ریکھا گپتا نے براڑی میں اے ٹی ایس کا افتتاح کیا

یکم اکتوبر سے پی یو سی سے متعلق نفاذ کا نظام شروع ہوگا

نئی دہلی، ۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت ہفتہ کو براڑی میں آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشن (اے ٹی ایس) کا افتتاح کیا۔ اس اے ٹی ایس میں سالانہ 90,000 گاڑیوں کی فٹنس جانچ کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے پی یو سی مراکز کے نظام کو بھی زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنایا جائے گا۔ دہلی میں یکم اکتوبر سے درست آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی) سے متعلق نفاذکے نظام لاگو کیا جائے گا۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری اور دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پنکج کمار سنگھ موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ براڑی اے ٹی ایس میں سالانہ 40000 ہیوی موٹر گاڑیوں اور 60000 لائٹ موٹر گاڑیوں کی جانچ کی جاسکے گی۔ پانچ لین والا یہ جدید اے ٹی ایس مرکز گاڑیوں کی فٹنس جانچ کو سائنسی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ یہاں گاڑیوں کی فٹنس کی جانچ مکمل طور پر خودکار عمل کے ذریعے کی جائے گی۔ اس میں بریک کی کارکردگی، سسپنشن کی کارکردگی، ہیڈلائٹ کی حالت، سائیڈ سلپ، کاربن اخراج کی سطح اور گاڑی کے نچلے حصے کی جانچ سمیت مختلف معیارات کو پرکھا جائے گا۔ اس سے قبل 3 ستمبر کو تہکھنڈ میں سالانہ تقریباً 72,000 گاڑیوں کی فٹنس جانچ کی گنجائش رکھنے والے آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشن کا افتتاح کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کے حل کے لیے صرف سردیوں میں کیے جانے والے عارضی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ حکومت نے آلودگی پر قابو پانے کو پورے سال جاری رہنے والے مسلسل عمل کے طور پر لیا ہے اور ٹرانسپورٹ، سبز علاقوں میں توسیع، الیکٹرک موبلٹی،فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے انتظام اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی سمیت مختلف شعبوں میں بیک وقت کام کیا جا رہا ہے۔ آلودگی کسی ایک حد تک محدود نہیں رہتی اور دہلی-این سی آر کی فضائی معیار کئی علاقوں سے متاثر ہوتا ہے، لیکن دہلی میں آلودگی کم کرنے کے لیے ضروری ٹھوس اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسی سوچ کے تحت گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے پی یو سی مراکز کے نظام کو بھی زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد بنایا جائے گا۔ دہلی میں یکم اکتوبر سے درست آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ سے متعلق نفاذی نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پی یو سی مراکز کی نگرانی اور نظام کو ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مضبوط بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد صرف آلودگی کے مسئلے پر بات کرنا نہیں بلکہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس، طویل مدتی اور مؤثر اقدامات کرنا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نقل و حمل کا نظام ماحول دوست، محفوظ اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو۔ گاڑیوں کی فٹنس جانچ کو مضبوط بنانا اسی سمت میں ایک اہم پہل ہے، کیونکہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی مقررہ فٹنس اور اخراج کے معیارات کی پابندی یقینی بنانا صاف ہوا اور محفوظ ٹرانسپورٹ نظام کے لیے ضروری ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ سنگھ نے کہا کہ اے ٹی ایس کا آغاز دہلی کے گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے نظام کو جدید اور شفاف بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ نند نگری، تہکھنڈ اور براڑی میں اے ٹی ایس شروع ہونے سے دہلی میں خودکار گاڑیوں کی جانچ کی مجموعی گنجائش سالانہ 2.5 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کی ہوگئی ہے۔ اس سے کمرشل گاڑیوں کو گھر کے قریب جدید فٹنس جانچ کی سہولت ملے گی۔براڑی اے ٹی ایس کو ریکارڈ ایک سال میں تیار کیا گیا ہے اور تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کی سالانہ گنجائش کے ساتھ یہ ملک کے زیادہ گنجائش والے خود کار جانچ مراکز میں شامل ہے۔

 

Related Articles