عالمی سیاحتی نقشے پر بھارت کی نئی پیش رفت

ٹی ٹی ڈی آئی 2026 میں بھارت کا 31واں مقام اس بات کا عکاس ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ’’ترقی کے ساتھ ساتھ ورثے کے تحفظ‘‘ کا وژن اب زمینی سطح پر بھی نمایاں ہو رہا ہے

  1. بقلم: جناب گجیندر سنگھ شیخاوت
    کسی ملک میں سیاحت کا فروغ محض اس لیے نہیں ہوتا کہ وہاں خوب صورت پہاڑ، قدیم مندر یا دلکش ساحل موجود ہیں۔ کسی سیاح کو سیاحتی مقام تک پہنچنے کے لیے اچھی سڑکوں اور فضائی رابطے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قیام کے لیے مناسب ہوٹل یا ہوم اسٹے کی سہولت بھی دستیاب ہونی چاہیے۔ درست معلومات، تحفظ، صفائی ستھرائی اور اچھا برتاؤ بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ سب سے بڑھ کر، سیاح کو ایسا تجربہ درکار ہوتا ہے جسے وہ زندگی بھر یاد رکھ سکے۔ ورلڈ اکنامک فورم کا ٹریول اینڈ ٹورزم ڈیولپمنٹ انڈیکس انہی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کی 2026 کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے اس سمت میں مضبوط اقدامات کیے ہیں۔بھارت 2014 میں دنیا میں 65ویں مقام پر تھا، جو 2024 میں بڑھ کر 39ویں مقام پر پہنچ گیا اور اب مزید آگے بڑھتے ہوئے 160 معیشتوں میں 31ویں مقام پر آ گیا ہے۔ ہمارا مجموعی اسکور 4.42 ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 4.3 فیصد زیادہ ہے۔ نئے طریقۂ کار کے مطابق دوبارہ مرتب کیے گئے 2019 کے 4.36 کے اسکور کے مقابلے میں بھی یہ 1.4 فیصد کا اضافہ ہے۔ بھارت جنوبی ایشیائی اور کم متوسط آمدنی والے ممالک میں پہلے مقام پر ہے۔ یہ محض درجہ بندی میں بہتری نہیں ہے، بلکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’ترقی کے ساتھ ساتھ ورثہ‘‘ کے وژن کے اصول پر اختیار کی گئی سیاحتی پالیسی کے اثرات کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی ہے۔اس سال کی درجہ بندی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم نکتے کو سمجھنا ضروری ہے۔ 2019 کے انڈیکس میں چار بڑے شعبوں اور 90 اشاریوں کی بنیاد پر جائزہ لیا گیا تھا۔ 2026 میں ممالک کی جانچ 17 ستونوں اور 102 اشاریوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ عوام کے تاثرات پر مبنی اشاریوں کی تعداد بھی 33 سے گھٹ کر 18 رہ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب جائزہ حقیقی اعداد و شمار پر زیادہ انحصار کرتے ہوئے لیا جا رہا ہے۔ ممالک کی تعداد بھی 140 سے کم ہو کر 110 رہ گئی ہے، اس لیے پرانی اور نئی درجہ بندی کا براہِ راست موازنہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم، قابلِ موازنہ بنیاد پر اسکور میں اضافہ واضح طور پر بھارت کی پیش رفت کو ثابت کرتا ہے۔دنیا کے 13 اشاریوں میں بھارت کا شمار سرفہرست دس ممالک میںبھارت دنیا کے 13 اشاریوں میں سرفہرست دس ممالک میں شامل ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کے اوسط قیام کی مدت اور سیاحتی اعداد و شمار بروقت پیش کرنے کے معاملے میں بھارت پہلے مقام پر ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بھارت میں غیر ملکی سیاح اوسطاً تقریباً 17 سے 18 دن قیام کرتے ہیں، جو سیاحت کے دیگر بڑے ممالک کی اوسط مدت سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ ہوائی اڈوں کے رابطے کے معاملے میں بھارت چوتھے مقام پر ہے، جبکہ قیمتوں کے لحاظ سے مسابقت، ہوٹلوں کے کرائے، قوتِ خرید اور بہتر آمدنی والی سیاحتی ملازمتوں کے معاملے میں چھٹے مقام پر ہے۔ سڑکوں کی کثافت کے لحاظ سے بھارت دسویں مقام پر ہے۔ملک بھر میں تعمیر ہونے والی نئی شاہراہیں، بہتر ریلوے خدمات، نئے ہوائی اڈے اور علاقائی پروازیں اب سیاحت کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ اڑان اسکیم کے تحت 687 فضائی راستے 95 ہوائی اڈوں کو آپس میں جوڑ رہے ہیں۔بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کا تنوع ہے۔ سیاحتی وسائل کے لحاظ سے بھارت دنیا میں چوتھے مقام پر ہے۔ قدرتی وسائل کے معاملے میں ہمارا ساتواں، ثقافتی وسائل میں نواں، جبکہ کاروبار، تعلیم اور دیگر غیر تفریحی سفری وسائل کے لحاظ سے آٹھواں مقام ہے۔ بڑے کھیل اسٹیڈیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لحاظ سے بھارت تیسرے مقام پر، جبکہ عالمی شہروں کے معاملے میں پانچویں مقام پر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت محض تعطیلات گزارنے کے لیے ایک ملک نہیں ہے، بلکہ کانفرنسوں، کھیلوں، تعلیم، شادیوں، روحانیت، صحت اور کاروبار سے متعلق سفر کے ایک بڑے مرکز کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔وزیر اعظم مودی کی سوچ واضح ہے۔ اور وہ یہ کہ ورثے کا تحفظ بھی ہو اور اسے مقامی لوگوں کی خوشحالی سے بھی جوڑا جائے۔ اسی سوچ کے تحت سیاحت کی وزارت نے محض سیاحتی مقامات بنانے کے بجائے پورے سیاحتی مقامات کی جامع ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ’سودیش درشن‘ کے تحت 15 موضوعاتی سیاحتی سرکٹس کی بنیاد پر 5,295 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 76 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں سے 75 مکمل ہو چکے ہیں۔ ’سودیش درشن 2.0‘ کے تحت 2,207 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 53 منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ ’پرساد‘ اسکیم کے تحت 54 منصوبے زیارتی مقامات پر صفائی ستھرائی، تحفظ، سہولیات اور روزگار کے مواقع کو بہتر بنا رہے ہیں۔ان کوششوں کے اثرات رپورٹ میں بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اس اشاریے میں بھارت کی درجہ بندی، جس کا تعلق اس بات کو یقینی بنانے سے ہے کہ سیاحوں کی آمد صرف چند مہینوں تک محدود نہ رہے، 80ویں مقام سے بہتر ہو کر 46ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ آبادی کے تناسب سے ہوٹل کے کمروں کی دستیابی کے معاملے میں بھارت 117ویں مقام سے بہتر ہو کر 84ویں مقام پر آ گیا ہے۔ ڈیجیٹل سیاحتی خدمات کے استعمال کے معاملے میں درجہ بندی 106ویں سے بہتر ہو کر 91ویں مقام، سرکاری سیاحتی اخراجات کے معاملے میں 113ویں سے 101ویں مقام، جبکہ سیاحت کے معاشی اثرات سے متعلق درجہ بندی 41ویں سے بہتر ہو کر 31ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کرائے پر دستیاب رہائش کی سہولت میں بھی بہتری آئی ہے۔حال ہی میں عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اعلان کردہ ’ٹورزم ڈیجیٹل اسٹیک‘ کے فعال ہونے کے بعد آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل سیاحتی خدمات سے متعلق درجہ بندی میں مزید بہتری متوقع ہے۔ اسی طرح مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات اور رعایتوں کے نتیجے میں ہوٹل کے کمروں کی بڑھتی ہوئی تعداد آنے والے برسوں میں آبادی کے تناسب سے کمروں کی دستیابی سے متعلق اشاریوں میں بھی لازماً بہتری لائے گی۔ اس کا براہِ راست فائدہ نئے شہروں، دیہات، ہوم اسٹے اور مقامی کاروباروں کو پہنچ رہا ہے۔