف چھوٹے پیمانے پر نذرانے چرانے والوں کو پکڑنا تھا یا ان لوگوں کی جواب دہی بھی طے کرنا تھا جن کی سرپرستی اور نگرانی میں یہ سب مبینہ طور پر جاری رہا؟مسٹررمیش نے دہرایا کہ کانگریس نے ابتدا ہی سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ، غیر جانب دار اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، نذرانے رام کے نام پر دیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 105 واقعات کے باوجود تحقیقات مبینہ طور پر چوری کی گئی مجموعی رقم تک کا تعین نہیں کر پائی ہیں تو تحقیقات کو جلد ختم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حکومت واقعی مبینہ چوری کے ذمہ دار تمام افراد کی شناخت کرنا چاہتی ہے یا تحقیقات کے زیادہ ذمہ داری رکھنے والے لوگوںتک پہنچنے سے پہلے ہی معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔مسٹر رمیش نے پوچھا،وزیر اعظم، ملک کے لوگوں کے عقیدے سے جڑے اس معاملے پر آپ کی خاموشی کب ٹوٹے گی؟نہوں نے خبردار کیا کہ قتدار کا تکبر خود تباہ کن ہوتا ہے اور مبینہ طور پر نذرانوں کی چوری کے معاملے میں جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کیا۔




