مدھیہ پردیش میں اب تک 31.1 انچ بارش، 83.5 فیصد کوٹہ مکمل
ریوا-شہڈول میں 11 ستمبر تک تیز بارش کے امکانات
بھوپال، مدھیہ پردیش میں مانسون اب تک معمول کی بارش کے اعداد و شمار سے تھوڑا پیچھے ہے، لیکن سیزن کی 83.5 فیصد بارش کا کوٹہ پورا ہو چکا ہے۔ ریاست میں اب تک اوسطاً 790.8 ملی میٹر یعنی 31.1 انچ بارش ہوئی ہے۔ بھوپال سمیت 12 اضلاع میں بارش معمول سے زیادہ درج کی گئی ہے، جبکہ 31 اضلاع ابھی بھی اوسط سے پیچھے چل رہے ہیں۔معمول سے زیادہ بارش والے اضلاع میں بھوپال، راج گڑھ، شیوپوری، نیواڑی، میہر، بھنڈ، شیوپور، سنگرولی، سیدھی، ستنا، مئوگنج اور امریا شامل ہیں۔ وہیں امریا، انوپ پور، آگر-مالوہ، ٹیکم گڑھ، چھترپور، پنا، گوالیار، گنا، دتیا، کھرگون اور برہان پور میں اب تک 90 فیصد سے زیادہ بارش ہو چکی ہے۔مانسون کے دوران ریاست کے مشرقی حصے میں بارش کی کارکردگی بہتر رہی ہے، جبکہ اندور-اجین ڈویژن والے مغربی حصے میں سب سے کم پانی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ضلع وار اعداد و شمار میں مئوگنج 53 انچ بارش کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اس کے برعکس علی راج پور میں صرف 13.6 انچ بارش درج کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مرکز بھوپال کے مطابق اگلے چند دنوں میں بارش کا اثر بنیادی طور پر ریاست کے مشرقی حصے میں رہے گا۔ 11 ستمبر تک ریوا اور شہڈول ڈویژن میں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ باقی اضلاع میں ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 12 ستمبر کے بعد ایک نیا سسٹم سرگرم ہو سکتا ہے۔ اس کے اثر سے ایک بار پھر ریاست کے بیشتر حصوں میں بارش کا دور شروع ہونے کے امکانات ہیں۔مدھیہ پردیش میں اس مانسونی سیزن کے دوران اب تک 790.8 ملی میٹر (31.1 انچ) بارش درج کی گئی ہے۔ اس مدت کی معمول کی بارش 840.6 ملی میٹر یعنی 33.1 انچ مانی جاتی ہے۔ اس طرح ریاست میں معمول کے مقابلے میں تقریباً 2 انچ کم بارش ہوئی ہے۔ مجموعی اعداد و شمار 6 فیصد کم ہیں۔ علاقائی اعتبار سے دیکھیں تو مشرقی مدھیہ پردیش میں معمول سے 1 فیصد زیادہ، جبکہ مغربی حصے میں 12 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔
مشرقی حصے کے جبل پور، ریوا، ساگر اور شہڈول ڈویژن میں مجموعی طور پر بارش کا تناسب 1 فیصد تک کم ہے۔ وہیں بالاگھاٹ، چھندواڑہ، ڈنڈوری، دموہ، جبل پور، کٹنی، نرسنگھ پور، پانڈھرنا، ریوا، ساگر اور سیونی میں معمول سے 3 سے 23 فیصد تک کم بارش درج کی گئی ہے۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مشرقی حصے کی صورتِ حال میں تیزی سے بہتری آئی ہے۔ مسلسل بارش کے باعث کئی اضلاع میں سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہوئی، جس کا اثر بارش کے اعداد و شمار پر بھی پڑا۔ پیر کے روز تک مشرقی حصے میں معمول سے 1 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی جانے لگی تھی۔مغربی مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع اب بھی معمول کی بارش سے کافی پیچھے ہیں۔ علی راج پور، اشوک نگر، بیتول، دیواس، دھار، ہردہ، اندور، جھابوا، کھنڈوا، مندسور، مرینا، نرمداپورم، نیمچ، بڑوانی، رائسین، رتلام، سیہور، شاجاپور، اجین اور ودیشا میں معمول سے 7 سے 54 فیصد تک کم بارش ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے آنے والے دنوں میں ہونے والی بارش مغربی اضلاع کے لیے ازحد اہم رہے گی، جبکہ مشرقی حصے میں بارش کے اعداد و شمار پہلے ہی معمول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔




