لال باغ کے راجا کی 22 گھنٹے طویل جلوس کے بعد گرگاؤں چوپاٹی پر سمندر میں وداعی
ممبئی ، ممبئی کے مشہور لال باغ کے راجا کی گنیش مورتی کو ہفتہ کی صبح 22 گھنٹے طویل شوبھا یاترا کے بعد گرگاؤں چوپاٹی پر عرب سمندر میں باقاعدہ طور پر وسرجن کردیا گیا۔ گنپتی بپا موریا اگلے برس تو جلدی آنا کے نعروں، ڈھول تاشوں کی گونج، گلال کی بارش اور نم آنکھوں کے درمیان گنیش بھکتوں نے اپنے محبوب بپا کو الوداع کہا۔ گرگاؤں چوپاٹی پر کولی برادری کے افراد سمیت بڑی تعداد میں گنیش بھکت موجود تھے۔لال باغ کے راجا گنیش اتسو منڈل میں نصب گنیش مورتی جمعہ کی دوپہر تقریباً 1 بجے منڈپ سے وسرجن کے لیے شوبھا یاترا کی صورت میں روانہ ہوئی تھی۔ تقریباً 22 گھنٹے بعد ہفتہ کی صبح یہ جلوس گرگاؤں چوپاٹی پہنچا، جہاں نعروں اور پھولوں کی بارش کے درمیان وسرجن کی کارروائی شروع کی گئی۔ مورتی کے منڈپ سے باہر آتے ہی بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں نے پھول برسا کر لال باغ کے راجا کا استقبال کیا۔ بپا کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پورے وسرجن راستے پر عقیدت مندوں کی زبردست بھیڑ جمع رہی۔شوبھا یاترا لال باغ، بھارت ماتا، کری روڈ، بائیکلہ، ناگپاڑہ، ڈونگری دو ٹانکی اور اوپیرا ہاؤس سے گزرتے ہوئے گرگاؤں چوپاٹی کی جانب بڑھی۔ ہفتہ کی صبح راجا کے گرگاؤں چوپاٹی پہنچنے کے بعد وہاں بھی بھکتوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ وسرجن سے پہلے چوپاٹی پر روایتی مہاآرتی کی گئی۔ اس کے بعد روایت کے مطابق مورتی پر چڑھائے گئے سونے اور چاندی کے قیمتی زیورات کو محفوظ طریقے سے اتار لیا گیا۔




