ہماچل پردیش میں مانسون ایک بار پھر سرگرم ہو، 150 سڑکیں بند
منڈی ضلع سب سے زیادہ متاثر 78 سڑکیں بند،کانگڑا اور سرمور میں شدید بارش کی وارننگ جاری
شملہ،ہماچل پردیش میں مانسون ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے۔ ریاست کے کئی حصوں میں منگل کی رات سے بدھ کی صبح تک بڑے پیمانے پر بارش ہوئی۔ کئی مقامات پر دریا اور ندی نالے طغیانی پر ہیں اور زمی کے تودے کھسکنے کے باعث سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق بدھ کی صبح تک ریاست میں 150 سڑکیں بند، 374 بجلی کے ٹرانسفارمر خراب اور 40 پینے کے پانی کی اسکیمیں متاثر تھیں۔ منڈی ضلع سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں 78 سڑکیں بند ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 186.6 ملی میٹر بارش بلاسپور کے نینا دیوی میں ریکارڈ کی گئی۔ بلاسپور کے ہی ملرون میں 140.0 ملی میٹر، سولن کے کسولی میں 102.0 ملی میٹر، بلاسپور کے گھاگھس میں 99.0 ملی میٹر، کانگڑا کے نگرکوٹا سوریان میں 98.2 ملی میٹر، بلاسپور کے برہمانی میں 90.4 ملی میٹر، منڈی کے سلاپڑ میں 81.2 ملی میٹر اور بلاسپور کے کاہو میں 77.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ سندر نگر، کانگڑا اور مراری دیوی میں گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
بارش کا اثر سڑک ٹریفک، بجلی اور پینے کے پانی کی فراہمی پر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ منڈی میں 78 سڑکیں بند ہیں۔ شملہ ضلع میں 30، کلو میں 12، چمبا میں آٹھ، کانگڑا میں سات، سرمور میں چھ، اونا اور سولن میں چار، چار جبکہ لاہول اسپیتی میں ایک سڑک بند ہے۔بجلی کی فراہمی بھی کئی علاقوں میں متاثر ہوئی ہے۔ شملہ ضلع کے رام پور اور چوپال میں 84، کلو کے آنی اور نرمنڈ میں 81، چمبا میں 35، کنور کے نچّار میں 34 اور سرمور کے ناہن میں 10 بجلی کے ٹرانسفارمر بند ہیں۔ پینے کے پانی کی اسکیموں میں حمیر پور کی 23 اور شملہ ضلع کی 17 اسکیمیں متاثر ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج کانگڑا، منڈی اور سرمور میں شدید بارش کا یلو الرٹ ہے۔ 3 ستمبر کو کانگڑا اور سرمور میں شدید بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ 4 سے 8 ستمبر کے درمیان کسی طرح کی موسمی وارننگ جاری نہیں کی گئی ہے، تاہم ان دنوں بھی ریاست میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 4 اور 5 ستمبر کو کئی مقامات پر بارش ہو سکتی ہے، جبکہ 6 سے 8 ستمبر کے دوران کچھ مقامات پر بارش کا امکان برقرار رہے گا۔ یعنی وارننگ نہیں ہے، لیکن موسم کے مکمل طور پر صاف رہنے کی امید بھی نہیں ہے۔بارش کا اثر کالکا-شملہ ہیریٹیج ریلوے لائن پر بھی پڑا ہے۔ سولن ضلع میں ایک پل کے نیچے سے مٹی دھنسنے کے بعد اس ریلوے روٹ پر سروس گزشتہ تین دن سے بند ہے۔ ریلوے نے 13 ستمبر تک اس روٹ پر ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی ہے۔ بدھ کو بھی اس روٹ پر ٹرینیں نہیں چلیں۔
سرمور ضلع کے ناہن ترقیاتی بلاک کی برما پاپڑی پنچایت میں منگل کی شام رون ندی میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے سے ایک بزرگ شخص کئی گھنٹوں تک تیز بہاؤ کے درمیان پھنسا رہا۔ زمینی راستے سے اس تک پہنچنا مشکل ہونے کے بعد فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کی مدد لی گئی۔ کافی جدوجہد کے بعد بزرگ کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ مقامی سطح پر اس کی شناخت بنواری داس کے طور پر بتائی گئی ہے۔
ریسکیو آپریشن کے دوران بزرگ کو بچانے کے لیے دریا میں اترا ایک اور شخص بھی تیز بہاؤ میں پھنس گیا۔ اسے بچانے کے لیے بھی انتظامیہ کی ریسکیو ٹیم اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کو تعینات کیا گیا۔ موقع پر ایس ڈی ایم ناہن راجیو سنکھیان سمیت انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موجود رہیں۔ تیز بہاؤ اور کم روشنی کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔
شملہ ضلع کے رام پور سب ڈویژن کے 15/20 علاقے میں بھی مسلسل بارش سے حالات خراب ہوئے ہیں۔ گانوی کھڈ پر بنایا گیا عارضی پل تیز بہاؤ میں بہہ گیا۔ اس سے گانوی، کوٹ اور کیاؤ پنچایتوں کا سڑک رابطہ متاثر ہوا ہے۔ جگھوری پنچایت میں بھی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ کوٹ کھڈ میں پانی کی سطح بڑھنے سے سرو گاؤں کو جوڑنے والا پیدل پل بھی بہہ گیا ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو دریا، ندی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔کلو ضلع کے آنی سب ڈویژن میں بھی شدید بارش کے بعد پالی گڑھ-کوٹ کے نزدیک اور فیڈل نالے کی سڑک کے قریب کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔ اس سے نیشنل ہائی وے-305 بند ہو گیا۔ سڑک کی بحالی کے لیے مشینری موقع پر بھیجی گئی ہے۔ ہائی وے بند ہونے سے لوگوں کو آمد و رفت میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سولن ضلع کے ارکی علاقے میں بھی مسلسل بارش کے دوران پتھر گرنے کے واقعے کے بعد ایک سڑک پر ٹریفک عارضی طور پر روک دی گئی۔ انتظامیہ نے لوگوں سے متاثرہ حصے میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متبادل راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ پتھر گرنے کے خدشے کے پیش نظر سڑک کو مکمل طور پر محفوظ قرار دیے جانے کے بعد ہی ٹریفک بحال کی جائے گی۔