ڈیجیٹل سہولیات نے اس تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب 172 ممالک کے شہریوں کے لیے ای -ویزا کی سہولت دستیاب ہے۔ تقریباً 78 فیصد ویزے الیکٹرانک طریقے سے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ تقریباً 95 فیصد ای ویزا درخواستوں پر 72 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔ ’انکریڈیبل انڈیا‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، ’ندھی پلس‘ اور کثیر لسانی سیاحتی ہیلپ لائن نے معلومات اور خدمات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی اب سیاحوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہوٹلوں، گائیڈز، ٹور آپریٹروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کو بڑی منڈیوں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔سیاحت کے شعبے میں یہ ترقی معیشت اور روزگار کے میدان میں بھی نمایاں ہے۔ سیاحت کا قومی مجموعی گھریلو پیداوار میں 5.22 فیصد حصہ ہے۔ 24-2023میں اس شعبے نے 8.46 کروڑ روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ 2025 میں گھریلو سیاحتی دوروں کی تعداد 428.55 کروڑ، غیر ملکی سیاحتی دوروں کی تعداد 2.53 کروڑ، جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی زرمبادلہ کی آمدنی 2,76,831 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے گائیڈز، ٹیکسی ڈرائیوروں، دستکاروں، بُنکروں، لوک فن کاروں، ڈھابہ مالکان، چھوٹے ہوٹل مالکان اور ہوم اسٹے چلانے والے لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی وابستہ ہے۔ اس لیے سیاحت کی ترقی کے ثمرات براہِ راست عام شہری تک پہنچتے ہیں۔ اگر سیاحت کو طویل مدت تک کامیاب اور پائیدار بنائے رکھنا ہے تو قدرتی ماحول اور مقامی برادریوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحت میں پائیداری کے لحاظ سے بھارت کا ساتواں مقام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارا مقصد محض سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کرنا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سیاح زیادہ دن قیام کریں، مقامی مصنوعات خریدیں، آس پاس کے نئے مقامات کی سیر کریں اور خوش گوار تجربات کے ساتھ واپس جائیں۔ ’پریَٹن متر ‘، ’پریَٹن دیدی‘، دیہی ہوم اسٹے، صفائی ستھرائی، کچرے کا بہتر انتظام اور مقامی برادریوں کی شمولیت جیسی پہل اسی نقطۂ نظر کا حصہ ہیں۔ تاہم، یہ کامیابی اطمینان کا باعث بن کر ہماری مزید پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہمیں معیاری ہوٹلوں، تربیت یافتہ گائیڈز، آخری منزل تک آسان آمدورفت اور سیاحتی مقامات کے بہتر انتظام پر مزید کام کرنا ہوگا۔ سفر کو مزید آسان اور ہر سیاح کی ضرورت کے مطابق بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھانا ہوگا۔ کم معروف سیاحتی مقامات کو بھی اس انداز میں ترقی دینے کی ضرورت ہے کہ سیاح انہیں آسانی سے تلاش کر سکیں، وہاں اپنی بکنگ کرا سکیں اور محفوظ ماحول میں سیاحت کا لطف اٹھا سکیں۔ ٹی ٹی ڈی آئی میں 31واں مقام منزل نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں سیاحت بھارت کی مالا مال اور متحرک تہذیب کو دنیا سے جوڑنے اور ملک کے ہر خطے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی ایک بڑی قوت بن رہی ہے۔(مصنف حکومت ہند میں ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر ہیں۔)

Related Articles