کیپٹن سمت کو ’اشوک چکر‘ دینے کا مطالبہ، دیوڑا نے وزیر اعظم کو خط لکھا
نئی دہلی، شیوسینا کے راجیہ سبھا رکن اور محکمہ جاتی قانون سازی کمیٹی کے چیئرمین ملند دیوڑا نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 174 مسافروں کی جان بچانے والے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن سمت مچھر کو امن کے دور میں بہادری کے اعلیٰ ترین اعزاز ’اشوک چکر‘ سے نوازنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کیپٹن مچھر کی غیر معمولی بہادری کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں دیوڑا نے کہا کہ ممبئی میں پیدا ہونے والے کیپٹن سمت مچھر نے دوران پرواز پیدا ہونے والے غیر متوقع اور سنگین بحران کے وقت جس حاضر دماغی اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے کہیں بڑھ کر فرض شناسی کی مثال ہے۔ پرواز کے دوران شریک پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کے درمیان کیپٹن مچھر پر کاک پٹ میں حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔
دیوڑا نے خط میں کہا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن مچھر نے حوصلہ نہیں ہارا اور کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب رہے۔ اس کے نتیجے میں طیارے میں سوار مسافروں اور عملے کے ارکان کو صورتحال میں مداخلت کرنے کا موقع ملا اور ایک بڑے فضائی حادثے کو ٹالنے میں مدد ملی۔ کیپٹن مچھر نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی۔دیوڑا نے کہا کہ کیپٹن مچھر کی بہادری کی ہندوستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی ستائش ہوئی ہے۔ انہیں باضابطہ طور پر اعزاز دینے سے ملک کے نوجوانوں کو یہ پیغام جائے گا کہ بہادری کسی ایک پیشے یا میدان جنگ تک محدود نہیں ہے۔ کوئی بھی شہری دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال کر جرأت اور فرض شناسی کی مثال قائم کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ممبئی سے تعلق رکھنے والے شخص کی حیثیت سے انہیں کیپٹن مچھر کی بہادری پر خاص فخر ہے۔قابل ذکر ہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی بین الاقوامی پرواز کے دوران کاک پٹ میں اچانک پرتشدد صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران ہندوستانی نژاد چیف پائلٹ کیپٹن سمت مچھر پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا اور وہ شدید زخمی ہوگئے۔ اسی دوران شریک پائلٹ کی جانب سے مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن مچھر نے حاضر دماغی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مسافروں اور عملے کے ارکان کو مداخلت کا موقع ملا اور طیارے کو بحفاظت اتارا جا سکا۔ اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام 174 مسافروں اور عملے کے ارکان کی جان بچ گئی۔




