- .مطیع الرحمن عزیز
سیا
ست میں بعض اوقات ایک شخص کا پارٹی چھوڑنا محض تنظیمی تبدیلی نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی سیاسی جماعت کے طریقہ کار، ترجیحات اور حکمتِ عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی لگا دیتا ہے۔ سید عاصم وقار کا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) سے الگ ہونے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تازہ سیاسی اطلاعات کے مطابق AIMIM کے قومی ترجمان اور اتر پردیش میں پارٹی کا نمایاں چہرہ رہے سید عاصم وقار کے کانگریس میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ متعدد ذرائع نے اس پیش رفت کو AIMIM اور بالخصوص اتر پردیش میں اسد الدین اویسی کی سیاسی حکمتِ عملی کے لیے ایک اہم دھچکا قرار دیا ہے۔ لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ عاصم وقار نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو تقریباً ایک دہائی تک پارٹی کا قومی ترجمان رہا، آخر اسے اس مقام تک پہنچنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ وہ سیاسی راستہ تبدیل کرے؟عاصم وقار کی سیاسی شناخت محض ایک عام کارکن کی نہیں رہی۔ وہ AIMIM کے قومی ترجمان کی حیثیت سے ٹیلی ویڑن مباحثوں، سیاسی بیانات اور عوامی گفتگو میں پارٹی کا دفاع کرتے رہے۔ ان کا اندازِ گفتگو تیز، پُراعتماد اور سیاسی معاملات پر گرفت رکھنے والا سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ممکنہ علیحدگی کو محض ایک فرد کا پارٹی تبدیل کرنا قرار دینا شاید اس معاملے کی پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔ ستمبر 2026 کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں اور یہ پیش رفت اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل سامنے آ رہی ہے۔ جون 2026 میں بھی ان کی AIMIM کے اندرونی معاملات سے ناراضی اور پارٹی کی بعض سرگرمیوں سے فاصلے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بہرائچ میں اسد الدین اویسی کی ریلی سے عاصم وقار کی غیر حاضری اور
اتر پردیش میں بعض اہم فیصلوں میں ان کی رائے کو نظرانداز کیے جانے کی باتیں سیاسی حلقوں میں زیر بحث آئی تھیں۔ یوں دیکھا جائے تو موجودہ پیش رفت اچانک آسمان سے نہیں گری؛ اس کے پس منظر میں کچھ عرصے سے سیاسی اختلافات اور فاصلے کی خبریں موجود تھیں۔عاصم وقار اور AIMIM کے درمیان اختلافات کو سمجھنے کے لیے مغربی بنگال کا سیاسی واقعہ بھی اہم ہے۔ دسمبر 2025 میں AIMIM کے قومی ترجمان کی حیثیت سے عاصم وقار نے معطل TMC رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کے ساتھ کسی سیاسی اتحاد کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سیاسی وابستگیوں پر سخت سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے عوامی سطح پر دستیاب معلومات کی بنیاد پر کبیر کو بی جے پی رہنما ش ±ویندو ادھیکاری کے سیاسی حلقے سے قریب قرار دیا تھا۔ قومی سطح پر AIMIM نے ہمایوں کبیر کے ساتھ اتحاد کو سیاسی طور پر مشتبہ اور نظریاتی طور پر ناموزوں قرار دیا، لیکن چند ہی دن بعد مغربی بنگال کی AIMIM یونٹ نے کبیر کے ساتھ بعض نشستوں پر ممکنہ انتخابی مفاہمت میں دلچسپی ظاہر کردی۔کیا کسی سیاسی جماعت میں مرکزی قیادت اور ریاستی تنظیم کے سیاسی فیصلوں کے درمیان واضح ہم آہنگی موجود ہے؟ اور اگر ایک قومی ترجمان کسی موقف کا کھل کر دفاع کرے اور چند ہی دن بعد اسی جماعت کی ریاستی قیادت اس کے برعکس راستہ اختیار کرے تو کارکنوں اور عوام کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی سیاسی جماعت کا مسلمانوں کے مسائل اٹھانا بذاتِ خود فرقہ پرستی نہیں۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں ہر جماعت کو اپنے شہریوں، اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور مختلف سماجی گروہوں کے مسائل اٹھانے کا حق ہے۔ لیکن جب سیاسی گفتگو کا محور مستقل طور پر مذہبی شناخت، اکثریت و اقلیت کے باہمی خوف، جذباتی تقسیم اور انتخابی قطب بندی بن جائے تو جمہوری سیاست کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا ہوتا ہے۔ یہ سوال صرف AIMIM سے متعلق نہیں؛ ہر اس سیاسی جماعت سے پوچھا جانا چاہیے جو مذہب یا شناخت کو انتخابی سیاست کا بنیادی ہتھیار بناتی ہے۔ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ ووٹر کو صرف مذہبی شناخت کے اعتبار سے نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، صحت، امن، قانون، معیشت، بنیادی سہولتوں اور آئینی حقوق کی بنیاد پر بھی فیصلہ کرنے کا موقع ملے۔ اگر سیاست کا مقصد عوام کو مستقل طور پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا بن جائے تو پھر جمہوریت کمزور اور سیاسی تقسیم مضبوط ہوتی ہے۔
AIMIM پر ایک طویل عرصے سے یہ سیاسی الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ بعض ریاستوں میں اس کی انتخابی موجودگی مخالف جماعتوں کے ووٹ تقسیم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ الزام سیاسی بحث کا حصہ ضرور ہے، لیکن اسے ہر انتخاب میں قطعی حقیقت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انتخابات میں ووٹ تقسیم ہونے کے متعدد عوامل ہوتے ہیں: امیدوار، مقامی مسائل، ذات برادری، مذہبی شناخت، حکومتی کارکردگی، اپوزیشن کا اتحاد، امیدوار کی مقبولیت اور ووٹر کی ترجیحات۔اس لیے کسی بھی جماعت کو محض “ووٹ کٹوا” کہنا سیاسی طور پر آسان ضرور ہے، مگر مکمل تجزیہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ:کیا کوئی جماعت جہاں الیکشن لڑتی ہے وہاں اپنے ووٹروں کو کوئی مستقل سیاسی، سماجی اور ترقیاتی متبادل فراہم کرتی ہے یا نہیں؟ یہ سوال AIMIM سمیت ہر جماعت سے پوچھا جانا چاہیے۔
اسد الدین اویسی ہندوستان کی سیاست میں ایک نمایاں اور بااثر سیاسی شخصیت ہیں۔ ان کی جماعت نے بعض علاقوں میں اپنی انتخابی بنیاد بنائی ہے اور مسلمانوں کے سیاسی مسائل کو جارحانہ انداز میں اٹھایا ہے۔لیکن ان کی سیاست کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت پر زیادہ زور دینے والی سیاست بالآخر انتخابی پولرائزیشن کو بڑھا سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اویسی کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ AIMIM مسلمانوں سمیت تمام محروم طبقات کی سیاسی نمائندگی کی بات کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی سنجیدہ مضمون میں یہ فرق برقرار رہنا چاہیے کہ سیاسی الزام اور ثابت شدہ حقیقت ایک چیز نہیں۔ کسی جماعت کو فرقہ پرست قرار دینا ایک سیاسی رائے ہو سکتی ہے، مگر اسے ثابت کرنے کے لیے پالیسی، انتخابی منشور، بیانات، سیاسی اتحاد اور عملی اقدامات کا مکمل تجزیہ ضروری ہے۔
اگر عاصم وقار واقعی AIMIM چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوتے ہیں تو ان کے سیاسی سفر کا یہ ایک اہم موڑ ہوگا۔ کیونکہ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ایسے شخص نے، جو برسوں تک AIMIM کے دفاع میں سامنے آتا رہا، اب ایک ایسی جماعت کا راستہ کیوں اختیار کیا جو قومی سطح پر سیکولر اور آئینی سیاست کی دعویدار رہی ہے؟ اس کا جواب عاصم وقار ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کے سیاسی سفر کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں کسی شخص کا ایک جماعت سے دوسری جماعت میں جانا محض وفاداری کی تبدیلی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سیاسی تجربات، داخلی اختلافات اور مستقبل کی سیاسی ترجیحات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ عاصم وقار کی ممکنہ رخصتی کو AIMIM کے لیے سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ترجمان صرف ٹیلی ویڑن پر بحث کرنے والا شخص نہیں ہوتا۔ وہ جماعت کی زبان، چہرہ اور دفاعی دیوار بھی ہوتا ہے۔ عاصم وقار برسوں تک AIMIM کا یہی کردار ادا کرتے رہے۔ لہٰذا اگر وہ جماعت سے الگ ہو جاتے ہیں تو اس کا اثر صرف ایک نشست یا ایک انتخاب تک محدود نہیں رہ سکتا۔ پارٹی کے کارکنوں، حامیوں اور مستقبل کے امیدواروں کے درمیان بھی یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر ایک نمایاں ترجمان اور سینئر چہرہ پارٹی سے مطمئن نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یقیناً کسی ایک شخص کی رخصتی سے کسی جماعت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ مگر ایک مضبوط سیاسی تنظیم وہی ہوتی ہے جو اپنے اندر اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، اختلافی آواز کو سننے اور کارکنوں کو فیصلہ سازی میں جگہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ہندوستان کی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ یہاں کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی شخصیت ہمیشہ کے لیے ناقابلِ شکست نہیں۔ آج کوئی جماعت مقبول ہے، کل دوسری جماعت اقتدار میں آ سکتی ہے۔ آج کوئی ترجمان ایک نظریے کا دفاع کر رہا ہے، کل وہ دوسرے سیاسی پلیٹ فارم پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ لیکن اس پورے عمل میں عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سی سیاست انہیں جوڑتی ہے اور کون سی سیاست انہیں تقسیم کرتی ہے۔ ہندوستان کے عوام کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو مسجد اور مندر کے درمیان دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے اسکول اور اسپتال تعمیر کرنے کی بات کرے؛ جو مذہبی جذبات کو بھڑکانے کے بجائے نوجوانوں کے مستقبل پر گفتگو کرے؛ جو خوف پیدا کرنے کے بجائے اعتماد پیدا کرے۔ اگر عاصم وقار کا سیاسی سفر واقعی AIMIM سے کانگریس کی طرف جاتا ہے تو اس کا سب سے اہم پہلو یہی ہوگا کہ ایک تجربہ کار سیاسی ترجمان نے اپنے لیے ایک نیا سیاسی راستہ منتخب کیا۔ اس فیصلے کو اندھی حمایت یا اندھی مخالفت کے بجائے سیاسی تجربے، جمہوری اقدار اور عوامی مفاد کے پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔
آخر میں سوال اسد الدین اویسی، عاصم وقار، کانگریس یا کسی ایک سیاسی جماعت سے زیادہ ہندوستانی سیاست سے ہے: کیا سیاست اقتدار کے لیے ہے یا عوام کے لیے؟ کیا مذہب ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ رہے گا یا مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کا وسیلہ بنے گا؟ کیا سیاسی جماعتیں اختلافِ رائے کو برداشت کریں گی یا ہر اختلاف کو بغاوت سمجھا جائے گا؟ اور کیا ہندوستانی مسلمان اپنی سیاسی قوت کو محض مذہبی شناخت کے گرد محدود رکھیں گے یا تعلیم، روزگار، قانون، معیشت، سماجی انصاف اور قومی ترقی جیسے وسیع تر مسائل کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بنائیں گے؟ عاصم وقار کا AIMIM سے ممکنہ اخراج ان سوالات کو ایک بار پھر زندہ کر رہا ہے۔ یہ کسی ایک شخص کی جیت یا کسی ایک جماعت کی شکست کا معاملہ نہیں۔ یہ اس سوال کا معاملہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مستقبل کی سمت کیا ہوگی۔